جئے سندھ کے لاپتہ رہنما ’برآمد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دس ماہ سے لاپتہ دو سندھی قوم پرست سیاسی رہنماؤں نواز خان زنئور اور سکندر سومرو کو اچانک پولیس کی تحویل میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ سندھ کے علاقے بدین کی پولیس نے پیر کو دونوں رہنماؤں کی گرفتاری ’ظاہر‘ کی ہے۔ پولیس نے ’تفتیش‘ کے لیئے نواز خان اور سکندر سومرو کا حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے چھ روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جبکہ اس سے قبل بدین کی مقامی عدالت سے بھی ان کا ریمانڈ لیا گیا تھا۔ جئے سندھ متحدہ محاذ کے سیکرٹری جنرل نواز خان زئنور اور ان کے ساتھی سکندر سومرو دس ماہ قبل پراسرار طور ’لاپتہ‘ ہوئے تو ان کے عزیزواقارب نے حکومتی خفیہ اداروں پر ان کے اغوا کا الزام لگایا تھا۔ ان کی گمشدگی کے خلاف سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیئے گئے تھے۔ بدین کے کڈھن تھانے میں درج کیے گئے مقدمے میں نواز خان اور سکندر سومرو پر الزام لگایا گیا ہے کہ دونوں ایک نالے پر تعمیر کیے گئے ’ڈیفنس پل‘ کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس نے دونوں سے پستول اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ نواز خان اور سکندر سومرو کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو موقع پر موجود لوگوں کے مطابق دونوں کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور وہ خوفزدہ دکھائی دے رہے تھے۔ نواز خان نے صحافیوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں دس ماہ
انہوں نے بتایا کہ انہیں خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے گذشتہ روز پولیس کے حوالے کیا جہاں سکندر سومرو پہلے سے موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دس ماہ کے دوران گھر والوں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں کرایا گیا۔ نواز خان نے بتایا کہ خفیہ ادارے کے اہلکار ان سے پارٹی قیادت اور سرگرمیوں کے بارے میں سوالات کرتے تھے۔ انہوں نے خود پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو وہ کبھی کسی تخریبی کاروائی میں ملوث رہے ہیں اور نہ ہی ان کی پارٹی تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے۔ سکندر سومرو کا کہنا تھا کہ انہیں دس ماہ قبل سینٹرل جیل حیدرآباد سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے سے ضمانت پر رہا ہو کر باہر نکلے ہی تھے۔ ’مجھے مختلف مقامات پر رکھا گیا اور پارٹی کے مقاصد کے بارے میں پوچھ گچھ کی جاتی رہی‘۔ سکندر کے مطابق حراست کے دوران نہ صرف ان پر جسمانی تشدد کیا گیا بلکہ نفسیاتی طور پر بھی ڈرایا دھمکایا جاتا رہا۔ نواز خان اور سکندر خان سمیت سندھ سے لاپتہ ہونے والے دوسرے تمام سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کے بارے میں حکومتی ادارے لاعلمی کا اظہار کرتے آرہے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ نواز اور سکندر خوش قسمت ہیں کہ انہیں آخر کار عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے وگرنہ بعض ایسے سیاسی کارکن بھی ہیں جو دو دو سال سے غائب ہیں اور ان کے گھر والوں کو ان کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے کچھ علم نہیں۔ اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ نواز اور سکندر چاہیں تو اپنی غیر قانونی حراست کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’خفیہ اداروں سے ٹکر نہ لینا‘25 October, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیئے کمیشن کا مطالبہ01 October, 2006 | پاکستان ’لاپتہ‘ قوم پرستوں کےلیے احتجاج21 July, 2006 | پاکستان ’وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ‘20 July, 2006 | پاکستان ملتان: نو بچوں کا والد لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان ’انجینیئر عتیق ہمارے پاس نہیں‘07 July, 2006 | پاکستان لاپتہ پاکستانی، براہِ راست ویب کاسٹ03 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||