BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 21:13 GMT 02:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فِلم سازی کے ارتقاء پر ایک نظر

فلم پر اسرار عقاب عرف حسن کا ڈاکو
فلم پر اسرار عقاب عرف حُسن کا ڈاکو کا منظر
پاکستان میں فلم سازی کی تاریخ کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو سب سے پہلی فلم
’تیری یاد‘ کو قرار دیا جاتا ہے جو کہ ستمبر انیس سو اڑتالیس میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے ہیرو دلیپ کمار کے بھائی ناصر خان تھے اور داؤد چاند نے ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے تھے۔

یہ درست ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد یہاں بننے والی پہلی فلم ’ تیری یاد ‘ ہی تھی لیکن اس سے رُبع صدی پہلے بھی لاہور میں فلمیں بن رہیں تھیں چنانچہ لولی وُڈ کی داستانِ فلم سازی کو ’ تیری یاد‘ سے شروع کرنا درست نہ ہوگا ۔

برِصغیر پاک و ہند میں متحرک تصویر کا نظارہ اٹھارہ سو چھیانوے ہی میں کر لیا گیاتھا اور بیسویں صدی کے آغاز میں کئی یورپی کیمرہ مین ہندوستان کے جنوبی حصوں میں مصروفِ کار تھے ۔ ایک سو پانچ برس پہلے بننے والی بنارس گھاٹ کی فلم آج بھی دنیا کے کئی آرکائیوز میں موجود ہے۔

انیس سو تیرہ میں دادا پھالکے نے دیسی فلم سازی کا باقاعدہ آغاز کیا لیکن برسوں بعد بھی اس نئے کاروبار کا دائرہ جنوب مشرقی اور جنوب مغربی ہند تک ہی محدود رہا۔

News image
سن انیس سو اٹھائیس میں بننے والی فلم سرپینٹ کا ایک منظر
پنجاب میں فلم سازی کا آغاز سن بیس کے عشرے سے پہلے ممکن نہ ہو سکا۔ یہ خاموش فلموں کا زمانہ تھا اور دیسی فلموں کے نام بھی انگریزی میں ہوتے تھے۔ چنانچہ لاہور میں بننے والی پہلی فلم کا نام تھا: Daughters of Today اور اس میں لاہور کے دو نوجوان، ایم اسماعیل اور عبدالرشید کاردار مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ ایم اسماعیل کو ہم نے بھی بچپن میں سکرین پر دیکھا تھا لیکن ہمیشہ باپ کے کردار میں۔

ہمیں یہ سوچ کر حیرت ہوا کرتی تھی کہ کبھی یہ بزرگ اُچھلتے کودتے ہیروئن کا طواف کرتے اور گیت گاتے ہوئے ہیرو کے طور پر بھی نمودار ہوا کرتے ہوں گے، لیکن اب لاہوری فلموں کی تاریخ کھنگالی تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایم اسماعیل نے زندگی میں جو اوّلین کردار ادا کیا تھا وہ بھی ایک جوان باپ کا کردار تھا۔

اے آر کاردار اور ایم اسماعیل کو جائز طور پر پاکستانی فلم انڈسٹری کے اولّین معمار قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ دونوں نے روایتی مسلم گھرانوں میں پرورش پانے کے باوجود فلم سازی کے خارزار میں قدم رکھا تھا جہاں معاشرتی سطح پر انھیں ہر لمحے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا تھا۔

ایم اسماعیل کاتبوں کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور بچپن ہی میں بہت اچھی کتابت سیکھ چکے تھے۔ ذرا بڑے ہو کر انھوں نے مصّوری اور پوسٹر سازی میں بھی تربیت حاصل کر لی تھی۔ اُدھر کاردار بھی مصّوری کے شوقین تھے اور فوٹوگرافی بھی جانتے تھے۔

News image
فلم ساز آدیشر ایرانی نے ایم اسماعیل کو کیدو کے رول میں کاسٹ کیا
دونوں دوست مل کر اپنی فلم کمپنی بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے کہ بمبئی سے امپریل فلم کمپنی کے مالک اور مشہور فلم ساز آدیشر ایرانی لاہور آئے۔ وہ اپنی خاموش فلم ہیر رانجھا کے لئے مناسب اداکار ڈھونڈ رہے تھے اور انھیں سیدا کھیڑا کا رول ادا کرنے کے لئے کاردار پسند آ گئے۔

