باڑہ میں فسادات اور ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں خیبر ایجنسی کے مقام باڑہ کے قریب دو مذہبی رہنماؤں کے حامیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ہونے والے فسادات میں کم سے کم تئیس افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے سرکاری ترجمان شاہ زمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ جھگڑا مفتی منیر شاکر اور ان کے حریف افغان نژاد پیر سیف الرحمان کے حامیوں کے درمیان تھا۔ ان دونوں مذہبی رہنماؤں کو پچھلے ماہ ہونے والے تصادم کے بعد علاقہ چھوڑنا پڑا تھا لیکن ان کے مسلح حامیوں نے یہ فساد جاری رکھا ہوا ہے اور علاقے کے لئے لڑائی جاری ہے۔ مفتی منیر شاکر بنیاد پرست سوچ رکھتے ہیں جبکہ ملا سیف الرحمان کا نظریہ ان سے زیادہ سیکیولر اور صوفیانہ سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے تین ماہ کے دوران اس علاقے میں کشیدگی بڑھتی گئی ہے۔ مفتی منیر شاکر مقامی ایف ایم ریڈیو پر لوگوں سے کہتے رہے ہیں کہ پیر سیف الرحمان غیر ملکی ہیں اور انہیں اور ان کے حامیوں کو علاقے سے نکالنا ضروری ہے۔ دونوں مولوی غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں پر ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور پروپیگنڈا نشر کرتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیر کی شام کو مفتی منیر کے سینکڑوں حامیوں نے پیر سیف الرحمان کے گھر پر حملے کیا تھا اور اس تشدد میں سولہ افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کچھ افراد کا تعلق افغانستان سے بتایا جاتا ہے۔ پیر سیف الرحمان کے حامیوں نے چند گھنٹے بعد باڑہ میں مفتی منیر شیخ کے حامیوں پر جوابی حملہ کیا۔ ایک مقامی صحافی نے بتایا ہے کہ شہر میں ان دونوں فرقوں کے درمیان ہونے والی مسلح جھڑپ میں کئی اور افراد بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دونوں فریقین ایک دوسرے پر یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ علاقے میں سخت کشیدگی ہے اور انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ اس مسئلے کو جرگے کے ذریعے حل کر سکے۔ |
اسی بارے میں مذہبی گروہ پر کارروائی معطل25 February, 2006 | پاکستان ’میران شاہ سے باہرہمارا کنٹرول ہے‘18 March, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرے25 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||