قاضی اور فضل الرحمٰن اختلافات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل، کے سربراہ قاضی حسین احمد اور سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) کے اجلاس میں شرکت کے سوال پر اختلافات بڑھتے جارہے ہیں۔ دریں اثناء متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بارے میں قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے مجلس کا سربراہی اجلاس سات جون کو ہوگا۔ چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد میں پہلی بار اس وقت اختلافات سامنے آئے تھے جب مولانا سمیع الحق نے اتحاد کے مرکزی رہنماؤں پر تنقید کی تھی۔اس وقت اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن متحد تھے۔ اب دونوں رہنماؤں میں پیدا ہونے والے اختلافات کھل کر سامنے آچکے ہیں اور آئے دن ان کے بیانات سے بظاہر لگتا ہے کہ ان کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان اختلافات کا چرچہ اس وقت ہوا جب گزشتہ ہفتے قاضی حسین احمد نے اتحاد کے سربراہی اجلاس میں ایک خط پیش کیا۔ انہوں نے خط میں واضح طور پر یہ دھمکی دی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے بلائے گئے’متنازعہ‘ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اتحاد کا کوئی بھی نمائندہ شریک ہوا تو وہ اتحاد کی سربراہی چھوڑ دیں گے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس آٹھ جون کو طلب کر رکھا ہے جس میں مولانا فضل الرحمٰن کو بطور قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف اور اکرم درانی کو بحیثیت وزیراعلیٰ صوبہ سرحد مدعو کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی کونسل کا قیام صدر جنرل پرویز مشرف کے متعارف کردہ آئینی اصلاحات کے نتیجے میں آیا تھا اور ان اصلاحات کو آئین کا حصہ بنانے کے لیے ایک سمجھوتے کے تحت متحدہ مجلس عمل نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت ووٹ دینے کے بدلے صدر جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر سن دو ہزار چار میں وردی اتارنی تھی۔ مقررہ مدت میں جب صدر نے فوجی عہدہ نہیں چھوڑا تو متحدہ مجلس عمل نے صدر کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کیا اور سلامتی کونسل کے اب تک ہونے والے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے لاہور میں اتحاد کا سربراہی اجلاس قاضی حسین احمد نے اپنے گھر بلایا تھا لیکن اس میں شریک نہیں ہوئے اور کراچی میں اپنی جماعت کے قتل ہونے والے سرکردہ رہنما کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اجلاس میں اکثریت رائے سے ہونا چاہیے اور جس انداز میں خط لکھ کر قاضی حسین احمد احتجاج کر رہے ہیں یا موقف پیش کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔ انہوں نے قاضی حسین احمد سے خط واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے مطالبے کو اتوار کے روز کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران قاضی حسین احمد نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ قاضی حسین احمد کے ایسے بیان کے بعد پیر کے روز مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قاضی حسین احمد بڑے رہنما ہیں لیکن ان کا رویہ اور انداز ٹھیک نہیں ہے۔ دونوں رہنماؤں میں اختلافات کی خلیج بڑھنے کے بارے میں کچھ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ اس سے حزب اختلاف کمزور ہوگی جس کا فائدہ صدر جنرل پرویز مشرف کو پہنچے گا۔ واضح رہے کہ حزب اختلاف کے ایک اور اتحاد ’اے آر ڈی‘ کی دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں میں بھی احتلافات پیدا ہوگئے تھے جو اب ان کے بقول ختم ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||