 | | | مقامی میڈیا کا کردار کیا ہے؟ |
بلوچستان کے علاقے کوہلو سے تعلق رکھنے والے کچھ قبائلی رہنماؤں اور بلدیاتی نمائندوں نے ملتان میں ایک اخباری کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے علاقے میں جاری ’فوجی آپریشن‘ میں اب تک سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستانی صحافی رپورٹنگ کے لیے افغانستان تو چلے جاتے ہیں لیکن اپنے ہی ملک میں جاری آپریشن اور اس کی ’تباہ کاریاں‘ جاننے کے لیے ابھی تک متاثرہ علاقوں میں کوئی نہیں آیا۔ اس سے پہلے ڈیرہ بگٹی میں ہونے والی مبینہ بمباری کے سلسلے میں بھی اب تک کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آئی ہے۔ آپ کی رائے میں کیا پاکستانی میڈیا پر کی گئی یہ تنقید صحیح ہے؟ کیا پاکستانی میڈیا مقامی مسائل پر اتنی توجہ نہیں دیتی جتنی دی جانی چاہیے؟ آپ کے خیال میں ایسے معاملات میں مقامی میڈیا کو کس قسم کا کردار ادا کرنا چاہیے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آرا نیچے درج ہیں۔
انجم ملک، جرمنی: میں پاکستانی پنجاب میں پیدا ہوا ہوں مگرمجھے سندھ سرحد اور بلوچستان سے بھی پنجاب کی طرح محبت ہے۔ ہمارے جنرل بار بار اپنے ہی ملک کو کیوں فتح کر لیتے ہیں۔ کاش پاکستان میں غیر فوجی حکومت ہوتی جو اس موقع پر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتی۔ جنرل صاحب کو ہٹلر کے نقشِ قدم پر چلنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ذین خان، ہانگ کانگ: یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی اکثر ایسا ہوا ہے اور ہوتا رہے گا جب تک کہ کوئی عوامی انقلاب نہیں آئے گا۔ آرمی نے بنگال میں جو کیا اس کے بعد کشمیر اور کارگل لیکن سبق کبھی بھی نہیں سیکھا۔ وہ سبق سیکھ بھی نہیں سکتے کیونکہ وہ سب کچھ طاقت اور بندوق کے زور پر کرنا چاہتے ہیں لیکن بھول گئے ہیں کہ یہ اکیسویں صدی ہے وہ کب تک ایسا کریں گے۔ ان حالات میں میڈیا پر تنقید کرنا فضول ہے کیونکہ میڈیا ان کے زیرِاثر ہے۔ ہر اخبار کے دفتر میں ان کا ایک آدمی بیٹھتا ہے۔ اشفاق، یو کے: بی بی سی خدا کے لیے صوبائی نفرت پھیلانے پر شرم محسوس کرو۔ صرف اپنی پسند کے بیانات چھاپنے پر شاباش۔ اس سارے معاملے میں لفظ پنجابی پر کیوں زور ہے۔ اگر پنجاب غاصب ہے تو بلوچی یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جتنے بلوچ بلوچستان پیں رہتے ہیں اس سے زیادہ پنجاب میں رہتے ہیں پھر تو وہ بھی غاصب ہوئے۔ یہ سارہ ظلم فوج کا ہے جن کا نہ تو کوئی مزہب ہے نہ کوئی زبان اورنہ وطن۔ محمد وقاص، آسٹریلیا: جب تک پاکستان میں انصاف نہیں ہو گا ملک کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ پاکستان میں چند صحافیوں کے سوا باقی سب حکومت کے چمچے ہیں۔ ہم پنجابی لوگوں کو بھی اپنی سوچ بدلنی چاہیے اور مشرف کے ہر حکم پر آمین نہیں کہنا چاہیے جو امریکہ کے پٹھو ہے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: میں نے یہاں سب کی آراء پڑھی ہیں۔ میں حیران ہوں کہ حکومت ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ لیکن یہاں بلوچ نوجوانوں کے جذبات بہت سخت ہیں۔ پاکستان آرمی نے ہمیشہ ملک کے خلاف کام کیا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش بنوایا، کارگل میں پاکستان کو شرمندہ کیا، کشمیر پالیسی بدلی اور اب بلوچستان۔ خدارا آرمی والو ہمارے ملک کی جان چھوڑو اور جو ڈیوٹی ہے وہی کرو۔ صرف ملک کی حفاظت کرو۔ تم لوگ تو ملک توڑتے آئے ہو اب بس کردو۔ علی حسن، جنوبی افریقہ: پاکستان میڈیا نے جو کردار 1971 میں بنگالیوں کے خلاف پاکستانی فوجی آپریشن کے دوران ادا کیا، بلوچستان کے حوالے سے بھی ان کا کردار وہی ہے۔ کیونکہ پاکستانی میڈیا ہمیشہ سے پاکستانی فوج کے زیرِ اثر رہا ہے۔ معمولی خبر چھاپنے کے لیے بھی پریس والوں کو فوج سے اجازت لینا ہو گی۔ جہاں سب کچھ فوج ہو اورسارے ادارے فوج کے زیرِاثر ہوں تو اس ملک میں آپ پریس سے یا عدالتوں سے کیا توقع کر سکتے ہیں۔ پاکستان جھوٹ پر قائم ہے۔ احتشام فیصل چودھری، شارجہ، یو اے ای:: پریس کانفرنس کرنے والے بھی عجیب لوگ ہیں۔ جو واقعات یہ لوگ کہ رہے ہیں اگر میڈیا نے رپورٹ نہیں کیے تو اس کا مطلب ہے کہ ایسے واقعات وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے ہوں گی۔ میرے خیال میں میڈیا نے افغانستان تو کیا، کالاباغ، کشمیر کا زلزلہ، وزیرستان کی کاروائی اور بلوچ شر پسندی کے حوالے سے جو دیکھا وہ رپورٹ کیا۔ دباؤ ملکی میڈیا پر تو ہو سکتا ہے لیکن بیرونی میڈیا پر نہیں۔ سباح بلوچ، بلوچستان، پاکستان: پاکستان بنا تھا پنجابیوں کے لیے یہاں ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق ہو رہی ہے۔ یہاں جو آرمی ہے وہ پاکستان کی نہیں بلکہ یہاں پاکستان اور اس کے تمام ادارے آرمی کے ہیں۔ آپ یہاں میڈیا اور اس کے کردار کی بات کرتے ہیں یہاں تو عدالتیں بھی آزاد نہیں ہیں۔ مجال ہے کوئی عدالت آئی ایس آئی کی مرضی کے خلاف فیصلہ دے۔ اگر پاکستان میں عدالتیں اور میڈیا آزاد ہوتا تو آج بلوچی علیحدہ ملک کا مطالبہ نہ کرتے۔ یہ سب کچھ اسی لیے ہو رہا ہے کہ 57 سال گزرنے کے باوجود ان کے مسئلوں کو میڈیا کے ذریعے سامنے نہیں لایا گیا اور ان کو پاکستانی عدالتوں نے انصاف نہیں دیا۔
 | میڈیا بھی سرمایہ کاری ہے  پاکستان میں جن لوگوں نے میڈیا میں سرمایہ کاری کی ہے ان کا مقصد سچ چھاپنا نہیں ہے بلکہ پیسہ کمانا ہے۔ جس ملک میں حکمران زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کو چھپائیں وہاں ملک میں آپریشن سے ہونے والی ہلاکتوں کو کس طرح میڈیا پر آنے دیا جا سکتا ہے۔ آج تک آرمی آپریشن میں جتنے بلوچ ’شہید‘ کیے جا چکے ہیں ان کے بارے میں آج نہیں لیکن کل ضرور معلوم ہو گا۔ جو آرمی والے اور ایف سی والے مارے جا رہے ہیں اگر ان کی ہلاکتوں کے بارے میں صحیح رپورٹ میڈیا میں آ جائیں تو باقی فورس والے یا تو آرمی چھوڑ کر بھاگ جائیں گی یا پھر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاییں گی۔  غورف بلوچ، بلوچستان، پاکستان |