ایم اسماعیل کو انھوں نے کیدو کے رول میں کاسٹ کیا اور یوں ان دونوں دوستوں کی شہرت لاہور سے بمبئی کی فلم نگری تک پہنچ گئی۔

1927 میں ہاتھ سے چلنے والا ایک کیمرہ کاردار کے ہاتھ لگ گیا چنانچہ انہوں نے لاہور میں اپنی پہلی ذاتی فلم پروڈیوس کی جس کا نام تھا ’ پُر اسرار عقاب عرف حُسن کا ڈاکو‘۔

اس میں حُسن کے ڈاکو کا کردار ایم اسماعیل نے کیا۔ کاردار نے ہدایات دینے کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سا رول بھی ادا کیا۔

اس فلم کو نمائش کے لئے پیش کرنے سے پہلے کاردار نے سینما مالکان کے نام ایک مفصّل خط لکھا جو اگرچہ اس فلم کا تعارف کرانے کے لئے لکھا گیا تھا لیکن اس کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ ہم عصر فلم سازی پر کاردار کی نگاہ کتنی گہری تھی اور خود ان کے ذہن میں فلم سازی کے مقاصد کتنے واضح تھے۔

لکھتے ہیں: ’میں نے پُر اسرار عقاب نامی فلم میں ایک نئے رجحان کو جنم دیا ہے۔ یہاں کی فلموں میں صرف لڑائی مارکٹائی اور سٹنٹ (بازی گری) کے زور پر دلچسپی پیدا کی جاتی ہے لیکن میں نے ان لوازمات کے ساتھ ساتھ اپنی کہانی میں ڈرامے کے عنصر کو بھی اجاگر کیا ہے- - - دیسی فلموں کے وسیع مطالعے اور گہرے تجزیےکے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اچھل کود اور لڑائی مار کٹائی کے مناظر کتنے بھی غیر فطری ہوں، عوام کو بہت پسند آتے ہیں اور لوگ قدم قدم پر تالیاں بجاتے اور ہیرو کے محیّرالعقول کارناموں پہ داد دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پڑھے لکھے اور سنجیدہ ناظرین اس طرح کے بچگانہ مناظر سے سخت نالاں ہیں، چنانچہ میں نے اپنی فلم میںٰ کیمرہ ٹِرک کے ذریعے کوئی مافوق الفطرت ہیرو تخلیق کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ کیمرے کو حقیقت کا عکّاس بنایا ہے اور تکنیکی کرتب دکھانے کی بجائے اُن باتوں کو فلمایا ہے جو روزمرّہ زندگی میں واقعی پیش آسکتی ہیں، ایسا کرتے ہوئے مجھے اپنے اداکاروں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالنا پڑا اور شاید ہی میرا کوئی آرٹسٹ ایسا ہو جسے شوٹنگ کے دوران چوٹیں نہ آئی ہوں۔ ایم اسماعیل کا گھٹنا تو ایسا زخمی ہوا کہ وہ کئی ہفتے تک بستر سے نہ اُٹھ سکا - - - آخر میں نے یہ سب پاپڑ کیوں بیلے؟ محض فلم میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے! مجھے یقین ہے جہاں یہ فلم لڑائی مارکٹائی کے مناظر کی وجہ سے عوام میں مقبول ہو گی وہیں اپنی ڈرامائی کہانی کی بدولت پڑھے لکھے اور سنجیدہ طبقے سے بھی داد حاصل کرے گی‘۔

کاردار کا اندزہ غلط نہیں تھا۔ یہ فلم خاصی کامیاب رہی اور اس کے فوراً بعد کاردار نے لاہور میں اوپر تلے کئی فلمیں پیش کیں جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔( یہ سب فلمیں 1930 سے پہلے کی ہیں): صفدر جنگ، گڈریا، فریبی شہزادہ، سر فروش، دی گولڈن ڈیگر(سنہرا خنجر) ، اور دی سرپنٹ (سانپ)۔
(جاری ہے)۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد