BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 October, 2006, 21:47 GMT 02:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خفیہ اداروں سے ٹکر نہ لینا‘

صحافی مہر الدین مری کی حراست میں لیے جانے سے پہلے کی تصویر
صحافی مہر الدین مری کی حراست میں لیے جانے سے پہلے کی تصویر
چار ماہ کی حراست کے بعد رہا ہونے والے صحافی مہرالدین مری نے کہا ہے کہ تفتیش کے دوران ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اعتراف کریں کہ سندھ سے بالاچ مری کو مالی اور افرادی مدد فراہم کی جارہی ہے اور رہائی سے قبل انہیں مشورہ دیا گیا کہ ’ کبھی بھی ریاست اور خفیہ اداروں سے ٹکر نہ لینا۔‘

سندھ کےضلع بدین میں سندھی روزنامہ ’کاوش‘ اور ایک علاقائی ٹی وی چینل ’کے ٹی این‘ کے لیے کام کرنے والے صحافی مہرالدین مری چار ماہ تک خفیہ اداروں کی تحویل میں رہے ۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چار ماہ قبل ٹھٹہ سے واپسی پر پولیس نے حراست میں لیا تھا اور پھر کچھ دور جا کر انہیں آرمی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس مقام پر آرمی کی تین گاڑیوں سمیت ایک سفید کار موجود تھی جس میں انہیں سوار کیا گیا۔

مہرالدین مری کے مطابق جب انہوں نے ایس پی ٹھٹہ سے سوال کیا کہ انہیں آخر فوج کے حوالے کیوں کیا جارہا ہے، تو ایس پی نے بتایا کہ انہیں بالا حکام سے ہدایت ملی ہے کہ مہرالدین کو گرفتار کرکے ان کے حوالے کیا جائے۔

مہرالدین مری نے بتایا کہ ان کی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ دی گئی اور ایک ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد ایک چھوٹے سے کمرے میں پہنچایا گیا جہاں صرف ایک بسترہ بچھا ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ روز کے بعد تین افسر آئے جنہوں نے ان سے ذاتی معلومات حاصل کیں کہ وہ کتنے بھائی ہیں، کہاں کہاں ہیں، میں کیا کرتا ہوں، کتنے عرصے سے صحافت سے منسلک ہوں وغیرہ۔

 انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات کئی گھنٹے چھت کے ساتھ الٹا لٹکایا جاتا تھا، کبھی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاتے تھے اور کبھی کبھی بجلی کے کرنٹ دیئے جاتے تھے، اس دوران میں کئی مرتبہ بے ہوش بھی ہوگئے

ان افسران نے ان سے کہا کہ ’تمہارے بھائی دبئی میں رہتے ہیں ان کے نواب خیر بخش مری کے فرزند غزن مری سے تعلقات ہیں۔‘

مہرالدین کے مطابق انہوں نےتفتیشی افسران کو بتایا کہ ان کا خاندان ڈیڑھ سو سال سے سندھ میں رہتا ہے، نواب خیر بخش ان کے قبیلے کے سردار ہیں جس سے کوئی انکار نہیں ہے مگر ان کے کسی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مہرالدین مری نے بتایا کہ تفتیشی افسران لہجے سے پنجابی اور پشتو زبان بولنے والےمعلوم ہوتے تھے۔ اس تفتیش کے بعد پھر تشدد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات کئی گھنٹے چھت کے ساتھ الٹا لٹکایا جاتا تھا، کبھی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاتے تھے اور کبھی کبھی بجلی کے کرنٹ دیئے جاتے تھے۔ اس دوران وہ کئی مرتبہ بے ہوش بھی ہوگئے۔

مہرالدین نے بتایا کہ انہیں تین راتوں تک ایک کمرے میں کھڑا کردیا جاتا تھا اور سونے نہیں دیا جاتا تھا، اور کبھی کمرے کے بیچ میں بیٹھنے کے لیے کہا جاتا۔ اگر غنودگی ہوتی تو ایک آدمی آکر انہیں جگاتا تھا۔