غورف بلوچ، بلوچستان، پاکستان: پاکستان میں جن لوگوں نے میڈیا میں سرمایہ کاری کی ہے ان کا مقصد سچ چھاپنا نہیں ہے بلکہ پیسہ کمانا ہے۔ جس ملک میں حکمران زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کو چھپائیں وہاں ملک میں آپریشن سے ہونے والی ہلاکتوں کو کس طرح میڈیا پر آنے دیا جا سکتا ہے۔ آج تک آرمی آپریشن میں جتنے بلوچ ’شہید‘ کیے جا چکے ہیں ان کے بارے میں آج نہیں لیکن کل ضرور معلوم ہو گا۔ جو آرمی والے اور ایف سی والے مارے جا رہے ہیں اگر ان کی ہلاکتوں کے بارے میں صحیح رپورٹ میڈیا میں آ جائیں تو باقی فورس والے یا تو آرمی چھوڑ کر بھاگ جائیں گی یا پھر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاییں گی۔ محمد فراز، کراچی، پاکستان: محافظِ ملک نے دبا رکھا سب مال مرکز میں ہمارا خون نیلام ہوا ہر ایک سال مرکز میں یقیناًٰ دیس تو تسلیم ہوں گے ہر زمانے میں کبھی بنگال، کبھی سندھو تو کبھی بلوچستان مرکز میں پاکستان میں ایک ہی سچائی ہے آرمی پھر امریکہ اور آخر میں اللہ بھی آ ہی جاتا ہوگا۔ میڈیا اس وقت تک کچھ نہیں کہے گا جب تک جی ایچ کیو آرڈر نہیں دے گا۔ بلخ شاہوانی، یو کے: میرے خیال میں پاکستان میں پچانوے فیصد میڈیا رپورٹ پنجابیوں کے متعلق ہوتی ہیں اور وہ آئی ایس آئی اور دوسرے پاکستانی فوجی اداروں کے زیرِاثر ہوتی ہیں۔ ہم کس طرح بلوچی قوم کے متعلق صحیح رپورٹنگ کر سکتے ہیں؟ جو کچھ ان جرنیلوں نے معصوم بنگالی کے ساتھ کیا، کیا پاکستانی رپورٹوں نے ان کی صحیح عکاسی کی؟ ویداد بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: پاکستان میڈیا کا بلوچستان آپریشن کے حوالے سے جو کردار ہے وہ پاکستان کے اپنے حق میں بھی نہیں ہے اگر صحیح رپورٹنگ کریں تو پاکستان کی عوام آپریشن کے بارے میں بہتر رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اور وہ بلوچستان کے اصل مسئلے کو صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اگر میڈیا نے غفلت کا مظاہرہ کیا تو بلوچستان کے لوگ فوج کے مظالم سے تنگ آ کر ایک الگ ریاست کا مطالبہ شدت کے ساتھ کریں گے پھر نہ تو یہ غیرفطری ملک رہے گا اور نہ ہی یہ اندھا میڈیا۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ آپریشن زدہ علاقوں میں جا کر فوج کی نقصانات اور جوانوں کی لاشیں اور معصوم لوگو ں کی لاشیں دیکھیں تاکہ پاکستانی عوام کے سامنے پاکستانی فوج کے کرتوت بےنقاب ہوں۔ مقبول بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: بلوچ قوم پر پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے یہ پہلا فوجی آپریش نہیں ہے۔ بلکہ اس سے قبل بھی بلوچ قوم پر کئی خون ریز فوجی آپریشن ہو چکے ہیں۔ ہزاروں بلوچ شہید ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستانی حاکم بلوچ سرزمین کو فتح نہیں کر سکے۔ ایران سے حاصل کردہ کوبرا ہیلیکاپٹر بھی بلوچ قوم پر استعمال کیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ اس سے قبل بھی بلوچ قوم کے خلاف نسل کش آپریشن کیا گیا۔ لیکن کوبرہ ہیلیکاپٹروں کا مقابلہ بلوچ قوم نے روایتی بندوقوں سے کیا اور سر زمین کا دفاع کیا ہے۔ بلوچ اس مرتبہ اپنے اوپر مسلط کردہ جنگ جیت لیں گے اور بلوچ سر زمین آزاد ہو گی۔ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی، یو اے ای: میرے خیال میں دنیا میں میڈیا کی کوریج درست ہوتی ہے لیکن اس میں ضرورت کے تحت ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔ حکومتوں کے آنے جانے سے بھی بہت فرق پڑتا ہے۔ اب تو شکر ہے کہ صحافت آزاد ہے ورنہ وہ وقت بھی یاد ہے ضیاء صاحب کی زمانے جب پورے پورے صفحات سادہ اور سفید ہوا کرتے تھے۔ شاہ شفیق پرویز، اٹک، پاکستان: ہمارے ملک میں صحافت برسرِاقتدار ٹولے کی لونڈی ہے۔ صحافت تب بولتی ہے جب بی بی سی جیسا آزاد میڈیا بولنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ محمد طاہر بلوچ، بلوچستان، پاکستان: بلوچستان کو 1948 میں بازورِشمشیر پاکستان کا حصہ بنایا گیا۔ بلوچستان نہ تو ملک کا حصہ ہے اور نہ ہی رہے گا۔ لوگوں کےلہو ضرور رنگ لائیں گے اور بلوچ ملک سے علیحدہ ہو گا۔ بلوچ ایک آزاد اور خودمختار ملک کے مالک ہوں گے۔ پاکستان کا میڈیا مکمل طور پر زیرِاثر ہے اس لیے حکومت کے خلاف سچ کو لکھنے کی جرات نہیں کر سکتا ہے۔ قنبر بلوچ، پاکستان: اقوام متحدہ کے ممبر ہونے کا دعویدار گزشتہ نصف صدی سے بلوچ قوم کے مدنی وسائل کو ہڑپ کر رہا ہے۔ انٹرنیشنل سطح پر کشمیری مجاہدین کی عسکری کاروائیوں کو جدوجہدِ آزادی قرار دے کر کشمیر کی وکالت کرتا ہے۔ لیکن بلوچ قوم کو بندوق کے زور پر خاموش کر رہا ہے۔ بلوچ قوم اقوامِ متحدہ کی قانون کے دائرے میں رہ کر قومی ’آزادی کی جنگ‘ لڑ رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو بلوچ قوم کی آزاد ریاست کو تسلیم کرنا ہو گا۔ ورنہ بلوچ قوم بندوق اور انٹرنیشنل قوانین کا سہارا لے کر اپنی آزاد ریاست کا قیام یقینی بنائیں گی۔ فاروق جان، لورالائی، پاکستان: پاکستان میں میڈیا کی آزادی برائے نام ہے۔ میڈیا مکمل طور پر پاکستانی ایجنسیوں اور حکومت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ لیکن بی بی سی کو تہہِ دل سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ جو غیر جانب انداز سے رپورٹنگ کر رہا ہے۔ حق بات پر زبان کٹتی ہے تو کٹنے دو، مگر غدار کو غدار ہی کہیں گے۔  | میڈیا صحیح پورٹ نہیں کر رہا  پاکستان میں مشرف نے میڈیا کو بلوچستان کے مسئلے کی صحیح رپورٹنگ کرنے سے روک دیا ہے۔ ہم نے ڈیرہ بگٹی اور اب کوہلو میں واقعات دیکھے جہاں مقامی شہریوں کو ہلاک کیاگیا لیکن کسی صحافی کی جرات نہیں ہوئی کہ رپورٹ کرے۔ سندھی اخبار اور کچھ نئی قائم ہونی والی بلوچ ایجنسیوں نے صحیح واقعات کی نشاندہی کی لیکن ان پر بھی فوجی حکومت کا سخت پریشر ہے۔ مصلح تصادم کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بھی رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ علی اصغر بنگلزئی، ڈاکٹر اللہ نظر، ڈاکٹر حنیف شریف اور سینکڑوں نوجوان بلوچ اغواء ہوئے اور کوئی ان کے بارے میں نہیں جانتا۔ میڈیا اس مسئلے پر خاموش ہے۔  سالار بلوچ، کوئٹہ، پاکستان |
