ملتان: نو بچوں کا والد لاپتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں ایک با پردہ عورت ہوں لیکن شوہر کے لاپتہ ہو جانے کی وجہ سے گزر اوقات اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیئے مجھے دوسرے لوگوں کے ہاں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنا پڑ رہا ہے‘۔ ملتان شہر کے محلہ لیاقت آباد کی نسرین بی بی اپنے حالات بتا رہی تھیں جن کے شوہر محمد حسین پچھلے چودہ ماہ سے لاپتہ ہیں۔ باون سالہ محمد حسین ملتان کے کینٹ بازار میں سبزی کے ریڑھی لگاتے تھے۔ ان کی اہلیہ کے مطابق چھ مئی سال دو ہزار پانچ کے روز دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار انہیں اپنے ساتھ لے گئے اور تب سے آج تک محمد حسین کا کچھ پتہ نہیں۔ نسرین بی بی کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے شوہر کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ہر جگہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ گمشدگی کا مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی تو پولیس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس سال اکیس فروری کے روز انہوں نے پولیس کو فریق بناتے ہوئے ملتان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں اپنے شوہر کی برآمدگی کے لیئے درخواست دائر کی۔
نسرین بی بی کے وکیل راشد رحمٰنٰ کے مطابق عدالت نے پولیس کو طلب کیا۔ جس پر تھانہ کینٹ کے ایک اہلکار سب انسپکٹر محمد اکرم نے حاضر ہو کر عدالت کو زبانی بتایا کہ محمد حسین ایف آئی یو (فیڈرل انٹیلیجنس یونٹ) کے پاس ہیں۔ اس پر عدالت نے درخواست یہ کہہ کر نمٹا دی کہ لاپتہ شخص پولیس کے پاس نہیں ہے۔ اس پر نسرین بی بی نے مارچ کے مہینے میں صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف سے ایک خط کے ذریعے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیئے درخواست کی۔نسرین بی بی کو ایوان صدر کی طرف سے انیس جون کا تحریر کردہ ایک خط ملا جس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی درخواست پر آئی جی پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کی گئی تھی جو ان (سائلہ) کی اطلاع کے لیئے خط کے ساتھ منسلک کر دی گئی ہے۔ آئی جی نے ایوان صدر کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا کہ ’معاملہ ایف آئی یو سے متعلقہ ہے‘۔ نسرین کے بقول انہوں نے ملتان میں ایف آئی یو کے دفتر سے رابطہ کیا تو وہاں موجود ایک فوجی افسر نے ان سے ہمدردی تو کی لیکن محمد حسین کے بارے میں کچھ بتانے سے معذوری کا اظہار کیا۔ ’ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی یو کے کئی سیل ہیں، پتہ نہیں محمد حسین کس کے پاس ہے‘۔ نسرین بی بی نے مایوس ہو کر اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد افتخار چوہدری کو ایک درخواست کے ذریعے اپیل کر رکھی ہے کہ وہ ایف آئی یو کے ڈائریکٹر جنرل کو طلب کر کے اس کے شوہر بارے میں دریافت کریں۔ محمد حسین کی غیرقانونی حراست پیچھے کارفرما ممکنہ وجہ کے بارے میں نسرین بی بی سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ محمد حسین کی دوسری بیوی ہیں اور ان کی شادی کو صرف تین سال ہوئے ہیں جبکہ محمد حسین کی پہلی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے۔ محمد حسین کے نو بچے ہیں۔ نسرین بی بی کا کہنا تھا کہ انہوں نے سنا ہے کہ انڈیا سے ان کے شوہر کا ایک قریبی رشتہ دار سلیم چھ سات سال قبل کراچی کے علاقے لانڈھی نمبر دو میں رہائش پذیر ان کے دیور رحمت حسین کے ہاں آیا تھا۔ رحمت حسین نے سلیم کی شادی اپنی بھانجی سے کروائی اور بعد میں مبینہ طور پر اپنے بیٹے عمران کے نام پر اس (سلیم) کا پاکستانی شناختی کارڈ بھی بنوا لیا۔ سلیم کے اب دو بچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد حسین کے لاپتہ ہونے سے پہلے سلیم عرف عمران بھی غائب ہو گیا تھا اور اس کا بھی اب تک کچھ پتہ نہیں چلا۔ان کا کہنا ہے کہ سلیم کی شادی اور شناختی کارڈ والے معاملے سے محمد حسین کا کوئی تعلق نہیں ’ کیونکہ وہ سب کچھ کراچی میں ہوا جبکہ ہم یہاں ملتان میں رہتے ہیں‘۔
نسرین کے وکیل راشد رحمنٰ کا کہنا ہے کہ چودہ ماہ گزر جانے کے باوجود محمد حسین کو کسی عدالت میں نہ تو پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی اپنے بیوی بچوں سے ان کی ملاقات کرائی گئی ہے جبکہ اعلیٰ سطح تک یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ انہیں ایف آئی یو نے حراست میں لیا تھا۔ | اسی بارے میں لاپتہ پاکستانی: بی بی سی کی ویب کاسٹ03 July, 2006 | پاکستان لاپتہ پاکستانی، براہِ راست ویب کاسٹ03 July, 2006 | پاکستان لاپتہ پاکستانیوں پر خصوصی پروگرام03 July, 2006 | پاکستان بی این پی کے رہنما چھ روز سے لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومت ناکام‘03 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||