 مہرالدین مری جسمانی طور پر خاصےکمزور نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کوئی چھ مختلف مقامات پر رکھا گیا اور مختلف ایجنسیوں نے تحقیقات کی۔ اس کا اندازہ انہیں اس طرح سے ہوا کہ ہر کسی کی پوچھ گچھ کا طریقہ مختلف ہوتا تھا

مہرالدین مری جسمانی طور پر خاصےکمزور نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کوئی چھ مختلف مقامات پر رکھا گیا اور مختلف ایجنسیوں نے تحقیقات کی۔ اس کا اندازہ انہیں اس طرح سے ہوا کہ ہر کسی کی پوچھ گچھ کا طریقہ مختلف ہوتا تھا۔ ابتدا میں جن افسران نے تفتیش کی ’وہ اخلاق کے دائرے میں رہ کر بات کرتے تھے، مگر بعد والے اخلاق سے بات نہیں کرتے اور تشدد بھی کرتے تھے‘۔

تفتیش کے دوران زندگی سے مایوس ہونے والے مہرالدین مری کے مطابق انہیں امید نہیں تھی کہ وہ زندہ لوٹ پائیں گے۔

وہ رہائی والے دن کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’اس دن ایک افسر نے کہا کہ اپنا سامان اٹھاؤ۔ میں نے بتایا میرا سامان تو ایک جوڑا کپڑے ہیں، جو پہن رکھا تھا۔ بعد میں انہوں نے میری سینڈل بھی لا کر دیئے۔ اس کے بعد مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا گیا۔ آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور ہاتھ پشت کی طرف بندھے ہوئے تھے، اس دوران کوئی چار گاڑیاں تبدیل کی گئیں ۔

 مہرالدین کے مطابق انہوں نےتفتیشی افسران کو بتایا کہ ان کا خاندان ڈیڑھ سو سال سے سندھ میں رہتا ہے، نواب خیر بخش ان کے قبیلے کے سردار ہیں جس سے کوئی انکار نہیں ہے مگر ان کے کسی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے

’پھرمجھے ایک جگہ بٹھایاگیا۔ کچھ دیر کے بعد ایک افسر آیا اور اس نے مجھے کرسی پر بٹھانے اور ہاتھ آگے کی طرف باندھنے کی ہدایت کی۔

اس نے پوچھا کہ ’مری تمہارا کیا مسئلہ ہے؟‘ میں نے کہا میں نے کوئی جرم نہیں کیا اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں، اگر آپ کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہوتا تو آپ ابھی تک سامنے لاچکے ہوتے۔

’اس افسر نے بتایا کہ ان کے ایک دوست نے حد سے زیادہ مجبور کیا ہے اس لیے اسےچھوڑ رہا ہوں ’مگر ایک بات یاد رکھنا کہ ریاست اور خفیہ اداروں سے کبھی ٹکر نہ لینا۔‘

مہرالدین مری نے بتایا کہ بعد میں انہیں ایک چھوٹی گاڑی میں لاکر ایک ٹرک میں سوار کیا گیا۔ حیدرآباد روڈ پر ایک اور کار موجود تھی جس میں انہیں بٹھایا گیا۔

مہرالدین مری کے مطابق خفیہ اداروں کے افسران کا دباؤ تھا کہ وہ اعتراف کریں کہ ان کےنواب خیر بخش مری، بالاچ اور غزن مری سے تعلقات ہیں وہ سندھ سے انہیں افرادی اور مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔

’انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر یہ الزام نہیں مانتے تو کسے ڈکیتی یا چوری کا اعتراف کرو تاکہ انہیں عدالت میں پیش کر کے پولیس کے حوالے کیا جائے۔‘

اسی بارے میں
مکیش کی رہائی: وڈیو رپورٹ
23 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد