BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 June, 2006, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اِن کیمرہ‘ تحقیقات قبول نہیں: صحافی

مقتول صحافی حیات اللہ
حیات اللہ کی لاش کئی ماہ کی گمشدگی کے بعد ملی
صوبہ سرحد کے صحافیوں، سیاستدانوں، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے واضح کیا ہے کہ قبائلی صحافی حیات اللہ کے قتل کی بند کمرے میں تحقیقات انہیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔

یہ تنبیہ اور مطالبہ بدھ کو پریس کلب میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیرِ اہتمام حیات اللہ کی یاد میں ایک ریفرنس میں جاری کیا گیا۔

’آزادی صحافت کا گلہ گھونٹنے والے اقدامات اور پاکستان کا مستقبل‘ کے عنوان پر ہونے والی بحث میں مقامی صحافیوں، سیاستدانوں، وکلاء اور حقوق انسانی کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے آئی اے رحمٰن نے اعلان کیا کہ عدالتی کمیشن کی جانب سے ’اِن کیمرہ‘ تحقیقات کی صورت میں وہ اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقات ہائی کورٹ کے جج کی بس کی بات نہیں اور اس کے لیئے سپریم کورٹ کا بڑا بنچ مقرر کیا جائے۔

حیات اللہ کی یاد میں
 یہ تحقیقات ہائی کورٹ کے جج کی بس کی بات نہیں اور اس کے لیئے سپریم کورٹ کا بڑا بنچ مقرر کیا جائے
آئی اے رحمٰن

سینیئر صحافی آئی اے رحمٰن کا کہنا تھا کہ یہ رویہ صرف صحافیوں کے ساتھ روا نہیں رکھا جا رہا بلکہ ہر شعبے میں یہی ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ ان ’پراسرار گمشدگیوں‘ کا ہے۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر انتخاب امیر نے کہا کہ گھٹن کے اس ماحول میں آزاد صحافت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بند کمرے میں تحقیقات نے اس عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ریفرینس سے پیپلز پارٹی کے قمر عباس، عوامی نیشنل پارٹی کے نائب صدر حاجی محمد عدیل اور مسلم لیگ (ق) کے ایک رہنما نے بھی خطاب کیا۔ وکلاء کی نمائندگی سینیئر وکیل محمد خورشید نے کی۔

اجلاس کے اختتام پر کئی قرار دادیں بھی منظور کی گئیں جن میں حیات اللہ کے اصل قاتلوں اور قتل کے محرکات کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا۔

صحافی حیات اللہصحافی کی موت
گورنر کی صحافییوں کے وفد سے ملاقات
حیات اللہ کا قتل
پارلیمان کے سامنے صحافیوں کا احتجاج
حیات اللہ’صحافتی آزادی قتل‘
حیات اللہ کے قتل کی شدید مذمت ہوئی ہے
میرے احساسات
حیات اللہ کو مددگار پایا: ہارون رشید
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد