BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 July, 2006, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان

حیات اللہ
چھ ماہ کی پراسرار گمشدگی کے بعد حیات اللہ کی لاش شمالی وزیرستان سےملی تھی۔
پاکستان کی وزارتِ تعلیم نےشمالی وزیرستان میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والےصحافی حیات اللہ کے چار بچوں کی تعلیم کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے سالانہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کے روز وزارت تعلیم کے ترجمان نےجاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مرحوم صحافی حیات اللہ کے بچوں کے لیئے ڈیڑھ لاکھ کا بجٹ مختص کیا ہے اور ہر سال وزارت تعلیم اس مد میں رقم مختص کرے گی۔

حیات اللہ کے چار بچے ہیں جن میں سے تین ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ایک شیر خوار ہے۔پہلی جماعت سے چوتھی جماعت تک فی بچہ چوالیس ہزار سالانہ دیئے جائیں گے۔

جبکہ شیر خوار بچے کو داخل ہونے تک اٹھارہ ہزار روپے سالانہ ملتے رہیں گےاور داخلے کے بعد انہیں بھی چوالیس ہزار روپے سالانہ ملیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کالج کی سطح تک حکومت حیات اللہ کے بچوں کی تعلیم کا خرچہ برداشت کرے گی اور جیسے جیسے بچے کالج میں داخل ہوں گے تو حکومت سالانہ رقم میں اضافہ کردے گی۔

دریں اثنا صحافیوں کی ایک تنظیم کے سینیئر رہنما سی آر شمسی نے حکومت کی اعلان کردہ امدادی رقم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ سالانہ امداد کی رقم کم از کم پانچ لاکھ تک کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محض تعلیم نہیں بلکہ مقتول صحافی کے اہل خانہ کے دیگر اخراجات بھی ہیں اور حکومت نے ان کی کفالت کا وعدہ کیا تھا۔

واضع رہے کہ صحافی حیات اللہ کوگزشتہ سال دسمبر میں ان کے گھر کے نزدیک سے بعض نامعلوم نقاب پوشوں نے بندوق کی نوک پر اغوا کیا تھا۔وہ چھ ماہ لاپتہ رہے جبکہ جون کے دوسرے ہفتے میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔

مقتول صحافی کے بھائی احسان اللہ مسلسل خفیہ ایجنسیوں پر ان کے اغواء اور قتل کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ تاہم حکومت اس کی سختی سے ترید کرتی رہی ہے۔

حیات اللہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ حیات اللہ نےاس امریکی میزائل کے ٹکڑوں کی تصویر بنائی تھی جس سے مبینہ طورپر القاعدہ کے ایک اہم آپریشنل کمانڈر ابو حمزہ ربیعہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

مذکورہ القاعدہ رہنما کے بارے میں صدر پرویز مشرف نے بین الااقوامی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ وہ اپنے گھر میں بم بناتے ہوئے ہلاک ہوا ہے جبکہ حیات اللہ کی تصویری شواہد سے لگ رہا تھا کہ وہ امریکی میزائل سے ہلاک ہوا تھا۔

صحافی حیات اللہصحافی کی موت
گورنر کی صحافییوں کے وفد سے ملاقات
اسی بارے میں
صحافی حیات اللہ کا قتل
16 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد