صحافی کی بازیابی کے لیئے احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں گولارچی کے لاپتہ ہونے والے صحافی مہرالدین مری کی بازیابی کے لیئے صحافیوں نے منگل کے روز کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ صحافی ضلع بدین سے احتجاج کے لیئے کراچی پہنچے تھے۔ انہوں نے پولیس اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ گولارچی میں سندھی روزنامہ کاوش کے لیئے رپورٹنگ کرنے والے صحافی مہرالدین مری کو ستائیس جون کو ٹھٹہ سے گولارچی جاتے ہوئے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔ ایوان صحافت بدین کے رہنما خالد محمود اور مصطفیٰ جمالی کا کہنا تھا کہ ٹھٹہ پولیس کی حدود سے مہرالدین مری کی گرفتاری کی گئی تھی مگر پولیس نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہرالدین کو ایجنسی اہلکاروں کے حوالے کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مہرالدین بیباک صحافی ہیں اور انہیں گولاڑچی پریس کلب کی دو ایکڑ زمین پر قبضے میں رکاوٹ بننے کی سزا دی جارہی ہے۔ یہ پلاٹ صحافیوں کی ملکیت تھا جس پر کچھ لوگ قابض ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ مہرالدین مری کی گرفتاری کا ازخود نوٹس لیا جائے اور ان کی بازیابی میں مدد کی جائے۔ |
اسی بارے میں ایڈیٹر کے خلاف رپورٹر کا مقدمہ 20 July, 2006 | پاکستان ’انکوائری کمیشن غیر قانونی ہے‘19 July, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان صحافی کی گمشدگی: تشویش 12 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||