’اِن کیمرہ‘ تحقیقات قبول نہیں: صحافی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے صحافیوں، سیاستدانوں، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے واضح کیا ہے کہ قبائلی صحافی حیات اللہ کے قتل کی بند کمرے میں تحقیقات انہیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔ یہ تنبیہ اور مطالبہ بدھ کو پریس کلب میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیرِ اہتمام حیات اللہ کی یاد میں ایک ریفرنس میں جاری کیا گیا۔ ’آزادی صحافت کا گلہ گھونٹنے والے اقدامات اور پاکستان کا مستقبل‘ کے عنوان پر ہونے والی بحث میں مقامی صحافیوں، سیاستدانوں، وکلاء اور حقوق انسانی کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے آئی اے رحمٰن نے اعلان کیا کہ عدالتی کمیشن کی جانب سے ’اِن کیمرہ‘ تحقیقات کی صورت میں وہ اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقات ہائی کورٹ کے جج کی بس کی بات نہیں اور اس کے لیئے سپریم کورٹ کا بڑا بنچ مقرر کیا جائے۔
سینیئر صحافی آئی اے رحمٰن کا کہنا تھا کہ یہ رویہ صرف صحافیوں کے ساتھ روا نہیں رکھا جا رہا بلکہ ہر شعبے میں یہی ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ ان ’پراسرار گمشدگیوں‘ کا ہے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر انتخاب امیر نے کہا کہ گھٹن کے اس ماحول میں آزاد صحافت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بند کمرے میں تحقیقات نے اس عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ریفرینس سے پیپلز پارٹی کے قمر عباس، عوامی نیشنل پارٹی کے نائب صدر حاجی محمد عدیل اور مسلم لیگ (ق) کے ایک رہنما نے بھی خطاب کیا۔ وکلاء کی نمائندگی سینیئر وکیل محمد خورشید نے کی۔ اجلاس کے اختتام پر کئی قرار دادیں بھی منظور کی گئیں جن میں حیات اللہ کے اصل قاتلوں اور قتل کے محرکات کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا۔ |
اسی بارے میں کراچی میں صحافیوں کا احتجاج19 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر ملک گیر یومِ سیاہ19 June, 2006 | پاکستان ’حیات اللہ کو جال میں پھنسایا گیا‘18 June, 2006 | پاکستان صحافی کا قتل، ’عدالتی‘ تحقیقات18 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||