تین مئی، آزادی صحافت کا دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر کی طرح تین مئی کو پاکستان میں بھی پریس فریڈم ڈے یعنی ذرائع ابلاغ اور اظہار رائے کی آزادی کا دن منایا گیا۔ اس موقع پر صحافیوں نے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے قوانین منسوخ کرنے اور صحافیوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کی تنظیموں نے جلوس نکالے جبکہ کچھ شہروں میں عالمی پریس کے یوم آزادی کے دن پر سیمینار بھی منعقد کیئے گئے۔ صحافت کے یوم آزادی کے موقع پر جہاں سڑکوں پر مظاہرے اور دھرنے دیے گئے وہاں پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں بھی صحافیوں نے ساتویں ویج ایوارڈ پر عملدرآمد نہ کرنے کے خلاف واک آؤٹ کیا۔ جس کی حمایت میں حزب مخالف کی جماعتوں نے بھی علامتی واک آؤٹ کیا۔ ملکی سطح پر صحافیوں کی ایک سرکردہ تنظیم ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یا ’پی ایف یو جے‘ کے صدر پرویز شوکت نے کہا ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو جہاں حکومتی پابندیوں کا سامنا ہے وہاں اخباری مالکان کی تنظیم انہیں مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے معاوضہ نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی شدت پسند تنظیموں اور نجی ملیشیاؤں سے بھی صحافیوں کو ہر وقت دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اور ایک خوف کے ماحول میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
صحافیوں کی تنظیم کے مرکزی رہنماؤں پرویز شوکت، سی آر شمسی اور فوزیہ شاہد کی سربراہی میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے صحافیوں نے پریس کلب راولپنڈی سے موتی محل تک جلوس نکالا اور وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے کیمپ آفس تک جانا چاہتے تھے۔ لیکن اطلاعات کے مملکتی وزیر طارق عظیم اس موقع پر صحافیوں کے پاس آئے اور انہوں نے صدر سے ملاقات کرانے اور ویج ایوارڈ پر ایک ہفتے میں عملدرآمد کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ جس پر صحافیوں نے صدر کے کیمپ آفس تک جانے کا ارادہ مؤخر کیا۔ جلوس کے شرکا نے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ جن پر ’ویج ایوارڈ، نافذ کرنے، حکومت اور اخباری مالکان کا گٹھ جوڑ مردہ باد، سیاہ قوانین ختم کریں ، صحافیوں کو تحفظ دیں‘ جیسے نعرے اور مطالبات درج تھے۔ پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم کے نمائندے کہتے ہیں کہ میڈیا آزاد نہیں ہے اور حکومت کے نافذ کردہ سیاہ قوانین صحافت کی آزادی میں رکاوٹ ہیں۔ لیکن حکومت کا دعوٰی اس کے برعکس ہے اور حکومتی نمائندے کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کو صدر مشرف کی حکومت نے جتنی آزادی دے رکھی ہے اُتنی ماضی میں انہیں حاصل نہیں تھی۔ ادھر کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے اطلاع دی ہے کہ صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے کے مرکزی سیکریٹری جنرل مظہر عباس اور دیگر کی قیادت میں پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک صحافیوں نے جلوس نکالا۔ جلوس اخباری مالکان کی تنظیم ’اے پی این ایس‘ کے دفتر بھی گیا جہاں کچھ دیر دھرنا دیا اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔ صحافیوں نے اجرتوں کے تعین کے ساتویں ایوارڈ کے مطابق ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے پر بڑے اخباروں کے مالکان کے نام لے کر ان پر قانون شکنی کا الزام لگایا اور حکومت سے ان کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔ جبکہ حیدر آباد سے نامہ نگار علی حسن کے مطابق وہاں اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں مذہبی، سیاسی، اور قوم پرست جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے گرفتار صحافیوں کی آزادی کا مطالبہ کیا اور اپنے اس عزم کا اعائدہ کیا کہ وہ میڈیا کی آزادی کے لیئے اپنا کردار ادا کریں گی۔ کوئٹہ سے ہمارے ساتھی عزیزاللہ نے بتایا ہے کہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کی یوم آزادی کے دن کے مناسبت سے ایک تقریب منعقد ہونی تھی جو مختلف وجوہات کی بنا پر عین وقت پر ملتوی کردی گئی۔ اب یہ تقریب چھ مئی کو ہوگی۔
پشاور سے ہارون رشید نے بتایا ہے کہ صحافت کی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر خیبر یونین آف جرنلسٹس نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور صحافیوں کو با الحضوس قبائلی علاقہ جات میں حکومتی ایجنسیوں اور مذہبی شدت پسندوں کی دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی اور حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ لاہور سے نامہ نگار شاہد ملک نے بتایا ہے کہ پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان نامی ایک غیر سرکاری ادارے کے زیرانتظام پریس کے یوم آزادی کی مناسبت سے ایک تقریب ہوئی۔ جس میں وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بھی شرکت کی۔ وزیر نے ملک میں اپنی حکومت کی جانب سے میڈیا کی آزادی کے بارے میں کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور دعوٰی کیا کہ ان کی حکومت نے پریس کو مکمل آزادی دے رکھی ہے۔ واضح رہے کہ انیس سو ترانوے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے بعد دنیا بھر میں ہر سال تین مئی کو پریس فریڈم ڈے منایایا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو ایک تقریب منعقد کرتا ہے۔ اس سال یونیسکو نے سری لنکا میں ’میڈیا، جمہوریت اور غربت کا خاتمہ‘ کے عنوان کے تحت یہ تقریب منعقد کی ہے۔ | اسی بارے میں کراچی میں آزادی صحافت ریلی09 August, 2005 | پاکستان آزادی کی ضرورت کیا ہے؟ 16 September, 2005 | قلم اور کالم پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے برا15 November, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائیاں‘ اورمیڈیا کا کردار24 December, 2005 | Debate باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی11 March, 2006 | فن فنکار پاکستانی کارٹون: آزادی کی آزمائش31 March, 2006 | قلم اور کالم صحافی کا قتل، سیکرٹری فاٹا معطل28 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||