کینیڈا:’لاپتہ‘ افراد کے لیئے مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈاکےشہر ٹورانٹو میں مختلف بلوچ ،کشمیری اور سندھی تنظیموں کے رہنماؤں نےانسانی حقوق کمیشن آف کینیڈا کےدفتر کے باھر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستانی نژاد کینیڈین مظاہرین نے بلوچستان اور سندھ سے سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کا معمہ حل کرنے کے لیۓاس پرامن احتجاجی مظاہرے کے دوران ان لوگوں کومنظر عام پر لانے کامطالبہ کیا ہے جو نہ تو پولیس کے پاس ہیں اور نہ ہی انہیں عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔ اس مظاہرے کا اہتمام ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ، اور بلوچستان ایکشن کمیٹی اور انٹرنیشنل کشمیر الائنس کے اشتراک سے کیا گیا۔ ورلڈ سندھی انسٹیٹوٹ کی کینیڈا کی ڈائریکٹر حمیرا رحمان نے کہا ہے کہ سندھ اوربلوچستان میں تین ہزار سے زائد افراد اس وقت غائب ہیں۔ بلوچستان سے سینکڑوں لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے اٹھایا گیا ہے۔کئی سیاسی ورکز لاپتہ ہیں اور ان کی تنظیم ان لاپتہ ورکرز کی زندگی کے بارے میں تشویش میں ہے۔ حمیرا رحمان نے سیاسی ورکز کی گمشدگی کو اغوا قرار دیا اور کہا کہ ان ورکرز میں اکثریت کا تعلق سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے ہے ۔حمیرا رحمان نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ان افراد کے خلاف شواہد اور الزامات موجود ہیں تو ان کو سامنے لایا جائے کیونکہ ملک کا قانون کسی کو ریمانڈ کے بغیر حراست میں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ ورلڈ سندھی انسٹیٹوٹ کینیڈا کےآرگنائزر ذوالفقار علی کے بقول لاپتہ افراد میں جمہوری وطن پارٹی، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، جئے سندھ متحدہ محاذ اور جئے سندھ قومی محاذ کے ورکرز بھی شامل ہیں۔انہوں نے نواب اکبر علی بگٹی کے قتل کی پرزور مذمت کی۔ انٹرنیشنل کشمیرالائنس کے نائب صدر ممتاز خان نے کہا کہ ان گمشدہ افراد کی وجہ سےسندھ اور بلوچستان کی صورتحال انتہائی خطر ناک ھو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئینی اور قانونی طریقے سے معاملات چلائے اور ان لاًپتہ افراد کو ان کے ورثا سے جلد از جلد ملایا جائے۔ انسانی حقوق کمیشن آف کینیڈاکے دفتر کے سامنے ان مظاہرین میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعدادبھی شریک ہوئی۔خصوصاً گمشدہ یا زیر حراست افراد کے کینیڈا میں مقیم عزیز واقارب بھی ہاتھوں میں قطبے اٹھائے آنکھوں میں آنسو لیے مظاہروں میں شریک نظر آئے۔ان کتبوں پر گمشدہ افراد کے نام اور ان کی گمشدگی کی تاریخ درج تھی۔ ہاتھوں میں کتبے اور بینر اٹھائے یہ لوگ ان لوگوں کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر رہے تھے جنہیں بقول ان کے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے اور کئی کئی مہینوں اور سالوں سے ان کا پتہ نہیں ہے کہ وہ لوگ کہاں ہیں۔ بلوچستان ایکشن کمیٹی کے رہنما نادر بلوچ نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے قتل سے یہ بات واضع ہو گئی ھے کہ حقوق مانگنے والوں کا پاکستان کی فوجی حکومت کیا حشر کرتی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کی ہے کہ ان لوگوں کی رہائی کے لیئے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو چوبیس گھنٹے سے زیادہ حوالات میں اور چودہ دن سے زیادہ عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں رکھا جا سکتا لیکن یہاں تو ایجنسیاں سالوں سے لوگوں کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور کسی کو پرواہ بھی نہیں ہے۔ اس مظاہرے میں عرب نژاد اور ایران سے تعلق رکھنے والے انسانی خقوق کی تنظیموں کے افراد نے بھی شرکت کی۔ | اسی بارے میں ’وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ‘20 July, 2006 | پاکستان بگٹیوں کی بازیابی کے لیئے پیٹیشن17 July, 2006 | پاکستان ملتان: نو بچوں کا والد لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان پاکستان: سندھ میں ایک صحافی لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان فیصل آباد کا باسط کہاں گیا؟01 July, 2006 | پاکستان لاپتہ بلوچوں کی رہائی کے لیےمظاہرہ24 May, 2006 | پاکستان گمشدہ بلوچوں کا معمہ حل نہ ہو سکا01 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||