لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تقسیمِ ہند کے وقت لاہور کی فلمیِ صنعت صرف 23 برس پُرانی تھی لیکن اس مختصر سےعرصے میں اس نے اپنا ایک انداز طے کر لیا تھا۔ یہ درست ہے کہ لاہور میں بمبئی اور کلکتے کی طرح کوئی ہمنسو رائے یا بی ۔ این سرکار موجود نہیں تھا اور لاہور کی فلموں میں سیاسی یا سماجی انقلاب کا نعرہ لگانے یا عظیم ادب پاروں کو سکرین کی زینت بنانے کا رجحان بھی موجود نہیں تھا لیکن ہلےّ گلّے کا اور تفریح کا عنصر بدرجہ اتم موجود تھا۔ موسیقار غلام حیدر نے سُر تال کے مروجہ سست رو نظام سے نکل کر تیز رِدم کو روشناس کرایا اور ڈی ۔ این مدھوک نے بھی روائیتی شاعری کی رُکاوٹیں توڑ کر ایسے گیت تخلیق کئےجو موسیقی کے بدلتے ہوئے رجحان کا ساتھ دے سکیں۔ سن چالیس کے عشرے تک لاہور کی فلم انڈسٹری کو امتیاز علی تاج، حکیم احمد شجاع، عبدالرحمٰن چغتائی، ایم ڈی تاثیر اور پطرس بخاری جیسے معروف لوگوں کا تعاون حاصل ہو چُکا تھا۔
معروف مزاح نگار اور مدرس احمد شاہ پطرس بخاری کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ فلم آرٹ کے شیدائی تھے اور انہوں نے آج سے 75 سال پہلے فلم ایڈیٹنگ کے اسرار و رموز سے اپنے ہندوستانی قارئین کو آگاہ کیا تھا۔ 1947 کے مارچ مہینے میں جب لاہور میں لوٹ مار کا بازار گرم ہوا تو فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں کامستقبل ایک سوالیہ نشان بن گیا۔لاہور میں اگرچہ ہندؤں کی آبادی نِصف سے ذرا کم تھی لیکن کاروبار زیادہ تر ہندوں کے ہاتھ میں تھا۔ مال روڈ اور انار کلی میں مسلمانوں کی پراپرٹی خال خال ہی نظر آتی تھی۔ ہندؤں کے اس کاروباری تسلّط کی بناء پر یہ افواہ سارے شمالی ہندوستان میں گشت کر رہی تھی کہ تقسیم کے وقت لاہور ہندوستان کو دے دیا جائے گا۔ لیکن جب نقشے پر خطِ تقسیم واضح ہو گیا اور لاہور کی ہندو آبادی نے خوش فہمی کا طوق اُتار کر حقائق کی کانٹوں بھری مالا گلے میں ڈالی تو معلوم ہوا کہ لاہور پاکستان ہی کو ملے گا۔ لاہور کی فلم انڈسٹری تقریباً ساری کی ساری غیر مسلموں کے ہاتھ میں تھی۔ لاہورمیں فرقہ وارانہ فسادات نے زور پکڑا تو ہندو آبادی محفوظ مقامات کی طرف کوچ کرنے لگی۔
اداکار پران جو لاہور کو دل و جان سے چاہتے تھے آخری وقت تک حالات بہتر ہونے کا انتظار کرتے رہے انھوں نے اپنی بیوی اور ایک سالہ بچے کو اِندور بھیج دیا تھا لیکن خود لاہور چھوڑنے کو انکا دل نہ چاہتا تھا۔ گیارہ اگست 1947 کو خیر خواہوں کے اصرار پر انہوں نےڈبڈ بائی آنکھوں اور بھاری قدموں سے لاہور کو خیر باد کہا اور اگلے ہی روز اُن کے محلّے پر فرقہ پرستوں نے حملہ کر دیا ۔ بہت سے ہندو مارے گئے۔ جو بچ رہے انھوں نے فوراً رختِ سفر باندھا اور محفوظ علاقوں کی راہ لی۔ 1947 میں لاہور میں کوئی درجن بھر فلموں کی شوٹنگ ہو رہی تھی لیکن فسادات کے باعث یہ شوٹنگ رُک گئی اور فلم سازی کا کام بالکل ٹھپ ہو گیا۔ لاہور میں اُس وقت چھ فلم سٹوڈیو تھے، ایک کو تو بلوائیوں نے جلا کر خاک کر دیا تھا تین سٹوڈیوز میں لوٹ مار مچا کر سارا تکنیکی سازو سامان لُٹیرے گھروں کو لے گئے تھے تاکہ بعد میں جب فلم سازی کے حالات بہتر ہوں تو یہ سامان کام میں لایا جائے یا ضرورت مندوں کے ہاتھ فروخت کر دیا جائے۔ اس بڑے پیمانے کی لوٹ مار کے نتیجے میں حکومت نے فلم سٹوڈیوز کو متروکہ جائیداد قرار دے کر وہاں سرکاری تالے ڈال دیے اور اس طرح کم از کم دو سٹوڈیوز تخت و تاراج ہونے سے بچ گئے۔
ادھر سینما گھروں کی کہانی اس سے بھی زیادہ حیران کُن تھی۔ اس سے پہلےکہ ہندؤں کے چھوڑے ہوئے سینما گھروں کو حکومت متروکہ جائیداد قرار دیتی، اُن کے مسلمان حصہ داروں، ملازموں، حتٰی کہ سامان مہیا کرنے والے ٹھیکے داروں نے سرکاری کارندوں کی ملی بھگت سے راتوں رات بہت سے سینما گھروں کے مالکانہ حقوق حاصل کر لیے۔ تقسیم کے وقت پاکستان میں کُل 238 سینما گھر تھے جن میں سے صرف 78 کو متروکہ قرار دیا جا سکا۔ یہی حال اُن بے شمار فلموں کا ہوا جنھیں ہندو پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر اپنے دفاتر میں چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے تھے۔ جب سرکاری پارٹیوں نے اِن دفاتر پر چھاپے مارے تو پتہ چلا کہ وہاں نئے نام سے نئی کمپنیاں کھُل چکی ہیں۔ ’رام رام جپنا‘ والے لوگ تو سرحد پار جا چکے تھے لیکن ’ پرایا مال اپنا‘ والے لوگ یہیں موجود تھے۔ اور ڈنکے کی چوٹ متروکہ جائیداد کے مالک بنے ہوئے تھے۔ تو یوں شروع ہوا اس ملکتِ خداداد میں فلم سازی اور تقسیم کاری کا کام۔ خشتِ اول چوں نہد معمار کج
پاکستان کی نوزائیدہ مملکت میں سرکاری مشینری کو ابھی بد عنوانی اور رشوت خوری کا زنگ نہیں لگا تھا۔ حکومت اور بیوروکریسی میں بہت سے ایماندار لوگ موجود تھے جو واقعی اپنے نئے وطن کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگانے کو تیار تھے، تو پھر فلمی صنعت کو ایسی بد حالی کا سامنا کیوں ہوا؟ شاید اس لیے کہ 1947 میں حکومتِ پاکستان کی ترجیحات بہت مختلف تھیں۔ ادب، آرٹ، کلچر اور فنون کے مسائل کو اوّلیت حاصل نہیں تھی اور سینما کو تو ویسے بھی آرٹ کا درجہ حاصل نہ تھا۔ پاکستان بننے کے کچھ ہی عرصہ بعد بمبئی سے ہدایتکار اے ۔ آر کاردار اور محبوب لاہور آئے اور یہاں اپنی پروڈکشن شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ انھوں نے مرکزی وزیر بحالیات راجہ غضنفر علی خان سے ملاقات کر کے لاہور میں فلم سازی کی سہولتیں حاصل کرنا چاہیں لیکن اُن کی کوئی خاص پذیرائی نہ ہوئی اور وہ محض ایک ڈسٹری بیوشن آفس کھول کر واپس چلے گئے۔ پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں ممتاز دولتانہ نے تجویز پیش کی کہ تمام متروکہ سٹوڈیوز اور سینما گھروں کو قومی ملکیت میں لے کر ایک ایسے ادارے کے سُپرد کر دیا جائے جو معیاری فلمیں تیار کرنے کی ذمہ داری لے، لیکن یہ تجویز فائلوں ہی میں دبی رہ گئی۔ 1948 میں متروکہ سٹوڈیوز اور ہندؤں کے چھوڑے ہوئے سینما گھروں کی الاٹ منٹ بھی اسی انداز میں شروع ہو گئی جیسے دیگر متروکہ املاک کی ہو رہی تھی۔ (جاری ہے ) |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||