سالار بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: پاکستان میں مشرف نے میڈیا کو بلوچستان کے مسئلے کی صحیح رپورٹنگ کرنے سے روک دیا ہے۔ ہم نے ڈیرہ بگٹی اور اب کوہلو میں واقعات دیکھے جہاں مقامی شہریوں کو ہلاک کیاگیا لیکن کسی صحافی کی جرات نہیں ہوئی کہ رپورٹ کرے۔ سندھی اخبار اور کچھ نئی قائم ہونی والی بلوچ ایجنسیوں نے صحیح واقعات کی نشاندہی کی لیکن ان پر بھی فوجی حکومت کا سخت پریشر ہے۔ مصلح تصادم کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بھی رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ علی اصغر بنگلزئی، ڈاکٹر اللہ نظر، ڈاکٹر حنیف شریف اور سینکڑوں نوجوان بلوچ اغواء ہوئے اور کوئی ان کے بارے میں نہیں جانتا۔ میڈیا اس مسئلے پر خاموش ہے۔ شریف خان، پاکستان: پاکستان کی حکومت جو بھی اس وقت بلوچستان اور وزیرستان میں کر رہی ہے وہ اپنا اورپاکستان کا نقصان کر رہی ہے۔ اپنا ملک اور اپنی ہی بربادی یہ کون سا انصاف ہے۔ یہ تو سرا سر زیادتی ہے، ظلم ہے۔ اپنے لوگوں کو مارنا اپنے ملک میں نفرت پیدا کرنا کہیں یہ نہ ہوکہ پاکستان کے چار صوبے چار ملک بن جائیں۔ شارین خان بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: بلوچ قوم سیاسی مقاصد کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اگر کسی کو طاقت کے بل بوتے پر فتح کیا جا سکتا ہے تو فلسطینی قوم اتنے وقت تک اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ نہ کر سکتی۔ بندوق کے زور پر کسی کو اپن حقوق سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بلوچ مسئلے پر پاکستانی میڈیا کی مکمل خاموشی بھی بلوچ قوم کے خلاف پاکستانی جارحیت کا ایک اور نشان ہے۔ اس اکیسویں صدی میں کسی کو غلام نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ بلوچ قوم بہت جلد ایک آزاد اور خودمختار ملک کی مالک ہو گی۔ جس پر بلوچ قوم خود راج کرے گی۔ بجار بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: سچ جنگ کا پہلا نشانہ ہوتا ہے اس لیے ہمیشہ جنگ کے دوران میڈیا پر پریشر رہتا ہے۔ پریس کبھی بھی فوجی اور غیر جمہوری حکومت میں آزاد نہیں ہوتا۔ پاکستان میں بھی یہی وجہ ہے، ہم کس طرح امید کر سکتے ہیں کہ وردی میں ایک شخص پریس کو اجازت دے گاکہ وہ اس علاقے میں جائیں جہاں فوجی آپریشن ہو رہا ہے اور دونوں طرف جو لوگ مر رہے ہیں ان کا تعلق ایک ہی فیڈریشن سے ہے۔ اس لیے میرے خیال میں پریس حکومت پاکستان کے پریشر میں ہے اور صحیح رپورٹنگ نہیں کر رہی۔ وہاب اعجاز، پاکستان: میرے وطن کا خدا حافظ، جس ملک میں اپنوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے وہ ملک کچھ دنوں میں ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ جس ملک کا نظریہ ختم ہو جاتا ہے وہاں لوگ اس طرح سے کہتے ہیں۔ اگر میڈیا خبر دے بھی دے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ مردہ قومیں اپنی تباہی کا تماشہ دیکھتی ہیں۔ محمد عمران، یو کے: جب تک پاکستان کو کنفیڈریشن نہیں بنا دیا جاتا یہ مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ اس حقیقت کو ماننا چاہیے کہ پاکستان یو کے کی طرح چار ملکوں کی یونین ہے۔ قادر قریشی، ٹورانٹو، کینیڈا: پاکستانی صحافیوں کے پاس ایسے ایسے راز ہیں کہ ملک حیران رہ جائے، ذرا تحفظ تو فراہم کریں۔ کریم خان، کینیڈا: بلوچستان تو پھر بھی تھوڑا بہت خبروں میں رہتا ہے لیکن لگتا ہے وزیرستان پر لکھنا تو جرم ہے۔ وزیرستان میں فوج کی دہشتگردی کو اگر میڈیا لوگوں تک پہنچاتی تو شاید بلوچستان میں کارروائی سے پہلے فوج ضرور سوچتی۔ معلوم نہیں میڈیا کی ایسی کون سی مجبوری ہے جو کہ اکثر فوج کی بھاشا بولتا ہے۔ آج اگر میڈیا اپنا کردار نہیں نبھاتا تو ہم سوچتے ہیں کہ وہ بھی شریکِ جرم ہے۔ میڈیا سے ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ اپنے صحافی حیات اللہ کے بارے میں چپ ہے۔ عمران بلوچ، یو کے: میری ذاتی رائے یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا نے بلوچستان کے مسئلے کو بلکل نظر انداز کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا اندھا ہے اسے بلوچستان کی عوام پر ہونے والے ظلم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے کیونکہ ظلم کو ڈھک کر اس پر خاموش رہنا اس سے بھی بڑا ظلم ہے۔ راشد علی، امریکہ: پاکستان میں میڈیا کو فوج کنٹرول کرتی ہے۔ اس کی مثال جنگ گروپ ہے جس نے آمروں کا ساتھ دے کر بلین روپے بنائے ہیں۔جنگ والے ایک پیسہ بھی ٹیکس نہیں دیتے، لہذا سچ نہیں لکھ سکتے۔ پاکستان میں ڈان اور نوائےوقت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے لیکن ان پر بھی ہمیشہ پریشر ہوتا ہے کہ سچ نہ لکھیں۔ راجہ یونس، سعودی عرب: لگتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ ان حالات میں حکومت کو بہت سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہیے۔ اہلِ وطن کو دشمن کی صفوں میں شامل کر لینا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے تو بی بی سی نے شاید سب سے زیادہ اس بارے میں لکھا اور اور سنایا ہے اور اسی وجہ سے صحیح صورتحال سامنے آئی ہے۔ پاکستانی میڈیا کو تو تماشوں سے فرصت نہیں ہے۔ پانی کے مسئلے کو اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا ہے کہ ہر چیز پس منظر میں چلی گئی ہے۔ یہ صورتحال کسی طرح بھی ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس کو فوری طور پر حتم کیا جائے اور اگر مسئلہ اتنا ہی گھمبیر ہے جتنا حکومت کا میڈیا کہتا ہے تو ڈائیلاگ کا راستہ اپنایا جائے۔ ورنہ حالات کسی اچھی طرف نہیں جا رہے ہیں۔ بلوچ مینگل، پاکستان: یہ بلکل صحیح ہے کہ میڈیا بلوچستان میں فوجی آپریشن کو رپورٹ نہیں کر رہا۔ پاکستان کا پی ٹی وی چینل مشرف سے شروع ہوتا ہے اور مشرف پر ہی ختم ہوتا ہے، جیو ٹی وی انڈین سیلیبریٹیز کو دکھاتا رہتا ہے اور بلوچستان کے نام کا بھی ذکر نہیں کرتا۔ ادھر میں یہ کہوں گا کہ میڈیا بلوچستان سے زیادتی کر رہا ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: میں سمجھتا ہوں کہ اس حساس علاقے میں بھی میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چا ہیے اور انہیں چاہیے کہ وہ لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کریں۔ کوہلو کے حالات انتہائی خراب ہیں اور میرے خیال میں ہلاکتیں کہیں زیادہ ہو چکی ہیں۔ میڈیا کو صرف اسلام آباد پر ہی نظر نہیں رکھنی چاہیے۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: پاکستانی میڈیا پر تنقید سو فیصد بجا ہے۔ لیکن یہاں ایک بات افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ پاکستانی میڈیا سرکار کے ہاتھوں یرغمال اور مجبور ہے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ یہاں میڈیا کھل کر دنیا کو اپنی بات بتا سکتا ہے اور آزاد ہے، سراسر ڈھونگ اور سفید جھوٹ ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ مقامی، قومی اور انٹرنیشنل میڈیا کو حکومت نے بے بس کر رکھا ہے۔ اس لیے انہیں اس کوتاہی کا 100 فیصد ذمہ دار نہیں قرار دینا چاہیے۔ عبدل ستار، اومان: زیادہ تر صحافی آئی ایس آئی کے لیے کام کرتے ہیں، وہ فوج کے خلاف کس طرح رپورٹنگ کر سکتے ہیں۔ اسحاق ملک، ملتان، پاکستان: بی بی سی اور بلوچ رہناؤں نے دلاور خان وزیر کا حال تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جو وزیرستان کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کر رہے تھے، حتی کہ ان کی گھر کو بھی نہیں بخشا گیا اور بم سے نشانہ بنایا گیا۔ بی بی سی اور بلوچی رہنما ان واقعات سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سچ کی رپورٹنگ اور وہ بھی پاکستان کی فوجی حکومت کے دور میں ہتھیلی پر سرسوں جمنے والی بات ہے۔ اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ، اس لیے جان پہلے اور رپوٹنگ بعد کی بات ہے۔ بلوچ رہنماوں کی تنقید بہرحال صحیح مگر جان بچانا بھی تو فرض ہے۔ نغمانہ نیازی، اسلام آباد، پاکستان: مقامی میڈیا سو جتن کرے، صحیح لکھے، سنائے مگر حکومت کا پرنالہ وہیں بہے گا۔ جس طرح زلزلے میں ہزاروں لوگ مر گئے مگر نیشنل میڈیا میں 70000 ہی رہے۔ بقولِ شاعر آسمانوں سے جو فرشتے اتارے جائیں وہ بھی سچ بولیں تو مارے جائیں آزاد عبدلرحیم، جعفرآباد، پاکستان: یہ سب کچھ صرف اور صرف گوادر پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے تا کہ وہاں پر کوئی آواز نہ اٹھا سکے۔ جو سردار اپنے آپ کو بیچے گا وہ ناظم بنا دیا جائے گا، جو مزاحمت کرے گا یا بات نہیں مانے گا اس کو آپریشن کے ذریعے دبایا جائے گا۔ اب ہم بلوچ جائیں تو کہاں جائیں، اب مزاحمت کے سوا کچھ نہیں۔ جنگ تو اس وقت شروع ہو گی جب آپریشن ختم ہو گا۔ پنجاب اور پنجابی نسل کے خلاف اور بھی زیادہ نفرت پیدا ہو گی۔ وہی کچھ ہو گا جو مشرقی پاکستان میں ہوا، صرف یہ فرق ہو گا کہ وہ آزاد ہو گئے اور بلوچ مزاحمت کرتے رہیں گے۔ بلوچ بھی ریڈ انڈین ہو جائے گا اپنی ہی سرزمین پر۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: پنڈی میں صدر صاحب پر حملہ ہوا تو انہوں نے ادھر تو کوئی بمباری نہیں کی۔ اسی طرح کے واقعات ملک کے دوسرے حصوں میں بھی واقعات ہوتے رہتے ہیں، بلوچستان میں کچھ ہو تو وہ ملک دشمنی میں آتا ہے۔ عبدل جلیل رندھ، یو اے ای: بلوچوں کو ہر لحاظ سے دبایا جا رہا ہے۔ بلوچیوں کی موت پر پنجابی حکمران خوشیاں مناتے ہیں۔ میڈیا کہا ں سے آئے گا وہ بھی پنجاب کا ہے۔ بلوچوں کو حقوق مانگنے آتے ہیں۔ عادل، امریکہ: میڈیا والوں کو بھی جان پیاری ہے۔ ان کی بھی عزت و آبرو ہے، بیوی بچوں والے ہوتے ہیں۔ یہ پاکستان ہے یہاں دن دیاڑے وزیرِعظم کا بھائی قتل ہو جاتا ہے اور فرشتوں کو بھی پتا نہیں لگتا، تو یہ میڈیا والے کس کھیت کی مولی ہیں جو سچ بولیں۔ یاد ہے نا اس صحافی کو جنرل صاحب نے کیسا ڈانٹا تھا جس نے پوچھا تھا کہ امداد میں ملنے والے ڈالر بھی جنرل تو نہیں کھا جائیں گے؟ پتا کریں بیچارہ زندہ ہے۔ نجیب اللہ مری بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: بنگلہ دیشی لوگوں کو بھی دشمن اور دہشت گرد کہا جاتا رہا جب وہ اپنے ملک کی آزادی کے لیے لڑ رہے تھے۔ بلوچوں کے ساتھ بھی بنگلہ دیش والا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ظلم اپنی تمام حدیں پار کرتی ہے تو آزادی کی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ بلوچستان میں بلکل وہی ہو رہا ہے۔ وضح وطن، کوئٹہ، پاکستان: بلوچ سر زمین پر پاکستانی ہیلیکاپٹرز، فوجی جیٹ طیارے، کوبرا ہیلیکاپٹر اور بھاری فورسز حصہ لے رہی ہیں۔ بلوچوں کو 1948 سے ابھی تک گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی ان کو تخریبکار تو کبھی ان کو شرپسند تو کبھی ملک دشمن کا لیبل لگایا جاتا رہا ہے۔ بلوچ اپنے اوپر روا رکھے 58 سالہ ظلم زیادتیوں کے خلاف مسلح جدوجہد پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اب آزادی کی آواز جگہ جگہ اٹھتی سنائی دیتی ہے جو کہ پاکستان کی سالمیت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ آصف محمود میاں، لاہور، پاکستان: ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے حوالے سے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ بہت سے صحافیوں نے زلزلے کے بارے میں خبریں دیں تو پاکستان آرمی کو نوٹ کرنا ضروری ہو گیا۔ کبھی کسی کی کار کو آگ لگی اور کبھی کسی کے گھر یا سکول کے نزدیک بلاسٹ ہو گیا۔ صحافی بھی انسان ہوتے ہیں، ڈر گئے ہوں گے۔ بہر حال یہ بھی ان کی ہمت ہے کہ کچھ نہ کچھ خبر نکال دیتے ہیں۔ پاکستان تو کیا امریکہ میں بھی مڈیا کنٹرولڈ ہے جو غلط ہے۔ |