چار قبائلی حکام کے حوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیر ستان میں محسود قبائل نے چار مقامی افراد کو مبینہ دہشت گردوں کی مدد کرنے کے شبہ میں گرفتار کر کے پاکستانی حکام کے حوالے کردیا ہے۔ محسود قبائل نے جمعرات کو چھ ہزار مسلح افراد پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دیا تھا جس نے اپنے علاقے میں کارروائی کر کے جمعہ کے روز چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان افراد پر دہشت گرودں کی معاونت کرنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محسود قبیلے کے سرداد ملک عنائت اللہ خان محسود نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ پاکستانی حکام نے محسود قبائل کے علاقے میں تیرہ چودہ مقامات کی نشاندھی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام کی اطلاعات کے مطابق ان مقامات پر غیر ملکی دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔ ملک عنایت اللہ نے کہاکہ قبائلی لشکر نے ان تمام مقامات کی مکمل تلاشی کے بعد وہاں پر غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی خبروں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی لشکر کو ان تمام مقامات پر مقامی لوگوں نے خوش آمدید کہا اور دعوت دی کہ وہ جس گھر کی بھی چاہیں تلاشی لے سکتے ہیں۔ جن چار افراد کو حکام کے حوالے کیا گیا ہے ان کے بارے میں ملک عنایت اللہ نے کہا کہ یہ چاروں افراد محسود قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں انہوں نے کہا یہ تاثر غلط ہے کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد کا کوئی گڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تو پوری دنیا میں ہیں اور پوری دنیا ہی میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا دہشت گردوں کی کارروائیوں سے تو امریکہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ محسود قبیلے کے سرکردہ لوگوں نے اپنے قبیلے کے تمام لوگوں کو اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ اس علاقے میں کسی غیر ملکی کو پناہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس علاقے میں کسی کو پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنے دی جائے گی۔ دریں اثنا پاکستانی حکومت نے وزیرستان میں روپوش القاعدہ کے مبینہ ارکان کے لئے ایک مرتبہ پھر عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ صوبۂ سرحد کے گورنر ریٹائرڈ جنرل سید افتخار حسین شاہ نے کہا ہے کہ اگر مشتبہ افراد ہتھیار ڈال دیں اور انہیں پناہ دینے والا قبیلہ یہ یقین دہانی کروادے کہ وہ کسی تشدد آمیز کارروائی میں ملوث نہیں ہوں گے تو انہیں ان کے خاندانوں کے ہمراہ یہ علاقہ چھوڑنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ ساتھ ہی مقامی لوگوں کی حمایت کے لئے جمعہ کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے علاقے میں پرچیاں بھی گرائیں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مقامی لوگوں کو چاہئے کہ وہ القاعدہ کے مشتبہ افراد پر زور دیں کہ وہ یہ علاقہ چھوڑ دیں۔ یہ پرچیاں اردو زبان میں ہیں اور ان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر ملکی مشتبہ افراد قبائلیوں کی مہمان نواز ی کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||