BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 July, 2006, 00:41 GMT 05:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کا گھیرا؟

کوئٹہ سکیورٹی فورسز: فائل فوٹو
کوئٹہ پریس کلب کے سامنے سکیورٹی اہلکار دس گھنٹے سے زائد موجود رہے
پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے کوئی دس گھنٹے سے زیادہ وقت تک کوئٹہ پریس کلب کو گھیرے میں لیئے رکھا لیکن سرکاری سطح پر اس کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

دوپہر دو بجے کے بعد پولیس کی گاڑیاں میونسپل کارپوریشن کے احاطے میں داخل ہوئی جہاں کوئٹہ پریس کلب واقع ہے اور پھر اس کے بعد پولیس اور پولیس کی گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ اس دوران خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بھی وہاں موجود رہے۔ صورتحال کو بھانپتے ہوئے صحافی فوٹوگرافر اور کیمرہ مین پریس کلب پہنچے اور رات گئے تک وہاں موجود رہے۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس زاہد آفاق جو پہلے پہلے گاڑیوں میں سوار ہو کر پہنچے تھے ان سے جب پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ پولیس یہاں اکھٹی ہو رہی ہے تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں صرف یہ کہا گیا ہے کہ آپ وہاں پہنچیں، باقی کچھ پتہ نہیں ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے۔

شام چھ بجے کے وقت بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قائدین نے اخباری کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ شائد پولیس کسی کو گرفتار کرنا چاہتی ہے لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی اور بی ایس او کے قائدین کانفرنس کے بعد روانہ ہو گئے۔

رات کوئی ایک بجے پولیس کی کچھ نفری واپس چلی گئی لیکن کچھ موجود رہی جس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندے آہستہ آہستہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔

یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ شائد کوئی اہم کمانڈرحکومت کی حمایت کرنے پریس کلب پہنچ رہا ہے۔

یاد رہے کہ سنیچر کے روز وڈیرہ خان محمد مسوری اور کالو خان نے حکومت کی حمایت کا اعلان ڈیرہ بگٹی میں ایک تقریب میں کیا ہے۔ اس تقریب میں بارہ مسلح افراد نے ہتھیار ڈالے ہیں اور موقع پر کوئی چالیس اور پچاس کے درمیان لوگ موجود تھے لیکن حکومت اور وڈیروں نے چھ سو افراد کی حمایت کا دعوی کیا ہے۔

ادھر مسلح قبائلیوں کے ترجمان وڈیرہ عالم خان نے کوئٹہ میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ پھٹی ہے اور سوئی میں انھوں نے راکٹ داغے ہیں جن سے سیکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کی اطلاع ہے۔ لیکن انھوں نے کوئی واضح تعداد نہیں بتائی اور نا ہی سرکاری سطح پر اس کی تصدیق ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد