دو مزید ’لاپتہ‘ قوم پرست رہنما ظاہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں دس ماہ سے لاپتہ قوم پرست رہنماؤں کے متعلق پتہ چلا ہے کہ وہ پولیس حراست میں ہیں۔ سندھ میں لاپتہ مزید دوقوم پرست رہنماؤں احمد خان تیونواورذوالفقارخاصخیلی کو ریلوے ٹریک بم سےاڑانے کی کوشش کرنے کےالزام میں گرفتارظاہر کیاگیا ہے۔ دونوں کا کوٹڑی پولیس نےانسداد دہشتگردی کی عدالت سے سات دن کا رمانڈ حاصل کیا ہے۔جئےسندھ متحدہ محاذ کے رہنمااحمد خان تیونواور ذوالفقار خاصخیلی گزشتہ تیرہ ماہ سے لاپتہ تھے، جس کا اظہار ان کے والدین احتجاجی مظاہروں اور پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے اس سال اپریل میں گمشدہ سیاسی کارکنوں کی جاری کی گئی فہرست میں بھی ان دونوں کےنام شامل تھے۔دونوں کاتعلق ضلع دادو کےعلاقے میھڑ سے ہے۔ کوٹڑی تھانےمیں دائر کیے جانے والے مقدمہ میں احمد خان تیونواورذوالفقارخاصخیلی پرالزام عاید کیاگیا ہے کہ وہ رات کو بولھاڑی کےعلاقے میں کراچی کوٹڑی مین ریلوے ٹریک کو بم سےاڑانے کی تیاری کر رہے تھے کہ انہیں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کےمطابق قوم پرست رہنماؤں سے چار کلو کے قریب دھماکہ خیز مادہ ، ڈیٹونٹر، دو ٹی ٹی پسٹل بر آمد کیئے گئے ہیں۔پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس سے قبل انہوں نےدادومیں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن کےایک کھمبے کو بم سے اڑادیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سے پانچ روز قبل بدین پولیس نےجئےسندھ متحدہ محاذ کےدو رہنماؤں نوازخان اور سکندر سومرو کی دس ماہ کے بعدگرفتاری ظاہر کی تھی۔ | اسی بارے میں ملتان: نو بچوں کا والد لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان ’لاپتہ‘ قوم پرستوں کےلیے احتجاج21 July, 2006 | پاکستان کینیڈا:’لاپتہ‘ افراد کے لیئے مظاہرہ17 September, 2006 | پاکستان جئے سندھ کے لاپتہ رہنما ’برآمد‘30 October, 2006 | پاکستان کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ21 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||