باڑہ اسلامی مرکز پر حکومتی کنٹرول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے مرکز باڑہ میں سنیچر کو سکیورٹی فورسز نے مذہبی عالم مفتی منیر شاکر کے لشکر اسلامی کے صدر دفتر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا اور وہاں پر خیبر رائفل اور نیم فوجی ملیشیا کے درجنوں نوجوان تعینات کردیے۔ دوسری جانب حکومت کو مطلوب لشکر اسلامی کےاہم ارکان علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ملک دین خیل میں قائم لشکر اسلامی کے صدر دفتر کے مالک جائیداد حاجی رباط نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سنیچر کو بارہ بجے مسجد، مدرسہ اور حجرہ سیکورٹی فورسز کے حوالے کردیا۔ اس دفتر سے پنچ پیری مفتی منیر شاکرکے لشکر اسلامی اپنے مخالف اہل سنت کے افغان نژاد مقامی سربراہ پیر سیف الرحمن کے خلاف ایف ایم نشریات اور دیگر کارروائیاں کرتے رہے تھے۔ حاجی رباط نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت کو مطلوب لشکر اسلامی کے اہم رہنما منگل باغ آفریدی اور شوریٰ کے دیگر ارکان علاقے سے فرار ہوگئے ہیں، البتہ انہوں نے روپوشی کا مقام نہیں بتایا۔غالب امکان ہے کہ وہ باڑ ہ سے تقریبا ستر کلومیٹر مغرب کی جانب واقع تیراہ کے مقام پر چلے گئے ہیں۔ لشکر اسلامی کے یہ ارکان گزشتہ دنوں پیر سیف الرحمن کے حامی باچاصاحب کے گھر پر حملے میں حکومت کو مطلوب تھے جس میں بارہ افغانیوں سمیت انیس افرد ہلاک ہوگئے تھے۔تصادم میں مفتی منیر شاکر کے سات حامی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ تصادم کی وجہ سے باڑہ میں سخت کشیدگی تھی۔ بازار، دفاتر اور سکول بند ہوگئے تھے اور علاقے پر خوف کی فضاچھائی ہوئی تھی۔ انجمن تاجران باڑہ نے حکومت کی طرف سے امن وامان کی بحالی تک غیراعلانیہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا تھا جو کل جمعہ کو حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد واپس لے لیا گیا لیکن بازار کھلنے کے باوجود بازار میں لوگوں کا رش نہیں ہے اور ٹریفک کم چل رہی ہے۔ حکومت نے حلات کی سنگینی کے پیش نظر سخت اقدامات کرتے ہوئے لشکر اسلامی کے ایف ایم اسٹیشن کو توپ کے گولے سے تباہ کردیا اور تنظیم کے خلاف ممکنہ آپریشن میں عام لوگوں کو جانی نقصان سے بچانے کے لیئےتقریبا سات سو مکینوں کو نکل جانے کا حکم دیا لیکن لشکراسلامی نے آپریشن شروع ہونے کے خوف سے صدر دفتر حکومت کے حوالے کردیا۔ پیر سیف الرحمن اور مفتی منیر شاکر کے درمیان چھ مہینے سے جاری ایف ایم کے ذریعے مسلکی جھگڑے اور علاقے میں دونوں مذہبی عالموں کے مسلح حامیوں کے گشت ختم ہوگئے ہیں لیکن اب بھی لوگوں میں خوف ہے کہ علاقہ چھوڑنے والے متحارب گروپوں کے مسلح حامی باہر سے باڑہ میں آکر امن و امان کی صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں کشیدگی برقرار، بازار بند، 25 ہلاک28 March, 2006 | پاکستان باڑہ میں فسادات اور ہلاکتیں28 March, 2006 | پاکستان ’بلوچستان میں مفادات کی جنگ‘23 January, 2006 | پاکستان وزیرستان: بم سےفوجی گاڑی تباہ 20 March, 2006 | پاکستان وزیرستان: ایف ایم سٹیشن تباہ20 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||