معلومات فراہم کرنے کی آخری مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے تین ہفتے کی حتمی مہلت دی ہے۔ لاپتہ پاکستانیوں کے معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ وزارتِ داخلہ اور قانون نافد کرنے والے اداروں سے معلومات حاصل کر کے یکم دسمبر تک عدالت میں گمشدہ افراد کے بارے میں تفصیلات پیش کریں۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری، جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو متنبہ کیا کہ تین ہفتے کی مہلت کو آخری تصور کیا جائے۔ چیف جسٹس نےاس موقع پر عدالت میں موجود نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کے بریگیڈیئر چیمہ سے کہا کہ اگر یکم دسمبر کو عدالت میں تفصیلات پیش نہ کی گئیں تو اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔ عدالت نے سماعت کے دوران اس موقف کو ناقابلِ قبول قرار دیا کہ حکومت لاپتہ افراد کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ جتنے لوگ گم ہیں حکومت انہیں تلاش کرنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سعید شیخ نے عدالت کو بتایا کہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے اکتالیس لاپتہ افراد کی فہرست تیار کی گئی تھی جن میں سے نو افراد کے بارے میں پتہ لگایا جا چکا ہے جبکہ بقیہ افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے چاروں صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ناصر سعید شیخ نے یہ بھی بتایا کہ لاپتہ ہونے والے مسعود احمد جنجوعہ کی اہلیہ نے جن سولہ لاپتہ افراد کی فہرست پیش کی ہے ان میں سے بھی دو افراد کے بارے میں پتہ چل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہرست میں شامل عمران شمشیر خان آزاد ہیں جبکہ عمر صدیق کے خلاف مقدمہ درج ہے اور وہ لاہور میں زیرِ حراست ہیں۔ سماعت کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مِسز مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ حکومت صرف عدالت سے وقت حاصل کرنا چاہتی ہے اور انہیں حکومت کی کسی کوشش پر اعتبار نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عدالتِ عظمٰی میں ہونے والی کارروائی سے مطمئن ہیں اور انہیں امید ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے باز پُرس کے بعد ان کے شوہر اور دیگر لاپتہ پاکستانیوں کے بارے میں پتہ چل سکےگا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لاپتہ پاکستانیوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہروں کے بعد اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور حکومت سے اس سارے معاملے کے بارے میں جواب طلبی کی تھی۔ |
اسی بارے میں ’شاید ابھی دستک ہو‘Your Photos تاریخ: پاکستان میں سیاسی گمشدگیاں01 July, 2006 | پاکستان دو مزید ’لاپتہ‘ قوم پرست رہنما ظاہر04 November, 2006 | پاکستان دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد09 November, 2006 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومت ناکام‘03 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||