صحافی مہرالدین مری رہا ہوگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے لاپتہ صحافی مہرالدین مری رہا ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سے نواب خیر بخش مری اور بالاچ مری کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ بدین ضلع سے تعلق رکھنے والے روزانہ کاوش اور نجی ٹی وی چینلکے ٹی این کے صحافی مہرالدین مری کو پیر کی شب رہا کیا گیا تھا۔ انہیں تقریبا چار ماہ قبل ٹھٹہ کے نزدیک حراست میں لیا گیا تھا، جس کے خلاف صحافیوں نے سندھ بھر میں احتجاج کیا تھا۔ مہر الدین مری کو ان کے مطابق پیر کی شب بعض افراد حیدرآباد کے قریب بدین روڈ پر چھوڑ کر گئے جس کے بعد انہوں نے دوستوں کو فون کر کے آگاہ کیا جو انہیں گولاڑچی لے گئے۔ مہرالدین نے بتایا کہ ان سے خیربخش مری اور ان کے بیٹے بالاچ مری سے تعلقات کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خفیہ ادارے کی تحویل میں تھے اور انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ اس دوران انہیں مختلف مقامات پر آنکھوں پر پٹی باندھ کے رکھا گیا، یہ پٹی صرف اس وقت اتاری جاتی تھی جب وہ نماز پڑھنا چاہتے تھے۔ مہر الدین نے بتایا کہ انہوں نے بدین ضلع کے علاقے کڑیو گہنور میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور مقامی دیہاتیوں کے درمیان تنازع کی رپورٹنگ کی تھی جس کی وجہ سے وہ ایجنسیوں کے عتاب میں آگئے تھے۔ |
اسی بارے میں صحافی کی بازیابی کے لیئے احتجاج26 July, 2006 | پاکستان پاکستان: سندھ میں ایک صحافی لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان ایڈیٹر کے خلاف رپورٹر کا مقدمہ 20 July, 2006 | پاکستان ’انکوائری کمیشن غیر قانونی ہے‘19 July, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان صحافی کی گمشدگی: تشویش 12 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||