BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 July, 2006, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈیٹر کے خلاف رپورٹر کا مقدمہ

اردو اخبار ’خبریں‘ کے سینئر رپورٹر نے مقامی تھانے میں درخواست دی ہے کہ انہیں ان کے اخبار کے مالک ایڈیٹر نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک گھنٹہ سے زائد وقت کے لیے حبس بے جا میں رکھا۔ رپورٹر کا کہنا ہے کہ ان کے ایڈیٹر کو اس بات پر غصہ تھا کہ انہوں نے ان کے کہنے پر لاہور ہائی کورٹ میں سفارش کیوں نہیں کی۔

لاہور میں صحافیوں کی تنظیموں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے صحافی کی ہر ممکن قانونی مدد کا اعلان کیا ہے۔ تشدد کا نشانہ بننے والےسید مستحسن ندیم چھ برس سے روزنامہ خبریں کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی خبروں کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پر تشدد کا واقعہ دو روز قبل پیش آیا تھا جب انہوں نے اپنے ایڈیٹر امتنان شاہد کے کہنے پر ایک سفارش کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مستحسن ندیم نے بتایا کہ ایڈیٹر نے فون کرکے ان سے کہا تھا کہ کچھ افراد کی پھانسی رکوانے کے لیے عدلیہ سے سفارش کریں۔

 تشدد کانشانہ بننے والے رپورٹر بچپن کے ایک حادثے کے بعد سے معذور بھی ہیں پریس کلب کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صحافتی تنظیمیں ان پر تشدد کے واقعہ پر خاموش نہیں رہیں گی اور انہیں انصاف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔
سینئر رپورٹر کے مطابق انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور ملزموں کو پھانسی لگ گئی۔ اگلے روز وہ معمول کے مطابق ہائی کورٹ میں رپورٹنگ کے لیے موجود تھے کہ انہیں دفتر سے فون کرکے بلایا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ دفتر پہنچے اور ’خبریں‘ کے ایڈیٹر امتنان شاہد کےکمرے میں داخل ہونے لگے تو ان کے ایڈیٹر کے گن مینوں نے مبینہ طور پر انہیں پکڑ لیا۔

مستحسن ندیم نے کہا کہ امتنان شاہد نے ’مجھے تھپڑ گھونسوں اور ٹھڈوں سے مارنا شروع کر دیا، دفتر کا بعض دیگر عملہ بھی مجھ سے ہونے والا یہ توہین آمیز تشدد دیکھتا رہا۔‘ اس کے بعد ان کے ایڈیٹر نے انہیں ایک گھنٹے سے زائد وقت کے لیے اپنے کمرے میں بند کر دیا۔

مستحسن ندیم اس مبینہ پرتشدد واقعہ کے بعد دو روز روپوش رہے تاہم ان پر تشدد کی اطلاع مقامی صحافیوں تک پہنچ گئی۔

لاہور پریس کلب کے چند عہدیداروں نے ایک جانب مجلس عاملہ کا ایک طرف فوری طور پر غیر رسمی اجلاس طلب کرکے اس کی مذمت کی اور دوسری جانب صحافی تنظیموں نےتشدد کا نشانہ بننے والے مستحسن ندیم کی تلاش جاری رکھی۔

 سید مستحسن ندیم نے کہا کہ وہ ایڈیٹر کے خوف سے روپوش ہوگئے تھے لیکن اب ان کے ساتھی صحافیوں نے ان کا ساتھ دینے کا عہد کیا ہے اس لیے انہوں نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
جمعرات کو جب وہ منظر عام پر آئے تو شام سات بجے کے بعد چالیس کے قریب صحافیوں نے ان کےساتھ جاکر تھانہ سول لائنز میں روزنامہ خبریں کے ایڈیٹر اور ان کے گن مینوں کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست دیدی۔

اس موقع پر صحافی تنظیموں، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب لاہور کے عہدیدار بھی موجود تھے۔

پریس کلب لاہور کے سیکرٹری جنرل شعیب الدین نے کہا کہ اگر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا تو وہ قانونی حق لینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

تشدد کانشانہ بننے والے رپورٹر بچپن کے ایک حادثے کے بعد سے معذور بھی ہیں پریس کلب کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صحافتی تنظیمیں ان پر تشدد کے واقعہ پر خاموش نہیں رہیں گی اور انہیں انصاف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔

سید مستحسن ندیم نے کہا کہ وہ ایڈیٹر کے خوف سے روپوش ہوگئے تھے لیکن اب ان کے ساتھی صحافیوں نے ان کا ساتھ دینے کا عہد کیا ہے اس لیے انہوں نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ روزنامہ خبریں میں جس کے کارکن کے بارے میں ایڈیٹر صاحب کا یہ خیال ہو کہ وہ صحیح کام نہیں کرتا سزا کے طور پر اس کی پٹائی بھی ہوجاتی ہے۔

روزنامہ خبریں نےاس بارے میں تاحال اپنے موقف کا اظہارنہیں کیا۔ رابطہ کرنے پر ایڈیٹر کے پرسنل اسٹنٹ عامر پرویز نے کہا کہ وہ اگر اس بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے تو خود فون کرلیں گے۔

ناصر زیدی’جو بولتااٹھا لیاجاتا‘
ضیادورمیں کوڑوں کی سزا پانےوالےصحافی کی روداد
صحافتی آزادیاظہار کی آزادی
پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے خراب
آزادی صحافت کا دن
تین مئی: آزادی صحافت کا عالمی دن
میرے احساسات
حیات اللہ کو مددگار پایا: ہارون رشید
اخباراتپاک وہند ذرائع ابلاغ
پاک وہند کےاخبارات اب سرحد پار سے بھی؟
اسی بارے میں
صحافت آج بھی پا بہ زنجیر
12 May, 2005 | پاکستان
کراچی میں آزادی صحافت ریلی
09 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد