باڑہ سے لوگوں کی نقل مکانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باڑہ میں دو مذہبی رہنماؤں کی حامیوں کے درمیان ہونیوالے جھگڑے کے بعد عام لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی۔ وفاق کے زیرانتظام خیبر ایجنسی کے مرکز باڑہ میں دو مذہبی رہنماؤں کے حامیوں کے درمیان ہونیوالے جھگڑے کے بعد بدھ کے روز پنچ پیری مسلک کے سربراہ مفتی منیر شاکر کے حامیوں کے خلاف حکومت کی طرف سے ممکنہ آپریشن کی خوف سے ملک دین خیل سے عام لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی۔ باڑہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سرکاری سکیورٹی فورسز نے مفتی شاکر کے ایف ایم سٹیشن کو توپ کے گولے کا نشانہ بنایا ہے جس سے ایف ایم شٹیشن تباہ اور دو لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ پولٹیکل ایجنٹ نےگورنر کی ہدایت پر خود کو لشکر اسلامی کہنے والے مفتی منیر شاکر کے حمایت یافتہ گروپ کے خلاف آپریشن کا الٹی میٹم دیا تھا، جس کے بعد علاقے سے نقلِ مکانی شروع ہو گئی۔ پولٹیکل ایجنٹ نے مقامی لوگوں کو بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ ’لشکر اسلامی‘ کے مرکز سے ایک کلو میٹر دور رہیں۔ باڑہ میں دونوں گروپوں کے درمیان دو روز سے جاری تصادم میں حکومت کے مطابق تقریباً پچیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بارہ افغانی بھی شامل ہیں جو اہل سنت کے افغان نژاد مقامی سربراہ پیر سیف الرحمان کے پیروکار بتائے جاتے ہیں۔ باڑہ میں ایک مقامی صحافی اورنگزیب آفریدی نے بتایا کہ بدھ کے دن بھی علاقے میں حالات سخت کشیدہ تھے اور دونوں گروپوں کے حمایتی اپنے اپنے علاقوں میں بھاری اسلحے کے ساتھ گشت کرتے رہے۔ مقامی صحافی نے بتایا کہ باڑہ میں بازار اور سرکاری دفاتر بند تھے اور شہر مکمل طور پر سنسان نظر آ رہا تھا۔ دوسری طرف آج انجمن تاجران باڑہ نے ایک مظاہرے میں اعلان کیا کہ جب تک علاقے میں مکمل امن بحال نہیں ہوتا تب تک باڑہ بازار بند رہے گا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت علاقے میں امن و امان کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے۔ باڑہ میں گزشتہ چھ ماہ سے دو مذہبی رہنماؤں پنچ پیری مسلک کےمفتی منیر شاکر اور اہل سنت کے پیر سیف الرحمن کے درمیان غیر قانونی ایف ایم سٹیشن کے ذریعے مسلکی جنگ جاری رہی مگر کچھ عرصے سے دونوں کے حامیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں مذہبی رہنما قبائلی جرگے کے فیصلے کے تحت علاقہ بدر ہیں مگر ان کے حامیوں نے اس جھگڑے کو جاری رکھا ہوا ہے۔ آفریدی قبائل کے ایک چالیس رکنی مصالحتی جرگے نے حکومت کے ممکنہ آپریشن کو روکنے کے لیے لشکر اسلامی کے ساتھ مذاکرات کیے لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔ | اسی بارے میں مذہبی گروہ پر کارروائی معطل25 February, 2006 | پاکستان چار قبائلی حکام کے حوالے03 April, 2004 | پاکستان ’قبائلی علاقوں میں اصلاحات کریں‘ 31 August, 2005 | پاکستان پاک فوج کے لیے قبائلی دلدل 06 March, 2006 | پاکستان کشیدگی برقرار، بازار بند، 25 ہلاک28 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||