خیر ایجنسی میں تین صحافی رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نے ٹرائیبل یونین آف جرنلٹس کے صدر سمیت تین قبائلی صحافیوں کو رہا کر دیا ہے۔ صحافیوں کی رہائی اخباری نمائندوں اور ذخہ خیل قوم پر مشتمل ایک قبائلی جرگے کے لنڈی کوتل انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد عمل میں لائی گئی۔ رہا ہونے والے صحافی اور ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس خیبر ایجنسی کے صدر خلیل آفریدی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اور انکے دو دوسرے ساتھی سدھیراحمد آفریدی اور ابو ذر کو پولیٹکل انتظامیہ نے حکومت کو مطلوب لشکر اسلامی کے کمانڈر منگل باغ کا انٹرویو کرنے پر گزشتہ روز حراست میں لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ منگل باغ کا انٹرویو کرنے کے بعد انہیں اور ان کے دوسرے ساتھیوں جو ان کے ساتھ انٹرویو میں موجود تھے کئی دنوں سے انتظامیہ کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھی۔ خلیل آفریدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز لنڈی کوتل کے تحصیلدار نے ان تینوں صحافیوں کو دفتر طلب کیا اور ہمیں دھمکیاں دی گئی کہ وہ آئندہ ایسے انٹرویو کرنے سے اجتناب کرے اور جب ہم نے انکار کیا تو ہمیں وہی پر گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے ان کو پاگلوں والے حوالات میں رکھا اور رات کو شدید گرمی میں ان کے اوپر بجلی بھی بند کردی گئی۔ قبائلی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ذخہ خیل قوم کے سرکردہ قبائلی عمائدین جن کی کوششوں سے صحافیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے نے انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ رہا ہونے والے صحافی آئندہ انتظامیہ کو مطلوب افراد کو کوریج نہیں دینگے۔ واضع رہے کہ گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں قبائلی صحافی حیات اللہ کی گولیوں سے چلنی لاش ملی تھی۔ وہ چھ مہینوں سے لاپتہ تھے ان کے اہل خانہ الزام لگاتے ہیں کہ حیات اللہ کے قتل میں ملک کے حساس ایجنسیوں ملوث ہیں۔ | اسی بارے میں باڑہ میں فسادات اور ہلاکتیں28 March, 2006 | پاکستان باڑہ اسلامی مرکز پر حکومتی کنٹرول01 April, 2006 | پاکستان سی ڈیز، وی سی آر اورخواتین پرپابندی 10 June, 2006 | پاکستان باڑہ: کرفیو ختم، کشیدگی برقرار 11 June, 2006 | پاکستان باڑہ: مذاکرات ناکام، کشیدگی جاری26 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||