صحافی حیات اللہ قتل انکوائری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرحوم قبائلی صحافی حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے گورنر سرحد کی جانب سے ان کے بھائی کے قتل کے تحقیقات کے لیئے قائم کیئے گئے انکوائری کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس انکوائری پر وہ کس طرح یقین کریں جس میں تفتیش کے دوران نہ تو اس کے ساتھ کسی نے رابطہ کیا اور نہ اس کے خاندان کے کسی اور فرد کے ساتھ ۔ سنیچر کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احسان اللہ نے بتایا کہ گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے حیات اللہ کی ہلاکت کے بعد دو انکوائری کمیشن بنائے تھے اور دونوں نے تحقیقات مکمل کرلی ہیں لیکن افسوس کہ تفتیش کے دوران ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم تو اصل پارٹی ہیں اور ہم ہی نے تو ان تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن عجیب بات ہے کہ کسی نے ہمارے موقف کو سننے کی زحمت ہی گورا نہیں کی گئی‘۔ صحافی حیات اللہ کو گزشتہ دسمبر میں ان کے گھر کے نزدیک سے بعض نامعلوم نقاب پوشوں نے بندوق کی نوک پر اغواء کیا تھا۔ وہ چھ ماہ سے لاپتہ تھے اور بعد میں 16 جون دو ہزار چھ کو قبائلی علاقے میران شاہ میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔ احسان اللہ مسلسل خفیہ ایجنسیوں پر ان کے اغواء اور قتل کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس رضا خان کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا لیکن اس کی انکوائری کا بھی ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت عالیہ کے حکم پر کمیشن نے تیس جولائی سے پہلے پہلے انکوائری مکمل کرنی تھی لیکن تاحال رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔ ’میں نے جسٹس رضا خان سے ملاقات میں ان سے التجا کی تھی کہ کمیشن اس علاقے میں ضرور جائے جہاں پر حیات اللہ کو شہید کیا گیا تھا کیونکہ مرنے سے پہلے انہوں نے وہاں پر آس پاس رہنے والے لوگوں سے بات کی تھی اور ان افراد کی نشاندہی بھی کی تھی جن سے انہیں خطرہ تھا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کمیشن کے اراکین کے تحفظ کی خاطراپنے قبیلے کی جانب سے میران شاہ جانے پر پچیس محافظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن حکام نے یہ کہہ کر جانے سے انکار کیا کہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے حالات ٹھیک نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس رضاخان نے بھی ان کو یقین دلایا تھا کہ کمیشن تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ کی ایک کاپی دے گا لیکن بقول ان کے کمیشن کی جانب سے ابھی تک ان کو کچھ بھی موصول نہیں ہوا ہے۔ ’حکومت جان چھڑانے کی کوشش کررہی ہے، انکوائریاں اس طرح تو نہیں ہوتیں۔ حیات اللہ کے کیس میں صاف نظر آرہا ہے کہ حکومت عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے‘۔ احسان اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز اور وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات محمد علی درانی نے حیات اللہ کے بچوں کے لیئے جو مالی معاونت کا اعلان کیا تھا تاحال اس میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ واضح رہے کہ حیات اللہ نے اس امریکی میزائل کے ٹکڑوں کی تصویر بنائی تھی جس سے مبینہ طورپر القاعدہ کے ایک اہم آپریشنل کمانڈر ابو حمزہ ربیعہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ مذکورہ القاعدہ رہنما کے بارے میں صدر پرویز مشرف نے بین الااقوامی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ وہ اپنے گھر میں بم بناتے ہوئے ہلاک ہوا ہے جبکہ حیات اللہ کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو جاری کی گئی تصویر میں اس بات کو شواہد سے ثابت کیا گیا تھا کہ القاعدہ رہنما امریکی میزائل حملے میں ہلاک ہوا تھا۔ | اسی بارے میں حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان ’صحافی کے قتل کا بدلہ لیں گے‘24 June, 2006 | آس پاس ’اِن کیمرہ‘ تحقیقات قبول نہیں: صحافی28 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||