BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 November, 2006, 19:00 GMT 00:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو مزید ’لاپتہ‘ قوم پرست رہنما ظاہر

احمد خان تینو
احمد خان تینو گزشتہ کئی ماہ سے لا پتہ تھے
سندھ میں دس ماہ سے لاپتہ قوم پرست رہنماؤں کے متعلق پتہ چلا ہے کہ وہ پولیس حراست میں ہیں۔

سندھ میں لاپتہ مزید دوقوم پرست رہنماؤں احمد خان تیونواورذوالفقارخاصخیلی کو ریلوے ٹریک بم سےاڑانے کی کوشش کرنے کےالزام میں گرفتارظاہر کیاگیا ہے۔

دونوں کا کوٹڑی پولیس نےانسداد دہشتگردی کی عدالت سے سات دن کا رمانڈ حاصل کیا ہے۔جئےسندھ متحدہ محاذ کے رہنمااحمد خان تیونواور ذوالفقار خاصخیلی گزشتہ تیرہ ماہ سے لاپتہ تھے، جس کا اظہار ان کے والدین احتجاجی مظاہروں اور پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے اس سال اپریل میں گمشدہ سیاسی کارکنوں کی جاری کی گئی فہرست میں بھی ان دونوں کےنام شامل تھے۔دونوں کاتعلق ضلع دادو کےعلاقے میھڑ سے ہے۔

کوٹڑی تھانےمیں دائر کیے جانے والے مقدمہ میں احمد خان تیونواورذوالفقارخاصخیلی پرالزام عاید کیاگیا ہے کہ وہ رات کو بولھاڑی کےعلاقے میں کراچی کوٹڑی مین ریلوے ٹریک کو بم سےاڑانے کی تیاری کر رہے تھے کہ انہیں گرفتار کیا گیا۔

پولیس کےمطابق قوم پرست رہنماؤں سے چار کلو کے قریب دھماکہ خیز مادہ ، ڈیٹونٹر، دو ٹی ٹی پسٹل بر آمد کیئے گئے ہیں۔پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس سے قبل انہوں نےدادومیں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن کےایک کھمبے کو بم سے اڑادیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے پانچ روز قبل بدین پولیس نےجئےسندھ متحدہ محاذ کےدو رہنماؤں نوازخان اور سکندر سومرو کی دس ماہ کے بعدگرفتاری ظاہر کی تھی۔

اسی بارے میں
کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ
21 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد