لالی وڈ: کل اور آج ، پانچویں قسط | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پہلی فلم اگرچہ اُنیس سو چوبیس میں بن گئی تھی لیکن کوئی دس برس تک یہاں کی فلم انڈسٹری گھُٹنوں کے بل چلتی رہی۔ لاہور کی فلم انڈسٹری کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا سہرا ڈی ایم پنچولی کے سر بندھتا ہے۔ دلسکھ ایم پنچولی کراچی میں 1904 میں پیدا ہوئےلیکن ان کا آبائی شہر بمبئی تھا، جہاں وہ فلموں کی تقسیم کاری کرتے تھے۔ 1931 میں جب ہندوستان کی پہلی بولتی فلم ’عالم آراء‘ بنی تو پنجاب میں اس کی تقسیم کاری کا فریضہ پنچولی کو سونپا گیا۔ لاہور آ کر انہوں نے نوکری چھوڑ دی اور ’ایمپائر ٹاکیز ڈسٹری بیوٹرز‘ کے نام سے اپنا ذاتی ادارہ کھول لیا۔ لاہور کے لکشمی چوک میں یہ پہلا فلمی دفتر تھا اور پنچولی کے رابطے بمبئی کی بڑی بڑی کمپنیوں سے تھے۔ پر بھات فلم کمپنی اور زنجیت مووی ٹون جیسے موّقر فلم ساز اداروں کے ساتھ ساتھ وہ آر کے او جیسی غیر ملکی کمپنیوں سے بھی فلمیں درآمد کرتے تھے اور جلد ہی ان کی ڈسٹری بیوشن کا کاروبار اتنا چل نکلا کہ انہوں نے مال روڈ پر اپنا فلم سٹوڈیو قائم کر لیا اور ’ گُل بکاؤلی‘ کے نام سے اپنی فلم پروڈیوس کی جس کے ہدایت کار برکت مہرہ تھے۔ یہ فلم پنجابی میں تھی۔ اس کے ہیرو سلیم رضا اور ہیروئن انجنا تھیں لیکن ہمارے لیے زیادہ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس میں بارہ برس کی ایک بچی بھی متعارف کرائی گئی جسکا نام تھا بے بی نور جہاں۔ گُل بکاؤلی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔
دلسکھ پنچولی اگرچہ خود کاٹھیاواری تھے لیکن فلم گُل بکاؤلی کی زبردست کامیابی نے اُن پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ لاہور میں پنجابی فلم بنانا زیادہ نفع بخش سودا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے پہلے پنجابی فلمیں بھی کلکتے میں بنتی تھیں۔ 1940-1941 میں ’یملا جٹ‘ اور ’چوھدری‘ بنا کر پنچولی نےثابت کر دیا کہ پنجابیوں کو فلم سازی کے لیے کلکتے جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ لاہور میں ہی اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں۔
یہ فلم نمائش کے لیے پیش ہوئی تو اِس نے واقعی سارے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا۔ فلم کا نام تھا ’خزانچی‘ اور اسکا گیت ’ساون کے نظارے ہیں‘ سننے کے بعد بمبئی کے کئی پروڈیوسروں نے اپنے کارندے لاہور بھیجے تاکہ غلام حیدر کو بمبئی لایا جا سکے۔ فلم خزانچی نے جہاں فلم ساز، ہدایت کار، گیت نگار اور موسیقار کا نام روشن کیا وہیں اس فلم کے ایڈیٹر کی زندگی بھی بدل کے رکھ دی۔ ایڈیٹر کا نام شوکت حسین رضوی تھا اور وہ گھڑی ساز کا پیشہ ترک کر کے فلم لائن میں آئے تھے۔ انہوں نے فلم خزانچی کی ایڈیٹنگ کے علاوہ اسکے چند سیکؤنس فلمائے بھی تھے جو پنچولی کو اتنے پسند آئے کہ انھوں نے امتیاز علی تاج کی لکھی ہوئی کہانی ’ خاندان‘ پر مبنی فلم ڈائریکٹ کرنے کا فریضہ شوکت حسین رضوی کو سونپ دیا۔ اس فلم میں چودہ سالہ نورجہاں نے پران کے مقابل ہیروئین کا کردار نبھایا۔ فلم’خاندان‘ کے ساتھ ہی بطور پروڈیوسر پنچولی کا نام اس بلند ترین مقام پر پہنچ گیا جسکے بعد زوال کی گھاٹی تھی۔ اگرچہ سن 1940 کے بعد بننے والی فلموں میں زمیندار اور پونجی نے بھی اچھا بزنس کیا تھا لیکن پنچولی کی شہرت کے دن اب پورے ہو چکے تھے۔ لاہور میں اسکے عروج کی طرح اسکا زوال بھی ایک دلچسپ داستان ہے جسے ہم آئندہ نشست تک موقوف کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||