BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 May, 2005, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آواز کی آمد، لالی ووڈ: کل اور آج (4)

’جاز سنگر‘ کا پوسٹر
دنیا کی پہلی بولتی فلم ’جاز سنگر‘ کا پوسٹر
1927 سے 1930تک کے تین سال دُنیا بھر کی فلم انڈسٹری میں اتھل پتھل اور افرا تفری کے سال تھے۔

امریکہ میں پہلی متکلم فلم ریلیز ہونے کے بعد یورپ میں بھی بولتی فلموں کا دور شروع ہو چکا تھا لیکن فلموں کی تجارت کرنے والے لوگ ’ آواز‘ کی آمد پر جتنے خوش و خرم اور پُر جوش دکھائی دیتے تھے، فلم کو بطور آرٹ دیکھنے والے لوگ آواز کی آمد پر اتنے ہی پریشان اور مایوس نظر آتے تھے۔

روس میں تین معروف ترین ڈائریکٹروں نے اگست 1928 میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں متنبہ کیا گیا کہ اگر آواز کا بے دریغ استعمال کیا گیا تو فلم ایک آرٹ کے درجے سے گِر کر محض کھیل تماشہ بن جائے گی۔

جرمنی اور برطانیہ میں فلم آرٹ کے متوالوں نے آواز کی آمد کو ایک منفی قدم قرار دیا اور کہا کہ فلم ایڈیٹنگ کے آرٹ نے بیس برس میں جو ترقی کی ہے وہ ساؤنڈ ریکارڈنگ کے باعث خاک میں مل جائے گی۔

آواز کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ایک بھاگتے ہوئے گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز بھی سنوا دی جائے تو اس سے فلم بینوں کی معلومات میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ گھوڑا بھاگ رہا ہے۔

سرگئی آئیزن سٹائن
آواز کا بے دریغ استعمال فلم آرٹ کے لئے زہرِقاتل ہے: روسی ہدایتکار سرگئی آئیزن سٹائن

اسی طرح اگر کوئی باپ اپنے نافرمان بیٹے کو ڈانٹ رہا ہے اور غصّے میں دروازے کی طرف انگلی اُٹھا کر اسے گھر سے نکل جانے کا اشارہ بھی کر رہا ہے تو پھر اس مکالمے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ’ نِکل جاؤ اس گھر سے اور خبردار اگرآئندہ اپنے منحوس قدم اس گھر میں رکھے‘۔

فلم کو بطور آرٹ سراہنے والے ہدایتکاروں کا خیال تھا کہ آواز کا استعمال صرف پس منظر میں ہونا چاہئیے ورنہ فلم کی حیثیت سیلولائیڈ پر منتقل شدہ ایک سٹیج ڈرامے کی سی ہو جائے گی۔ اور حقیقت میں ہوا بھی ایسا ہی۔

ابتدائی متکلم فلمیں محض فلمائے ہوئے سٹیج پلے کی طرح ہوتی تھیں۔ چونکہ مکالمے ریکارڈ کرنے کے دوران کیمرے کو ایک ہی جگہ جامد رکھنا پڑتا تھا اس لئے کیمرے کی حرکت سے پیدا ہونے والی ہما ہمی سے فلم محروم ہو گئی تھی۔

لیکن ہندوستان میں چونکہ خاموش فلم اپنے ارتقاء کی اس منزل پر نہیں پہنچی تھی جہاں تدوین کی اپنی ایک زبان بن جاتی ہے اور مختلف شاٹس کو آپس میں جوڑنے کا خاص طریقہ ہی آرٹ کو جنم دیتا ہے، چنانچہ یہاں آرٹ کے شیدائیوں کا واویلا تو نہ سنائی دیا البتہ خاموش فلموں کی انڈسٹری سے وابستہ روزگار میں جو خلل پڑا اُس نے دنیائے فلم کے سبھی لوگوں کو پریشان کر دیا۔

لاہور کے مشہور ترین نوجوان ہدایتکار، متکلم فلموں کا دور شروع ہوتے ہی کلکتہ چلے گئے۔ کچھ عرصہ لاہور میں خاموشی رہی لیکن جب ساؤنڈ ریکارڈنگ کا سامان میّسر آگیا اور سینما گھروں میں آواز سنوانے کے انتظامات ہو گئے تو لاہور میں بولتی فلموں کا دور شروع ہوگیا۔

امتیاز علی تاج
امتیاز علی تاج نے لاہور سے ہی اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا

ریس کورس روڈ پر پنجاب پکچرز والوں نے اپنا پہلا سٹوڈیو تعمیر کیا اور اس میں فلم ’ سوراج کی سیڑھی ‘ بننی شروع ہوئی۔ اس میں امراؤ جان نامی اداکارہ نے ہیروئن اور سلیم رضا نے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کے ہدایتکار ہری رام سیٹھی تھے۔ اس فلم کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ ماسٹر غلام حیدر کی بطور موسیقار پہلی فلم تھی۔ اس سے پہلے وہ سٹیج ڈراموں کی موسیقی ترتیب دیا کرتے تھے۔ لاہور کے اِسی سٹوڈیو میں مشہور ڈرامہ نگار آغا حشر کاشمیری نے اپنی فلم ’ بھیشم پرتیگا ‘ کی شوٹنگ بھی شروع کی لیکن عمر نے وفا نہ کی اور وہ اس فلم کو مکمل نہ کر سکے۔

خاموش فلموں کے ہدایتکار آر ایل شوری نے بھی اسی سٹوڈیو میں اپنی فلم
’ رادھے شیام ‘ کا آغاز کیا اور ریلوے کے ایک ملازم ڈی این مدھوک کو گانے لکھنے کا کام سونپا اور جس طرح غلام حیدر نے موسیقی میں نام پیدا کیا اسی طرح بعد میں مدھوک بھی کامیاب ترین نغمہ نگار ثابت ہوئے۔

بولتی فلموں کے ابتدائی دور میں لاہور کے فلم سازوں نے جو کام پیش کیا اس میں ٹارزن کی بیٹی (ہدایتکار آر ایل شوری ) قّزاق کی لڑکی (ہدایتکارنواب خلیل اللہ ) اور پاپ کی نگری قابلِ ذکر ہیں آخر الذ کر فلم کو روزنامہ پرتاب لاہور کے ایڈیٹر نانک چند ناز نے ڈائریکٹ کیا تھا۔

انھی دنوں امتیاز علی تاج نے بھی ’ سہاگ کا دان ‘ نامی فلم لکھ کر اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ لیکن لاہور صحیح معنوں میں اس وقت ایک فلمی مرکز بنا جب کاٹھیا وار کے باشندے ڈی ایم پنچولی نے لاہور میں اپنا سٹوڈیو قائم کیا۔ پنچولی کی لاہور آمد اور یہاں مستقل قیام ایک الگ داستان ہے جس پر انشا اللہ آئندہ نشست میں گفتگو ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد