BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 November, 2006, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معلومات فراہم کرنے کی آخری مہلت

لاپتہ
ملک میں درجنوں افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں یا پولیس کی تحویل ہیں
سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے تین ہفتے کی حتمی مہلت دی ہے۔

لاپتہ پاکستانیوں کے معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ وزارتِ داخلہ اور قانون نافد کرنے والے اداروں سے معلومات حاصل کر کے یکم دسمبر تک عدالت میں گمشدہ افراد کے بارے میں تفصیلات پیش کریں۔

اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری، جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو متنبہ کیا کہ تین ہفتے کی مہلت کو آخری تصور کیا جائے۔ چیف جسٹس نےاس موقع پر عدالت میں موجود نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کے بریگیڈیئر چیمہ سے کہا کہ اگر یکم دسمبر کو عدالت میں تفصیلات پیش نہ کی گئیں تو اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔

 عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو متنبہ کیا کہ تین ہفتے کی مہلت کو آخری تصور کیا جائے۔ چیف جسٹس نےاس موقع پر عدالت میں موجود نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کے بریگیڈیئر چیمہ سے کہا کہ اگر یکم دسمبر کو عدالت میں تفصیلات پیش نہ کی گئیں تو اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی

عدالت نے سماعت کے دوران اس موقف کو ناقابلِ قبول قرار دیا کہ حکومت لاپتہ افراد کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ جتنے لوگ گم ہیں حکومت انہیں تلاش کرنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سعید شیخ نے عدالت کو بتایا کہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے اکتالیس لاپتہ افراد کی فہرست تیار کی گئی تھی جن میں سے نو افراد کے بارے میں پتہ لگایا جا چکا ہے جبکہ بقیہ افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے چاروں صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا گیا ہے۔

ناصر سعید شیخ نے یہ بھی بتایا کہ لاپتہ ہونے والے مسعود احمد جنجوعہ کی اہلیہ نے جن سولہ لاپتہ افراد کی فہرست پیش کی ہے ان میں سے بھی دو افراد کے بارے میں پتہ چل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہرست میں شامل عمران شمشیر خان آزاد ہیں جبکہ عمر صدیق کے خلاف مقدمہ درج ہے اور وہ لاہور میں زیرِ حراست ہیں۔

سماعت کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مِسز مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ حکومت صرف عدالت سے وقت حاصل کرنا چاہتی ہے اور انہیں حکومت کی کسی کوشش پر اعتبار نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عدالتِ عظمٰی میں ہونے والی کارروائی سے مطمئن ہیں اور انہیں امید ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے باز پُرس کے بعد ان کے شوہر اور دیگر لاپتہ پاکستانیوں کے بارے میں پتہ چل سکےگا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لاپتہ پاکستانیوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہروں کے بعد اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور حکومت سے اس سارے معاملے کے بارے میں جواب طلبی کی تھی۔

مزید تین لاپتہ
اٹامک انرجی کے عتیق اور دو موٹر مکینک
شاہی قلعہابتداء پنڈی کیس سے
پاکستان میں سیاسی گمشدگیوں کی تاریخ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد