BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 July, 2006, 21:11 GMT 02:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انکوائری کمیشن غیر قانونی ہے‘

پشاور میں صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ ایک مذاکرے میں قانونی ماہرین نے قبائلی صحافی حیات اللہ خان کے قتل کےلئے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جس آرڈنینس کے تحت قتل کی تحقیقات کی جارہی ہے اسے قبائلی علاقوں سے متعلق انکوائری کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں۔

مذاکرے کا اہتمام پشاور پریس کلب میں کیاگیا تھا جس سے پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید نواز خان گنڈاپور، ممتاز قانون دان عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ، قوم پرست رہنما برسٹر باچا اور فاٹا لائرز فورم کے صدر کریم محسود نے خطاب کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئینی ماہرین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ویسٹ پاکستان ٹربیونل آف انکوائری آرڈنینس 1969 کی دفعہ ایک کے تحت پشاور ہائی کورٹ کے جج کو قبائلی علاقوں سے متعلق انکوائری کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو انکوائری کمیشن مقرر کیا ہے یہ محض صحافیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔

جسٹس (ر) جاوید نواز خان گنڈاپور نے موقف اختیار کیا کہ ایف سی آر کے تحت انکوائری ہونی چاہیے اور ملزموں کو جلدازجلد گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ایف سی ار رائج ہے جس کے تحت کسی بھی ملزم کو تین دن کے اندر گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

ممتاز قانون دان عبدالطیف آفریدی نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے جج سے صحافی حیات اللہ خان کے قتل کی انکوائری کرانا غیر قانونی ہے کیونکہ مذکورہ آرڈنینس کو قبائلی علاقوں تک توسیع نہیں دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جتنی انکوائریاں ہوئی ہیں ان کی رپورٹوں کو آج تک شائع نہیں کیا گیا جس کے بعد ان تحقیقات کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔

قوم پرست رہنما برسٹر باچا نے بتایا کہ حیات اللہ کے قتل کی انکوائری ان کیمرہ کرانا بالکل غلط ہے۔ ان کیمرہ پروسیڈ نگ اس صورت میں ہوتی ہے جب ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہو اور ویسے بھی پاکستان کی کوئی چیز ایسی نہیں جو امریکہ سے خفیہ ہو۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ قبائلی صحافی حیات اللہ کی پراسرار ہلاکت کے بعد حکومت نے ان کے قتل کی تحقیقات کےلئے تین انکوائریاں مقرر کی تھی۔ اس میں ایک انکوائری پشاور ہائی کورٹ کے جج کے سربراہی میں مقرر کی گئی ہے لیکن تاحال اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

صحافی حیات اللہ کو گزشتہ دسمبر کے مہینے میں ان کے گھر کے نزدیک سے بعض نامعلوم نقاب پوشوں نے بندوق کے نوک پر اغواء کیا تھا۔ وہ چھ ماہ سے لاپتہ تھے جس کے بعد اس کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔ ان کے بھائی احسان اللہ مسلسل خفیہ ایجنسیوں پر اپنے بھائی کے اغواء کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد