قاضی حسین نظر بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل کی طرف سے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف اتوار کو اسلام آباد میں بڑے احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت نے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کیئے ہیں اور شہر کے تمام اہم مقامات پر نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد کو نظر بند کر دیا ہے۔اسلام آباد میں جماعت کے سیکریٹری اطلاعات شاہد شمسی نے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی نظر بندی کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ قاضی حسین احمد کو لاہور میں نظر بندکیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے اطلاع دی ہے کہ رات گئے شہر کے تمام اہم مقامات اور شاہراوں پر نیم فوجی دستوں، فرنٹیر کانسٹیبلری اور پیرا ملٹی فورس کے جوانوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ہفتے کو رات گئے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ حکومت کسی صورت بھی دارالحکومت میں جلسے جلوس کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں اتوار کو جلسے اور جلوسوں پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق منصورہ میں جماعت اسلامی کے ہیڈ کواٹر کو پولیس نے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور یہیں قاضی حسین احمد نظر بند ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ڈنمارک سے پاکستانی سفیر کو پہلے ہی واپس بلا لیا ہے اور اسلام آباد میں ڈنمارک کا سفارت خانہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم عام تاثر یہی ہے کہ متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعت اسلامی کارٹونوں کی اشاعت پر ہونے والے ہنگاموں کو حکومت کی خلاف ایک تحریک میں بدلنا چاہتی ہے۔ | اسی بارے میں کراچی:کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند17 February, 2006 | پاکستان کراچی: احتجاج تشدد میں تبدیل17 February, 2006 | پاکستان اسلام آباد: ڈنمارک کا سفارتخانہ بند17 February, 2006 | پاکستان کارٹون ہنگامے، چنیوٹ میں 4 زخمی18 February, 2006 | پاکستان ملتان: مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج18 February, 2006 | پاکستان کارٹونوں کے خلاف خواتین ریلی18 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||