پاکستانی کارٹون: آزادی کی آزمائش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ان دنوں ایک ایسے کارٹون بہت سراہا جا رہا ہے جس میں صدر بش اور صدر مشرف کے تعلقات کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ال ہی میں صدر بش کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والی نیوز کانفرنس کا مذاق ’بش اور مش شو‘ کہہ کر اڑایا گیا اور اس کا بڑا چرچا ہے۔ اور اس کی پنچ لائین، جس پر ہر جگہ بات ہو رہی ہے یہ ہے کے صدر بش نے صدر مشرف کی جمہوری حیثیت کے بارے میں تشویش کو یوں ہی سرسری اڑا دیا۔ یہ طنز و مزاح پُرجوش اور بے قابو جذبات کا اظہار ہے۔ بلا شبہ صدر مشرف کا دعویٰ ہے کہ ایک فوجی ہوتے ہوئے بھی انہوں نے پریس کو آزاد کیا ہے۔ لیکن کیا اس میں سچائی بھی اتنی ہی ہے؟
صدر مشرف ذرائع ابلاغ کی جس آزادی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اتنی تو ہے کہ اس رہنما کی سچ مچ کی پریس کانفرنس کا مذاق اڑایا جا سکتا ہے۔ ٹیلی ویژن جرنلزم کی ہوا بھی یقیناً انہیں کے دور میں چلی ہے۔’آج‘ ٹی وی چینل جو خاص طور پر خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں کی وجہ سے پہنچانا جاتا ہے، اپنی پہلی سالگرہ منانے والا ہے۔ کچھ رکاوٹیں تو اب بھی ہیں لیکن ہوا کے دوش پر ان دو درجن سے زیادہ ٹی وی چینلوں کی نشریات کا ہجوم ہے جو اپنے ناظرین کا حلقہ وسیع سے وسیع تر کرنے کے لیے نئی نئی سیاسی بحثیں اور تنقید پر مبنی پروگرم پیش کرتےہیں لیکن ’آج‘ کے حالاتِ حاضرہ کے ڈائریکٹر طلعت حسین صدر مشرف کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے: ’بلاشبہ مشرف نے ہمیں لائسنس دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ سب پرائیویٹ چینل دکھائی بھی دے رہے ہیں لیکن جہاں تک روایتی معنوں سنجیدہ تنقیدی صحافت کا تعلق ہے تو پاکستان کے اخبارات و جرائد یعنی پرنٹ میڈیا میں پہلے بھی ہوتی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستانی پریس آمرانہ حکومتوں سے ٹکرانے کی ایک پوری تاریخ رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خطرے کی تلوار بھی لٹکتی رہی ہے اور اب بھی نئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ پاکستانی صحافیوں نے حال ہی میں پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے اپنے ایک ساتھی سےاظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالیں۔ یہ صحافی تین ماہ قبل لاقانونیت سے عبارت قبائلی علاقے میں لاپتہ ہو گئے تھے اور اب تک ان کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے امریکہ کے بقول ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں محاذِ اوّل کی حیثیت حاصل ہے۔
احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی شہادتیں ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ لاپتہ صحافی کو انٹیلیجنس ایجنٹوں نے اغواء کیا لیکن حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں صحافیوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا اور ان سے کچھ مارے جا چکے ہیں اور کچھ بھاگ گئے ہیں۔ صالح مسعود مقامی صحافیوں کی ایک یونین کے عہدے دار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’قبائلی علاقوں میں صحافت بالکل مفلوج ہو چکی ہے۔ ہم اسلامی شدت پسندوں، قبائلی بزرگوں اور حکومت ہی کا نہیں ہر اس کا نشانہ بھی ہیں جسے ہماری رپورٹ پسند نہیں آتی۔ ان مشکلات کے باوجود پریس خبریں دینے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بارے میں آزاد خیال اخبار روزنامہ ڈان کے اسلام آباد کے ایڈیٹر محمد ضیاالدین کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں آزادی ہے بھی وہاں بھی اس کا دائرہ محدود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’ذرائع ابلاغ کے با اثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سماجی کنٹرول کے دوسرے دو ادارے بھی یکساں طور پر آزاد ہوں۔ اور یہ ادارے ہیں پارلیمنٹ اور عدلیہ‘۔
ان کے مطابق’اس وقت یہ دونوں ادارے بہت کمزور ہیں اور فوج کے انگوٹھے کے نیچے دبے ہوئے کام کر رہے ہیں‘۔ ’سو اس وقت ہم اس طرح کام کر رہے ہیں کہ ہم جو دیکھیں وہ رپورٹ کر دیں لیکن کیا اس سے کچھ فرق پڑتا ہے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا‘۔ بظاہر دوسرے کئی ملکوں کے برخلاف پاکستان میں پریس آزاد ہے اور اس کے پاس اظہار کے زیادہ ذرائع ہیں لیکن آزادی اتنی بھی نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے برا15 November, 2005 | پاکستان کراچی میں آزادی صحافت ریلی09 August, 2005 | پاکستان جس دن صحافیوں کو کوڑے مارے گئے12 May, 2005 | پاکستان ’صحافت آج بھی قید ہے‘12 May, 2005 | پاکستان مذہبی آزادی پر تشویش مسترد12 May, 2005 | پاکستان ’آزادی صحافت کے دعوے ڈھونگ‘02 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||