لاپتہ افراد کے لیئے کمیشن کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے کہا ہے کہ ملک میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق شکایات پر عملدرآمد کے لیئے بین الپارلیمانی نظام تشکیل دیا جائے۔ اسلام آباد میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام دو روزہ ورکشاپ میں پاکستان میں لاپتہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ ورکشاپ کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ لاپتہ افراد سے متعلق شکایات کی فوری، غیر جانبدارانہ اورموثر تحقیقات کی جائیں اور ان افراد کی بازیابی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اس عمل کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن برائےحقوقِ انسانی پاکستان کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ’ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی جبری گمشدگیوں کا ریکارڈ مرتب کرنا انتہائی ضروری ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک کمیشن کو چھ سو سے زائد ایسےگمشدہ افراد کے بارے میں اطلاعات مل چکی ہیں جن کے بارے میں کسی کو کوئی خبر نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک سو سے زائد افراد کے لواحقین سے حقوقِ انسانی کمیشن رابطہ کر چکا ہے جبکہ بقیہ افراد کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کی کوشش جاری ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے یہ بھی بتایا کہ ان گمشدہ افراد سے متعلق معلومات کو نہ صرف کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا بلکہ اسے ایک رپورٹ کی شکل میں مرتب کر کے متعلقہ جج صاحبان کو بھی بھیجا جائے گا تاکہ وہ ان گمشدگیوں کے حوالے سے ازخود نوٹس لے سکیں۔ اس موقع پر چودہ ماہ سے لاپتہ پاکستانی مسعود الرحمان کی اہلیہ آمنہ مسعود کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے شوہر کی گمشدگی کا معاملہ ہر فورم پر اٹھایا ہے لیکن حکومت نے نہ ہی اس سلسلے میں انہیں کوئی تسلی بخش جواب دیا ہے اور نہ ہی ان کے شوہر کی بازیابی کے لیئے کوئی اقدامات کیئے گئے ہیں۔ ورکشاپ کے دیگر مقررین نے اپنی تقاریر میں کہا کہ عدلیہ بھی اس معماملے میں اپنا کردار پوری طرح سے نہیں نبھا رہی ہے مقررین نے مطالبہ کیا کہ عدلیہ انسانی حقوق کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے اور لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے دائر شدہ درخواستوں کی جلد از جلد سماعت کرے۔ مقررین نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو ان کے رشتہ داروں کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کی جائیں اور ان غیر قانونی قیدخانوں کو بند کیا جائے جہاں ان افراد کو رکھا جاتا ہے۔ ورکشاپ میں حکومت پر ان افراد کی شناخت چھپانے کے حوالے سے بھی کڑی تنقید کی گئی جو ان لاپتہ افراد کی گمشدگی کے ذمہ دار ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں وزارتِ دفاع کی جانب سے ایک درخواست کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ ملکی خفیہ ایجنسیوں کے خلاف کارروائی اس کے آپریشنل دائرہ اختیار میں نہیں آتی اور اس لیئے انہیں ان گمشدگیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا مشکل ہے۔ | اسی بارے میں لاپتہ افراد: اسمبلی میں احتجاج، بحث07 September, 2006 | پاکستان کینیڈا:’لاپتہ‘ افراد کے لیئے مظاہرہ17 September, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ قتل انکوائری17 September, 2006 | پاکستان کراچی: گم شدہ صحافی گھر آ گئے 23 September, 2006 | پاکستان ڈی جی آئی ایس آئی کو نوٹس 29 September, 2006 | پاکستان وزیرستان: ازبک کی لاش برآمد01 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||