’پرویز مشرف ریفرنڈم کرائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے امیر اور چھ رکنی اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اپنی عوام میں مقبولیت کے تعین کے لیے ریفرنڈم کروائیں لیکن یہ ریفرنڈم ان کے پہلے ریفرنڈم جیسا نہ ہو جو بالکل فراڈ تھا۔ قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کے مہمان خانہ میں پچیس فروری سے نظر بند ہیں جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔ ان کی سب جیل میں صحافیوں کو پولیس نے اندر جانے سے نہیں روکا۔ پریس کانفرنس میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین مارچ کو مکمل پہیہ جام اور ہڑتال ہوگی جس کا اعلان مختلف سیاسی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم قومی مجلس مشاورت نے کیا تھا اور ایک دن پہلے اے آر ڈی کے زیر اہتمام گول میز کانفرنس نے اس کی حمایت کی ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ اس روز پوری دنیا میں یورپی اخباروں میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا جائےگا اور ترکی، فلسطین، مصر، بنگلہ دیش، مراکش، قطر، سری لنکا، ملائشیا، تیونس اور لبنان سمیت مختلف ملکوں سے اسلامی تنظیموں نے اس احتجاج کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ قاضی حسین احمد نے اپنا موقف دہرایا کہ چودہ فروری کو لاہور میں ہونے والی توڑ پھوڑ میں کوئی سیاسی اور مذہبی جماعت شامل نہیں تھی بلکہ یہ انٹیلی جنس ایجنیسوں کے کارندوں کی کارستانی تھی تاکہ اس تحریک پر الزام لگایا جاسکے۔ انہوں نے حکومت سے گرفتار کیے جانے والے مذہبی رہنماؤں جیسے انجینئر سلیم اللہ کو رہا کرنے اور مفتی سرفراز نعیمی اوراحمد علی قصوری اور ان کے ساتھیوں پر سے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ قاضی حسین احمد نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ملک میں لوگوں کو فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہے لیکن کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سامرہ میں دو اماموں کے روضوں پر دھماکے بھی فرقہ وارانہ تقسیم کے لیے کرائے گئےہیں۔ انہوں نے کہا کہ سامرہ صدیوں سے سنی آبادی کا علاقہ ہے جہاں ان روضوں کو پہلے کبھی نقصان نہیں پہنچا کیونکہ دونوں امام سنی اور شعیہ دونوں فرقوں کے لیے محترم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان علماء نے اس سازش کو پہچان لیا ہے۔
قاضی حسین احمد نے باجوڑ میں بدھ کو ہونے والی پاکستان فوج کی کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ صدر بش کے بت کو نذرانہ دینے کے لیے حکومت نے مسلمان جوانوں کا خون بہایا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ تین مارچ کی ہڑتال ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے ہے جبکہ مجلس عمل نے امریکی صدر بش کی آمد پر ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے چار مارچ کو یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ہے۔ اس دن کالے جھنڈے لہرائے جائیں گے اورلوگ بازؤوں پر کالی پٹیاں باندھیں گے لیکن ہڑتال نہیں کی جائے گی۔ قاضی حسین احمد کی پریس کانفرنس کا دعوت نامہ ملنے پر پنجاب حکومت کے شعبہ تعلقات عامہ نے صحافیوں کو (بی بی سی ) سمیت ٹیلیفون کرکے کہا کہ وہ اس پریس کانفرنس میں نہ جائیں کیونکہ قاضی حسین احمد نظر بند ہیں اور پولیس صحافیوں کو اندر نہیں جانے دے گی۔ بعض صحافیوں کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ اگر وہ منصورہ گئے تو نتائج کی ذمہ داری ان پر ہوگی تاہم صحافی منصورہ پہنچے اور پولیس نے انہیں نہیں روکا۔ جماعت اسلامی کے ایک عہدیدار نے پہلے مہمان خانے کے لان میں قاضی حسین احمد کا بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ صحافیوں کو دی گئی دھمکیوں کے پیش نطر قاضی حسین احمد پریس کانفرنس نہیں کریں گے۔ صحافیوں کے اصرار پر قاصی حسین احمدنے انہیں مہمان خانے کے کمرہ کے اندر بلایا اور بات چیت کی۔ قاضی حسین احمدنے کہا کہ انہیں نطر بند کرکے اس جگہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے لیکن وہ خود پر کوئی پابندی نہیں لگاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جو ان سے ملنے آئےگا وہ اس سےبات کریں گے۔ انہوں کہا کہ آج پابندی انہوں نے نہیں بلکہ صحافیوں نے توڑی ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ان کی نظر بندی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور قومی اسمبلی کے سپیکر کو بھی درخواست دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ’وردی نہ اتاری تو تحریک چلے گی‘ 11 August, 2004 | پاکستان مشرف نے سودے بازی کی ہے: قاضی25 March, 2005 | پاکستان ’قاضی حسین کی گاڑی نذرآتش‘31 May, 2005 | پاکستان ’ایم کیوایم ملوث ہے‘: قاضی01 June, 2005 | پاکستان قاضی اور فضل الرحمٰن اختلافات06 June, 2005 | پاکستان قاضی حسین نظر بند19 February, 2006 | پاکستان قاضی حسین احمد پھر نظر بند 24 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||