BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 May, 2005, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لالی وڈ: کل اور آج ، پانچویں قسط

News image
1943 میں بننے والی ’زمیندار‘ لاہور میں پنچولی کی آخری کامیابی تھی
لاہور میں پہلی فلم اگرچہ اُنیس سو چوبیس میں بن گئی تھی لیکن کوئی دس برس تک یہاں کی فلم انڈسٹری گھُٹنوں کے بل چلتی رہی۔ لاہور کی فلم انڈسٹری کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا سہرا ڈی ایم پنچولی کے سر بندھتا ہے۔

دلسکھ ایم پنچولی کراچی میں 1904 میں پیدا ہوئےلیکن ان کا آبائی شہر بمبئی تھا، جہاں وہ فلموں کی تقسیم کاری کرتے تھے۔

1931 میں جب ہندوستان کی پہلی بولتی فلم ’عالم آراء‘ بنی تو پنجاب میں اس کی تقسیم کاری کا فریضہ پنچولی کو سونپا گیا۔ لاہور آ کر انہوں نے نوکری چھوڑ دی اور ’ایمپائر ٹاکیز ڈسٹری بیوٹرز‘ کے نام سے اپنا ذاتی ادارہ کھول لیا۔

لاہور کے لکشمی چوک میں یہ پہلا فلمی دفتر تھا اور پنچولی کے رابطے بمبئی کی بڑی بڑی کمپنیوں سے تھے۔ پر بھات فلم کمپنی اور زنجیت مووی ٹون جیسے موّقر فلم ساز اداروں کے ساتھ ساتھ وہ آر کے او جیسی غیر ملکی کمپنیوں سے بھی فلمیں درآمد کرتے تھے اور جلد ہی ان کی ڈسٹری بیوشن کا کاروبار اتنا چل نکلا کہ انہوں نے مال روڈ پر اپنا فلم سٹوڈیو قائم کر لیا اور ’ گُل بکاؤلی‘ کے نام سے اپنی فلم پروڈیوس کی جس کے ہدایت کار برکت مہرہ تھے۔ یہ فلم پنجابی میں تھی۔ اس کے ہیرو سلیم رضا اور ہیروئن انجنا تھیں لیکن ہمارے لیے زیادہ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس میں بارہ برس کی ایک بچی بھی متعارف کرائی گئی جسکا نام تھا بے بی نور جہاں۔ گُل بکاؤلی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔

News image
ولی صاحب کے لکھے ہوئے گیتوں اور ماسٹر غلام حیدر کی دھُنوں نے ہر طرف دھوم مچادی۔ اسی دوران میں کلکتے کے معروف فلم ساز ادارے نیو تھیٹرز نے لاہور میں اپنا سٹوڈیو کھول کر حکیم احمد شجاع کی کہانی ’ کاروانِ حیات ‘ پر فلم بنانی شروع کر دی۔ فلم کی تکمیل کے بعد یونٹ واپس بنگال چلا گیا اور مسلم ٹاؤن میں نہر کے کنارے بنا ہوا یہ نیا سٹوڈیو پنچولی نے خرید لیا۔ بعد میں یہ جگہ پنچولی سٹوڈیو کے نام سے مشہور ہوئی اور یہاں کئی معروف فلموں کی شوٹنگ ہوئی جن میں آر ایل شوری کی دُلا بھٹی اور اپنے زمانے کی ہٹ فلم ’منگتی‘ شامل ہیں۔

دلسکھ پنچولی اگرچہ خود کاٹھیاواری تھے لیکن فلم گُل بکاؤلی کی زبردست کامیابی نے اُن پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ لاہور میں پنجابی فلم بنانا زیادہ نفع بخش سودا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے پہلے پنجابی فلمیں بھی کلکتے میں بنتی تھیں۔

1940-1941 میں ’یملا جٹ‘ اور ’چوھدری‘ بنا کر پنچولی نےثابت کر دیا کہ پنجابیوں کو فلم سازی کے لیے کلکتے جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ لاہور میں ہی اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں۔

News image
فلم خزانچی نے جہاں فلم ساز، ہدایت کار، گیت نگار اور موسیقار کا نام روشن کیا وہیں اس فلم کے ایڈیٹر کی زندگی بھی بدل کے رکھ دی
ایک بات البتہ پنچولی کو ضرور کھٹکتی تھی کہ مدارس، بنگال، یوپی اور مہاراشٹر میں اُن کی پنجابی فلموں کے لیے مارکیٹ نہ ہونے کے برابر ہے چنانچہ انہوں نے لاہور میں بیٹھے بیٹھے ایک ایسی فلم کا منصوبہ تیار کیا جو سارے ہندوستان میں بزنس کر سکے۔ انہوں نے ولی صاحب سے گانے لکھوائے اور غلام حیدر سے دُھنیں تیار کروائیں۔ ہدایت کاری کے لیے موتی گدوانی کا انتخاب کیا اور کاسٹ میں رمولا، ڈاکٹر نارنگ، منورما اور لاہور کے معروف اداکار ایم اسماعیل کو شامل کیا۔

یہ فلم نمائش کے لیے پیش ہوئی تو اِس نے واقعی سارے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا۔ فلم کا نام تھا ’خزانچی‘ اور اسکا گیت ’ساون کے نظارے ہیں‘ سننے کے بعد بمبئی کے کئی پروڈیوسروں نے اپنے کارندے لاہور بھیجے تاکہ غلام حیدر کو بمبئی لایا جا سکے۔ فلم خزانچی نے جہاں فلم ساز، ہدایت کار، گیت نگار اور موسیقار کا نام روشن کیا وہیں اس فلم کے ایڈیٹر کی زندگی بھی بدل کے رکھ دی۔ ایڈیٹر کا نام شوکت حسین رضوی تھا اور وہ گھڑی ساز کا پیشہ ترک کر کے فلم لائن میں آئے تھے۔

انہوں نے فلم خزانچی کی ایڈیٹنگ کے علاوہ اسکے چند سیکؤنس فلمائے بھی تھے جو پنچولی کو اتنے پسند آئے کہ انھوں نے امتیاز علی تاج کی لکھی ہوئی کہانی ’ خاندان‘ پر مبنی فلم ڈائریکٹ کرنے کا فریضہ شوکت حسین رضوی کو سونپ دیا۔ اس فلم میں چودہ سالہ نورجہاں نے پران کے مقابل ہیروئین کا کردار نبھایا۔

فلم’خاندان‘ کے ساتھ ہی بطور پروڈیوسر پنچولی کا نام اس بلند ترین مقام پر پہنچ گیا جسکے بعد زوال کی گھاٹی تھی۔

اگرچہ سن 1940 کے بعد بننے والی فلموں میں زمیندار اور پونجی نے بھی اچھا بزنس کیا تھا لیکن پنچولی کی شہرت کے دن اب پورے ہو چکے تھے۔ لاہور میں اسکے عروج کی طرح اسکا زوال بھی ایک دلچسپ داستان ہے جسے ہم آئندہ نشست تک موقوف کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد