BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 March, 2006, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی

یٰسین گوریجہ
یٰسین گوریجہ پاکستان کی چلتی پھرتی فلمی تاریخ تھے۔
جس معاشرے میں فلم کو ایک آرٹ کا درجہ نصیب نہ ہوا ہو اُس میں فلمی صحافی کو اگر ایک معزّز مقام نہ ملے تو اس میں حیرت کی بات نہیں لیکن ستائش کی تمنا اور صلے کے پروا کیئے بغیر بھی کچھ لوگ اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ پاکستان کی فلمی صحافت میں یٰسین گریجہ مرحوم ایسا ہی معزز نام ہیں۔

فلمی صحافت سے اُن کا تعلق قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا لیکن اُن کا دائرہ کار ایکٹرسوں کے سکینڈل تلاش کرنے یا کسی ہیرو کے تازہ ترین معاشقے کا کھوج لگانے سے بالکل مختلف تھا اور وہ فلمی دنیا کے ایک ایسے وقائع نگار بن گئے تھے جِن کے لکھے ہوئے روزنامچے مستقبل کے فلمی مورّخ کے لئے مستند اور موقّر ترین مواد فراہم کریں گے۔

1966 میں انہوں نے پاکستان کی فلمی ڈائری مرتب کرنی شروع کی جو ایک طرح سے پاکستانی فلمی صنعت کی Year Book ہوتی تھی اور اس میں یہاں کی فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والےہر شخص اور ادارے کا نام، پتہ اور فون نمبر موجود ہوتا تھا۔ سال بھر کے دوران بننے والی فلموں کی فہرست اور ہر فلم کی ضروری تفصیل بھی اُس میں درج ہوتی تھی۔ اس کی سالانہ اشاعت میں کئی بار رخنہ بھی پڑا لیکن زود یا بدیر اسکا نیا ایڈیشن ضرور شائع ہو جاتا تھا۔

یٰسین گوریجہ، طفیل اختر اور بہار

کچھ عرصہ بعد یٰسین گوریجہ نے 1947 سے لیکر تاحال بننے والی تمام فلموں کی تفصیل جمع کر لی اور اسے اپنی ڈائریکٹری میں شائع کیا۔ بعد کے ایڈیشنوں میں انھوں نے قیامِ پاکستان سے پہلے بننے والی فلموں کی تفصیل بھی اکھٹی کر لی اور اس طرح ڈائریکٹری کے موجودہ ایڈیشن میں 1913 میں بننے والی ہندوستان کی اوّلین فلم سے لیکر 1947 تک بننے والی تمام انڈین فلموں کی تفصیل درج ہے جبکہ 1947 کے بعد صرف پاکستانی فلموں کا احوال ہے جو کہ دسمبر 2002 تک چلتا ہے۔

اس ڈائریکٹری کے علاوہ یٰسین گوریجہ نے ہفت روزہ نگار میں اپنی فلمی یادیں تحریر کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا جو بعد میں کتابی شکل میں ڈھل گیا اور ’لکشمی چوک‘ کے نام سے میّسر ہے۔ اس میں پاکستان کی فلمی تاریخ کے بہت سے اہم واقعات درج ہیں جوکہ مُصنّف نے چشم دید صورت میں رقم کئے ہیں۔ نورجہاں کی زندگی اور فن پر اُن کی کتاب کسی تعارف کی محتاج نہیں اور فلمی حلقوں سے باہر بھی داد وصول کر چکی ہے۔

یٰسین گوریجہ یقیناً پاکستان کی چلتی پھرتی فلمی تاریخ تھے۔ آخری عمر تک حافظہ اتنا شاندار تھا کہ کسی بھی پرانی فلم کا سنِ تکمیل یا کاسٹ کی تفصیل وہ زبانی بتا دیتے تھے۔

’سیپوں میں پڑی بوندیں‘ کا سرورق

اُن کے پاس پرانی فلمی تصویروں اور پوسٹروں کا بہت بڑا خزانہ تھا۔ پچھلے برس جاپان سے ایک ٹیم آئی جو پوسٹروں کے فن پر ایک دستاویزی فلم بنا رہی تھی۔ یٰسین گوریجہ کے دفتر میں نایاب پوسٹروں کا ڈھیر دیکھ کر وہ سب لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ ٹیم کی لیڈر خاتون نے گوریجہ مرحوم سے اجازت لی کہ اُن کی کتاب ’لکشمی چوک‘ کا انگریزی اور جاپانی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے اور باہر کی دنیا کو یہاں کی گمنام فلم انڈسٹری سے متعارف کرایا جائے۔

دو ماہ قبل اس دارِ فانی سے کوچ کر جانے والے یٰسین گوریجہ کو ہم اُن کی زندگی کے دوران وہ مقام و مرتبہ نہ دے سکے جس کے وہ مستحق تھے۔ یٰسین گوریجہ نے تحقیق و تصنیف کے بہت سے منصوبے شروع کر رکھے تھے جن کی تکمیل کے لئے اِس وقت سب کی نگاہیں طفیل اختر پہ لگی ہیں جسے یٰسین گوریجہ مرحوم نے علٰی الاعلان اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔

 زندگی ایکٹرس کی طرح ہزار روپ دھارتی ہے۔ رنگ بدلنا اور رُوپ دھارنا زندگی کی مجبوری ہے مگر اُسکی چالاکی مجھے دام میں نہیں لا سکی ۔۔۔ میں اسکا میک اپ نوچ کر اسے ہمیشہ حقیقت کے رنگ میں دیکھتا ہوں۔
طفیل اختر

طفیل اختر اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کی تحریر و تصنیف کو ان کی زندگی ہی میں خراجِ تحسین مِل گیا ہے اور اس خراج کا نام ہے’سیپوں میں پڑی بوندیں‘۔ طفیل اختر کے فن اور شخصیت پر یہ کتاب ملک شاہ زاد صدیق نے مرتب کی ہے جس کا دیباچہ ان لفظوں سے شروع ہوتا ہے کہ ’یہاں لوگوں کی اکثریت قبر پرست ہے، بڑے بڑے ہیرو جب تک زندہ ہوتے ہیں لوگ اُن کی اہمیت اور عظمت کو نہیں جان سکتے۔ وہ بے قدری اور بے مروتی کا شکار رہتے ہیں اور جب مر جاتے ہیں تو اُن کی یاد میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، مضامین اور کالم لکھے جاتےہیں، کتابیں چھاپی جاتی ہیں اور خراج ہائے عقیدت پیش کئے جاتے ہیں۔‘

طفیل اختر کے کام پر قلم اٹھاتے ہوئے ملک شاہ زاد نے قصیدہ گوئی سے اجتناب کیا ہے کیونکہ زیرِ قلم شخصیت کوئی جاگیردار، نواب یا بیوروکریٹ نہیں ہے بلکہ اپنے کام میں مست ایک درویش صفت انسان ہے جو اپنے روحانی اُستاد یٰسین گوریجہ کی طرح نہ تو سکینڈل بازی اور بلیک میلنگ کی صحافت میں یقین رکھتا ہے اور نہ ہی فلمی وڈیروں کی کاسہ لیسی کو شعار بناتا ہے۔

’سیپوں میں پڑی بوندیں‘ کے مصنف

مصنف نے طفیل اختر کی صحافتی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اُن چودہ فلمی و ادبی جرائد کا ذکر کیا ہے جن کی اِدارت سے طفیل اختر کا تعلق رہا ہے، پھر اُن 23 ایوارڈوں کی تفصیل دی ہے جو مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے اب تک طفیل اختر کو ملے ہیں، بعد ازاں طفیل اختر کی اپنی 22 تصنیفات کا ذکر ہے جن کا دائرہ کار سوانح عمری اور خاکہ نگاری سے لیکر اسٹیج ڈراموں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس مفصل تذکرے میں ایک چیز کی کمی بہت کھٹکتی ہے۔ شاید کتاب کے نوجوان مرّتب اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں کہ 1970 کی دہائی میں طفیل اختر ریڈیو پاکستان کے لئے ڈرامے اور فیچر لکھتے رہے ہیں اور ان کی نشری تحریریں بھی ایک الگ شان رکھتی تھیں۔

کتاب کا بیشتر حصّہ اُن مشاہیرِ فلم و ادب کی تحریروں سے مزیّن ہے جنھوں نے مختلف موقعوں پر طفیل اختر کو نذرانۂ عقیدت پیش کیا تھا۔ ان کے علاوہ طفیل اختر کے نام لکھے گئے مشاہیرِ ادب و صحافت کے خطوط کا عکس بھی شامِلِ کتاب ہے۔

مکتوب نگاروں میں قتیل شفائی، احمد راہی، حمید اختر اور گلزار سے لیکر بشیر نیاز، حسن نثار، یوسف خان اور بشریٰ رحمان تک کئی فلمی، علمی اور ادبی ہیوی ویٹ شامل ہیں۔

جب اتنے بہت سے لوگ طفیل اختر کے بارے میں اتنا کچھ لکھ چکے ہیں تو شاہ زاد صدیق نے اس سوانحی ادب میں مزید ایک کتاب کا اضافہ کیوں ضروری سمجھا؟ اسکا جواب خود شاہ زاد یوں دیتے ہیں: مفاد پرستی، غرض مندی اور قلم کے ساتھ بدیانتی کے اس دور میں دیانت دار طفیل اختر ہمارا قومی سرمایہ ہے۔ ہمیں اسکی پذیرائی اور قدر افزائی کرنی چاہیئے۔

اسی بارے میں
پاکستانی فلم بھٹو دور میں
17 February, 2006 | فن فنکار
ایرانی فلمیں لاہور میں
08 December, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد