باڑہ: کرفیو ختم، کشیدگی برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی باڑہ تحصیل میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنا کنٹرول بحال کر لیا ہے اور اب وہاں کوئی کرفیو نہیں ہے تاہم باڑہ میں تناؤ کی وجہ سے اتوار کو کاروبار بھی مکمل طور پر بند رہا۔ منگل باغ سپاہ نامی ایک مقامی گروپ کے سینکڑوں مسلح افراد نے سنیچر کو علاقے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو وجہ بتاتے ہوئے باڑہ بازار کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ گروپ کے سربراہ منگل باغ نے اس موقعہ پر علاقے میں اغوا، ڈکیتی اور دیگر جرائم کے لیئے اسلامی سزاؤں کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم پشاور میں اتوار کوگورنر ہاوس سے جاری ایک سرکاری بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے بروقت سکیورٹی فورسز کو حرکت میں لانے سے لشکر کے لوگ رات کی تاریکی میں چلےگئے۔ سرکاری بیان کے مطابق اب باڑہ میں مکمل امن ہے اور کوئی کرفیو وغیرہ نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی ایکشن منگل گروپ کی جانب سے غیرمشروط طور پر اپنی غیرقانونی سرگرمیاں ترک کرنے اور انتظامیہ کو تسلیم کرنے تک جاری رہے گا۔ ادھر باڑہ سے تعلق رکھنے والے لشکر کے حامی قبائلی جن میں تاجر، ڈاکٹر اور ٹرانسپورٹر شامل ہیں۔ پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں حکومتی اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ لشکر کو آنے کی دعوت انہوں نے دی تھی۔ تاجر سعید ایاز نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران تمام سرکاری اہلکاروں کے دروازے کھٹکھٹائے تاکہ باڑہ میں امن قائم ہوسکے لیکن حکومت کوئی موثر اقدام کرنے میں ناکام رہی۔ ’اس صورتحال میں ہم نے تمام اقوام پر مشتمل اس لشکر کو آنے کی دعوت دی‘۔
تاہم سرکاری بیان میں منگل باغ گروپ پر الزام لگایا کہ یہ گزشتہ سات آٹھ ماہ سے غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا جن میں قبائلی روایات کے برخلاف اپنے مخالفین کے مکانات کو مسمار کرنا، انہیں قتل کرنا، مخالفین اور مذہبی پیشواؤں کو اغوا کرنا اور انہیں بےعزت کرنا شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس گروپ کے مسلح لوگوں نے پورے باڑہ بازار کو یرغمال بنایا اور یک طرفہ طور پر امن کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تاہم حکومت نے کارروائی کی تو منگل گروپ کے لوگ بقول حکومت رات کی تاریکی میں بھاگ گئے۔ توقع ہے کہ حکومت اتوار کی شام منگل باغ کے رشتہ دار کی باڑہ میں ایک مارکیٹ بھی مسمار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے لیئے قبائلیوں کو نوٹس جاری کیئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس برس مارچ میں دو دینی رہنماؤں مفتی منیر شاکر اور پیر سیف الرحمان کے حامیوں کے درمیان تصادم میں تیس سے زائد افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں باڑہ میں فسادات اور ہلاکتیں28 March, 2006 | پاکستان باڑہ سے لوگوں کی نقل مکانی29 March, 2006 | پاکستان باڑہ اسلامی مرکز پر حکومتی کنٹرول01 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||