BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 May, 2006, 14:29 GMT 19:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین مئی، آزادی صحافت کا دن

ورلڈ پریس فریڈم ڈے
دنیا بھر میں ہر سال تین مئی کو پریس فریڈم ڈے منایایا جاتا ہے
دنیا بھر کی طرح تین مئی کو پاکستان میں بھی پریس فریڈم ڈے یعنی ذرائع ابلاغ اور اظہار رائے کی آزادی کا دن منایا گیا۔ اس موقع پر صحافیوں نے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے قوانین منسوخ کرنے اور صحافیوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کی تنظیموں نے جلوس نکالے جبکہ کچھ شہروں میں عالمی پریس کے یوم آزادی کے دن پر سیمینار بھی منعقد کیئے گئے۔

صحافت کے یوم آزادی کے موقع پر جہاں سڑکوں پر مظاہرے اور دھرنے دیے گئے وہاں پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں بھی صحافیوں نے ساتویں ویج ایوارڈ پر عملدرآمد نہ کرنے کے خلاف واک آؤٹ کیا۔ جس کی حمایت میں حزب مخالف کی جماعتوں نے بھی علامتی واک آؤٹ کیا۔

ملکی سطح پر صحافیوں کی ایک سرکردہ تنظیم ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یا ’پی ایف یو جے‘ کے صدر پرویز شوکت نے کہا ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو جہاں حکومتی پابندیوں کا سامنا ہے وہاں اخباری مالکان کی تنظیم انہیں مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے معاوضہ نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی شدت پسند تنظیموں اور نجی ملیشیاؤں سے بھی صحافیوں کو ہر وقت دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اور ایک خوف کے ماحول میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

پاکستان میں صحافت اور حکومت
حکومتی نمائندے کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کو صدر مشرف کی حکومت نے جتنی آزادی دے رکھی ہے اُتنی ماضی میں انہیں حاصل نہیں تھی۔

صحافیوں کی تنظیم کے مرکزی رہنماؤں پرویز شوکت، سی آر شمسی اور فوزیہ شاہد کی سربراہی میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے صحافیوں نے پریس کلب راولپنڈی سے موتی محل تک جلوس نکالا اور وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے کیمپ آفس تک جانا چاہتے تھے۔

لیکن اطلاعات کے مملکتی وزیر طارق عظیم اس موقع پر صحافیوں کے پاس آئے اور انہوں نے صدر سے ملاقات کرانے اور ویج ایوارڈ پر ایک ہفتے میں عملدرآمد کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ جس پر صحافیوں نے صدر کے کیمپ آفس تک جانے کا ارادہ مؤخر کیا۔ جلوس کے شرکا نے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ جن پر ’ویج ایوارڈ، نافذ کرنے، حکومت اور اخباری مالکان کا گٹھ جوڑ مردہ باد، سیاہ قوانین ختم کریں ، صحافیوں کو تحفظ دیں‘ جیسے نعرے اور مطالبات درج تھے۔
صحافیوں کے جلوس اور دھرنے کی وجہ کچھ دیر راولپنڈی کی مصروف سڑک پر ٹریفک بھی معطل رہی۔

پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم کے نمائندے کہتے ہیں کہ میڈیا آزاد نہیں ہے اور حکومت کے نافذ کردہ سیاہ قوانین صحافت کی آزادی میں رکاوٹ ہیں۔ لیکن حکومت کا دعوٰی اس کے برعکس ہے اور حکومتی نمائندے کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کو صدر مشرف کی حکومت نے جتنی آزادی دے رکھی ہے اُتنی ماضی میں انہیں حاصل نہیں تھی۔

ادھر کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے اطلاع دی ہے کہ صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے کے مرکزی سیکریٹری جنرل مظہر عباس اور دیگر کی قیادت میں پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک صحافیوں نے جلوس نکالا۔ جلوس اخباری مالکان کی تنظیم ’اے پی این ایس‘ کے دفتر بھی گیا جہاں کچھ دیر دھرنا دیا اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔ صحافیوں نے اجرتوں کے تعین کے ساتویں ایوارڈ کے مطابق ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے پر بڑے اخباروں کے مالکان کے نام لے کر ان پر قانون شکنی کا الزام لگایا اور حکومت سے ان کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔

جبکہ حیدر آباد سے نامہ نگار علی حسن کے مطابق وہاں اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں مذہبی، سیاسی، اور قوم پرست جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے گرفتار صحافیوں کی آزادی کا مطالبہ کیا اور اپنے اس عزم کا اعائدہ کیا کہ وہ میڈیا کی آزادی کے لیئے اپنا کردار ادا کریں گی۔

کوئٹہ سے ہمارے ساتھی عزیزاللہ نے بتایا ہے کہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کی یوم آزادی کے دن کے مناسبت سے ایک تقریب منعقد ہونی تھی جو مختلف وجوہات کی بنا پر عین وقت پر ملتوی کردی گئی۔ اب یہ تقریب چھ مئی کو ہوگی۔

پریس فریڈم ڈے کب سے؟
انیس سو ترانوے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے بعد دنیا بھر میں ہر سال تین مئی کو پریس فریڈم ڈے منایایا جاتا ہے

پشاور سے ہارون رشید نے بتایا ہے کہ صحافت کی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر خیبر یونین آف جرنلسٹس نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور صحافیوں کو با الحضوس قبائلی علاقہ جات میں حکومتی ایجنسیوں اور مذہبی شدت پسندوں کی دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی اور حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

لاہور سے نامہ نگار شاہد ملک نے بتایا ہے کہ پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان نامی ایک غیر سرکاری ادارے کے زیرانتظام پریس کے یوم آزادی کی مناسبت سے ایک تقریب ہوئی۔ جس میں وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بھی شرکت کی۔ وزیر نے ملک میں اپنی حکومت کی جانب سے میڈیا کی آزادی کے بارے میں کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور دعوٰی کیا کہ ان کی حکومت نے پریس کو مکمل آزادی دے رکھی ہے۔

واضح رہے کہ انیس سو ترانوے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے بعد دنیا بھر میں ہر سال تین مئی کو پریس فریڈم ڈے منایایا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو ایک تقریب منعقد کرتا ہے۔ اس سال یونیسکو نے سری لنکا میں ’میڈیا، جمہوریت اور غربت کا خاتمہ‘ کے عنوان کے تحت یہ تقریب منعقد کی ہے۔

اسی بارے میں
کراچی میں آزادی صحافت ریلی
09 August, 2005 | پاکستان
آزادی کی ضرورت کیا ہے؟
16 September, 2005 | قلم اور کالم
فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی
11 March, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد