جنگجو ہیرو بمقابلہ رومانوی ہیرو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کی نشست میں ہمیں سن پچاس کے عشرے کا ذکر ختم کرنا ہے تا کہ ہم تیزی سے محمد علی، وحید مراد، ندیم، شمیم آراء، نیّر سلطانہ، دیبا اور زیبا کے زمانے تک پہنچ سکیں۔ لیکن سن ساٹھ کی سنہری دہائی سے قبل بننے والی چند یاد گار فلموں کا ذکر انتہائی ضروری ہے اور سب سے پہلے فلم روحی (1954) جو اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ سنسر کی زد میں آنے والی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی۔ اس میں ایک شادی شُدہ امیر عورت ایک نوجوان پر فریفتہ ہو جاتی ہے اور یہی نکتہ قابلِ اعتراض تھا۔ چنانچہ فلم کی نمائش اُس وقت تک رُکی رہی جب تک ڈائریکٹر نے کچھ قطع برید کر کے مناظر کو قابلِ قبول نہیں بنا دیا۔ فلم کے ڈائریکٹر ڈبلیو زیڈ احمد پاکستان آنے سے قبل بمبئی اور پونا میں فلمیں بنا چُکے تھے۔ جن میں ’من کی جیت‘، ’میرا بائی‘، ’پریم گیت‘، اور ’ایک رات‘ نے کافی شہرت حاصل کی تھی۔ پاکستان آ کر انہوں نے ایک کوآپریٹو سوسائٹی بنائی جس کے بینر تلے کئی فلموں کا اعلان ہوا لیکن خود فلم ’روحی‘ بھی نمائش کے فوراً بعد حصّہ داروں میں تنازعے کا باعث بن گئی۔ فلم کے لیے حاصل کیا گیا قرضہ واپس نہ ملنے کے باعث کوآپریٹو بینک نے فلم پر قبضہ کر لیا اور اسکا نیگیٹو ڈبوں میں پڑا پڑا گل سڑ گیا۔
فنّی اعتبار سے ’روحی‘ ایک ایسی فلم تھی جسے قومی ورثے کے طور پر محفوظ کیا جانا چاہیے تھا لیکن ہمارے دیگر ثقافتی نوادرات کی طرح یہ خوبصورت فلم بھی لاپروائی کی نذر ہو گئی اور آج فلم تکنیک کے طالبِ علم سنتوش اور شمّی کی اِس فلم کا صرف ذکر ہی سن سکتے ہیں۔ 1955 میں بننے والی فلم ’قاتل‘ البتہ زمانے کی دست برد سے محفوظ ہے۔ اس میں صبیحہ، سنتوش، مسّرت نذیر، اسلم پرویز، نیر سلطانہ اور اجمل وغیرہ جیسے معروف اداکار تھے۔ کہانی حکیم احمد شجاع کی تھی اور ہدایت کار انور کمال پاشا تھے۔ کہانی کا موضوع صرف اتنا سا تھا کہ دولت کے پیچھے بھاگنا لاحاصل ہے، لیکن خوبصورت مکالموں نے اس کہانی کو چار چاند لگا دیے تھے۔ مکالمات کا یہی انداز تھا جِس نے بعد ازاں فلم ’سرفروش‘ میں عروج حاصل کیا اور برسوں بعد ریاض شاہد نے اسی انداز کو نکھار سنوار کر ’شہید‘، ’خاموش رہو‘، ’زرقا‘ اور ’یہ امن‘ جیسی فلمیں تحریر کیں۔ پاکستان کی فلمی تاریخ میں فلم’ قاتل‘ کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس کی فلمبندی کے دوران پروڈیوسر آغا جی اے گُل نے نہر کے کنارے واقع پنچولی سٹوڈیو کرائے پر حاصل کیا اور اسے نئی مشینری اور سازوسامان سے آراستہ و پیراستہ کر کے مُستقبل کے ایور نیو سٹوڈیو کی بُنیاد رکھی۔ یہ فلم کاروباری لحاظ سے کافی کامیاب رہی اور اس نے مارکیٹ میں بھارتی فلموں کا مقابلہ کیا۔ اس فلم نے موسیقار ماسٹر عنایت حسین اور نغمہ نگار قتیل شفائی کا مستقبل بھی محفوظ کر دیا کیونکہ فلم کا میوزک ہٹ ثابت ہوا۔ اقبال بانو کا گایا ہوایہ گانا آج پچاس برس بعد بھی ماضی کی طرح مقبول ہے : اُلفت کی نئی منزل کو چلا لیکن پاکستان کی پہلی ہٹ میوزیکل فلم ’ انتظار ‘ تھی جس کے موسیقار خورشید انور تھے اور نغمہ نگار قتیل شفائی اور طفیل ہوشیار پوری۔ یہ فلم ’انارکلی‘ کے شہرت یافتہ مصنف امتیاز علی تاج نے تحریر کی تھی اور ہدایت کاری کے فرائض مسعود پرویز نے انجام دیے تھے جنہیں ہم فردوس اور اعجاز والی ’ہیر‘ کے حوالے سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔ خواجہ خورشید انور کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انہوں نے 1936 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کیاتھا اور اس سے پہلے وہ بھگت سنگھ کے انقلابی جتھے میں شامل تھے اور انگریز انتظامیہ کے خلاف چند تخریبی کاروائیوں میں بھی عملی حصّہ لے چُکے تھے۔
لیکن اُن کی اصل صلاحیتیں موسیقی کے میدان میں آکر کھُلیں۔ پاکستان آنے سے پہلے وہ بمبئی میں میوزک ڈائریکٹر کے طور پر اپنا ایک مقام بنا چُکے تھے۔ 1947 میں فلم ’پروانہ‘ کی کامیابی کا سہرا خواجہ خورشید انور کی موسیقی کے سر باندھا گیا اور بعد میں انہوں نے ’سنگھار‘ اور ’نیلم پری‘ کے لیے بھی لاجواب دُھنیں تخلیق کیں۔ قیامِ پاکستان کے آٹھ برس بعد تک وہ بمبئی ہی میں رہے لیکن ان کے بہت سے دوست اور ساتھی پاکستان آچُکے تھے چنانچہ 1955 میں خواجہ خورشید انور بھی پاکستان آگئے اور یہاں آتے ہی انھوں نے فلم ’انتظار‘ کی موسیقی ترتیب دی جو کہ 1956 میں ریلیز ہوئی ۔ یہ پاکستان کی پہلی اُردو فلم تھی جس کے تمام گانے سُپرہٹ ثابت ہوئے ۔ اس سے پہلے یہ اعزاز صرف پنجابی فلم ’پھیرے‘ کو حاصل تھا۔ پاکستان میں عرصہ دراز تک رُومانوی اور لڑائی مار کُٹائی والی فلموں کی جو دوٹوک تقسیم قائم رہی اسکی ابتداء واضح طور پر 1956 میں اُس وقت ہوئی جب سدھیر کی فلم ’باغی‘ منظرِعام پر آئی۔ دیگر اداکاروں میں مسرت نذیر، یاسمین، علاؤالدین، غلام محمد اور اجمل شامل تھے لیکن اس فلم نے سدھیر کو ایک جنگجو ہیرو کے طور پر متعارف کرایا جبکہ سنتوش کمار سوشل اور رومانی فلموں کے مُستند ہیرو قرار دیے جا چُکے تھے۔ یہ تقسیم اُس وقت تک جاری رہی جب تک پنجابی فلموں کی یلغار نے ہر طرح کی زُمرہ بندی کو ملیا میٹ نہیں کر دیا۔ ہماری فلمی تاریخ میں ’باغی‘ کا ذکر اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ پہلی پاکستانی فلم تھی جس کی نمائش چین میں بھی ہوئی۔ فلم ’باغی‘ پاک و ہند کے معروف ڈائریکٹر اے آر کاردار کے بھتیجے اشفاق ملک نے ڈائریکٹ کی تھی جو کہ 1950 تک بمبئی میں بطور ساؤنڈ ریکاڈسٹ کام کرتے رہے تھے اور اپنے چچا کی ایک فلم ’ نوجوان ‘ ڈائریکٹ بھی کر چُکے تھے۔ یہاں آ کر انہوں نے اپنا ذاتی ادارہ، اے۔ ایم سٹوڈیو بھی بنایا اور بطور پروڈیوسر ڈائریکٹر ایک بھرپور زندگی بسر کی۔ ہمارے بزرگ ترین ڈائریکٹر ڈبلیو۔زیڈ احمد اور اشفاق ملک دونوں ماشاء اللہ بقیدِ حیات ہیں اور دستاویزی مواد تیار کرنے والوں کے لیے ایک سنہری موقعہ فراہم کر رہے ہیں کہ بیتے دِنوں کی یادوں کو اِن عینی شاہدوں کی زبان میں ریکارڈ کر لیا جائے۔ سن پچاس کے عشرے میں کئی اور یادگار فلمیں بھی بنیں جن میں ڈبلیو زیڈ احمد کی ’وعدہ‘ جعفر ملک کی ’ مکھڑا ‘ اور سات لاکھ، سیف الدین سیف کی کرتار سنگھ، حسن طارق کی نیند اور مسعود پرویز کی کوئل ناقابلِ فراموش ہیں۔ | اسی بارے میں لالی وڈ آج اور کل، قسط 1119 September, 2005 | فن فنکار لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط23 August, 2005 | فن فنکار لالی وڈ: کل اور آج ، پانچویں قسط16 May, 2005 | فن فنکار لالی وڈ کل اور آج: چھٹی قسط09 June, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||