ایڈیٹر کے خلاف رپورٹر کا مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو اخبار ’خبریں‘ کے سینئر رپورٹر نے مقامی تھانے میں درخواست دی ہے کہ انہیں ان کے اخبار کے مالک ایڈیٹر نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک گھنٹہ سے زائد وقت کے لیے حبس بے جا میں رکھا۔ رپورٹر کا کہنا ہے کہ ان کے ایڈیٹر کو اس بات پر غصہ تھا کہ انہوں نے ان کے کہنے پر لاہور ہائی کورٹ میں سفارش کیوں نہیں کی۔ لاہور میں صحافیوں کی تنظیموں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے صحافی کی ہر ممکن قانونی مدد کا اعلان کیا ہے۔ تشدد کا نشانہ بننے والےسید مستحسن ندیم چھ برس سے روزنامہ خبریں کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی خبروں کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پر تشدد کا واقعہ دو روز قبل پیش آیا تھا جب انہوں نے اپنے ایڈیٹر امتنان شاہد کے کہنے پر ایک سفارش کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مستحسن ندیم نے بتایا کہ ایڈیٹر نے فون کرکے ان سے کہا تھا کہ کچھ افراد کی پھانسی رکوانے کے لیے عدلیہ سے سفارش کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ دفتر پہنچے اور ’خبریں‘ کے ایڈیٹر امتنان شاہد کےکمرے میں داخل ہونے لگے تو ان کے ایڈیٹر کے گن مینوں نے مبینہ طور پر انہیں پکڑ لیا۔ مستحسن ندیم نے کہا کہ امتنان شاہد نے ’مجھے تھپڑ گھونسوں اور ٹھڈوں سے مارنا شروع کر دیا، دفتر کا بعض دیگر عملہ بھی مجھ سے ہونے والا یہ توہین آمیز تشدد دیکھتا رہا۔‘ اس کے بعد ان کے ایڈیٹر نے انہیں ایک گھنٹے سے زائد وقت کے لیے اپنے کمرے میں بند کر دیا۔ مستحسن ندیم اس مبینہ پرتشدد واقعہ کے بعد دو روز روپوش رہے تاہم ان پر تشدد کی اطلاع مقامی صحافیوں تک پہنچ گئی۔ لاہور پریس کلب کے چند عہدیداروں نے ایک جانب مجلس عاملہ کا ایک طرف فوری طور پر غیر رسمی اجلاس طلب کرکے اس کی مذمت کی اور دوسری جانب صحافی تنظیموں نےتشدد کا نشانہ بننے والے مستحسن ندیم کی تلاش جاری رکھی۔ اس موقع پر صحافی تنظیموں، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب لاہور کے عہدیدار بھی موجود تھے۔ پریس کلب لاہور کے سیکرٹری جنرل شعیب الدین نے کہا کہ اگر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا تو وہ قانونی حق لینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ تشدد کانشانہ بننے والے رپورٹر بچپن کے ایک حادثے کے بعد سے معذور بھی ہیں پریس کلب کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صحافتی تنظیمیں ان پر تشدد کے واقعہ پر خاموش نہیں رہیں گی اور انہیں انصاف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ سید مستحسن ندیم نے کہا کہ وہ ایڈیٹر کے خوف سے روپوش ہوگئے تھے لیکن اب ان کے ساتھی صحافیوں نے ان کا ساتھ دینے کا عہد کیا ہے اس لیے انہوں نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ روزنامہ خبریں میں جس کے کارکن کے بارے میں ایڈیٹر صاحب کا یہ خیال ہو کہ وہ صحیح کام نہیں کرتا سزا کے طور پر اس کی پٹائی بھی ہوجاتی ہے۔ روزنامہ خبریں نےاس بارے میں تاحال اپنے موقف کا اظہارنہیں کیا۔ رابطہ کرنے پر ایڈیٹر کے پرسنل اسٹنٹ عامر پرویز نے کہا کہ وہ اگر اس بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے تو خود فون کرلیں گے۔ |
اسی بارے میں صحافت آج بھی پا بہ زنجیر12 May, 2005 | پاکستان صحافی: بغیر وارنٹ گرفتاری جائز16 May, 2005 | پاکستان کراچی میں آزادی صحافت ریلی09 August, 2005 | پاکستان صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج06 December, 2005 | پاکستان مغوی صحافی کی بازیابی کے لیےمظاہرہ23 December, 2005 | پاکستان کراچی میں صحافیوں کا احتجاج19 June, 2006 | پاکستان پشاور میں صحافیوں کا احتجاج06 July, 2006 | پاکستان کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کا گھیرا؟16 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||