پیپلزپارٹی پنجاب میں تبدیلیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان کے روایتی سیاسی اور بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے شاہ محمود قریشی کو پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر مقرر کردیا گیا ہے جو تقریبا تیس برس بعد پارٹی کے پہلے صوبائی صدر ہیں جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ سنیچر کے دن پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن بے نظیر بھٹو نے پنجاب کے صدر قاسم ضیاء کی جگہ رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی کو پارٹی کا صوبائی صدر مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاسم ضیاء پنجاب اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی قائد رہیں گے اور مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے پرانے کارکن غلام عباس کو رانا آفتاب کی جگہ جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے نئے صوبائی صدر شاہ محمود قریشی کا تعلق ملتان سے ہے۔ ان کے والد سجاد قریشی جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا دور میں پنجاب کے گورنر رہ چکے ہیں۔ شاہ محمود نے انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخابات سے اپنی سیاسی زندگی کی ابتدا کی تھی اور ملتان سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ وزیراعلی نواز شریف کی کابینہ میں وزیر خزانہ اور غلام حیدر وائیں کی صوبائی کابینہ میں منصوبہ بندی اور ترقیات کے وزیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انیس سو ترانوے کے عام انتخابات سے پہلے شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد بے نظیر بھٹو کی دوسری وزارت عظمی کے دور میں وفاقی وزیر زراعت کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ سنہ دو ہزار ایک کے مقامی انتخابات میں وہ ملتان کے ضلعی ناظم منتخب ہوئے تھے لیکن سنہ دو ہزار دو میں صدارتی ریفرنڈم کے موقع پر جنرل پرویز مشرف کی حمایت نہ کرنے پر اختیارات سے محروم کردیے گئے اور بعد میں مستعفی ہوکر عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
پیپلز پارٹی پنجاب میں قیادت کی تبدیلی اور شاہ محمود قریشی کی تقرری ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب سنہ دو ہزار سات میں عام انتخابات متوقع ہیں اور خود ساختہ جلاوطن رہنما بے نظیر بھٹو اور صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے درمیان مفاہمت کی قیاس آرائیاں گردش کررہی ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے پہلی بار پنجاب میں جنوبی اضلاع اور سرائیکی علاقہ سے تعلق رکھنے والے کسی پارٹی رکن کو پنجاب کی صدارت پر نامزد کیا ہے۔ اب تک وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان جیسے قاسم ضیاء، مشتاق اعوان، فخر زمان اور جہانگیر بدر اس عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی سے پہلے انیس سو ستر کی دہائی میں بہاولنگر سے افضل وٹو پارٹی کے صوبائی صدر اور ملتان سے ناصر رضوی سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کو جنوبی پنجاب کے اضلاع میں نسبتا زیادہ حمایت حاصل ہے۔ اس علاقے سے صوبائی صدر کا تقرر اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی یہاں اپنے ووٹ بنک کوزیادہ مؤثر بنانا چاہتی ہے۔ گزشتہ پچیس چھبیس برسوں سے پیپلز پارٹی کے تمام صوبائی صدور متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ شاہ محمود قریشی پنجاب کی زمیندار اشرافیہ اور روایتی سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے پہلے صوبائی صدر ہیں۔ شاہ محمود کے تقرر کو سنہ دو ہزار سات کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی طرف سے پنجاب کی روایتی سیاسی اشرافیہ سے تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچہ میں ایک بڑی تبدیلی کہا جاسکتا ہے۔ ملتان کی مقامی سیاست میں قریشی خاندان اور گیلانی خاندان روایتی حریف ہیں۔ گیلانی خاندان کے یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے نائب صدر ہیں اور کئی برس کی قید سے حال ہی میں رہا ہوئے ہیں۔ اسیری سے رہائی کے بعد یوسف رضا گیلانی کی سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا تھا۔ شاہ محمود قریشی کی صوبائی صدر کی نامزدگی کے بعد یوسف رضا گیلانی کا ابھرتا ہوا ستارہ غروب تو نہیں مگر ماند ضرور پڑسکتا ہے۔ عمومی طور پر پیپلز پارٹی پنجاب سابق صوبائی صدر جہانگیر بدر کے حمایتی اور مخالف کیمپوں میں تقسیم چلی آئی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ جہانگیر بدر نئے صدر سے عملی طور پر کتنا تعاون کرتے ہیں۔ فی الحال پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما شاہ محمود قریشی کے تقرر کو پارٹی میں چہرے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بے نظیر بھٹو کی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان اسمبلی پر راکٹ حملہ؟11 November, 2006 | پاکستان ’قاتل کو معاف نہیں کریں گے‘11 November, 2006 | پاکستان نجی عقوبت خانے: سپریم کورٹ تک 10 November, 2006 | پاکستان مشرف حملہ کیس کی دوبارہ سماعت10 November, 2006 | پاکستان معلومات فراہم کرنے کی آخری مہلت10 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||