BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 April, 2005, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ویراں ہے میکدہ‘

تھیٹر متبادل تفریح کا اہم ذریعہ
تھیٹر متبادل تفریح کا اہم ذریعہ
پاکستان کی فلم انڈسٹری یہاں کے پروڈیوسروں کے ہاتھوں تباہ ہوئی یا حکومت کی عدم دلچسپی کا شکار ہوئی۔ اُسے ترقی یافتہ بھارتی سینما کے مقابلے میں شکست ہوئی یا وڈیو کا ناجائز کاروبار اس کی جڑوں میں بیٹھ گیا؟ وجہ کوئی بھی ہو یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ پاکستان کی فلمی صنعت کا بولورام ہو چکا ہے اور کسی آسمانی معجزے کے سوا کوئی عمل اس انڈسٹری کو بحال نہیں کر سکتا۔

لیکن فلمی صنعت کے خاتمے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تفریحات کا شعبہ ہی ناپید ہو گیا ہو۔ تفریح انسان کا جبّلی تقاضہ ہے اور اگر ایک ذریعہء تفریح کے دروازے لوگوں پر بند ہوتے ہیں تو کئی نئے دروازے کھل بھی جاتے ہیں۔

فلموں کے زوال کے بعد یہ کمی وڈیو اور ٹیلی ویژن نے پوری کی لیکن یہ تفریحات اندرونِ خانہ تھیں۔ جن لوگوں کا تصورِ تفریح بیرون در مصروفیات سے وابستہ ہے انھوں نے کمرشل تھیٹر کی دنیا میں پناہ حاصل کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر کے بہت سے سینما گھر تھیٹر ہال بن گئے۔

اگرچہ لاہور میں الحمرا کے دو تھیٹر ہال اور باغِ جناح کا اوپن ائر تھیٹر بھی موجود تھا لیکن عوام کے زبردست مطالبے کے سامنے یہ ہال کم پڑ گئے۔ چنانچہ لاہور میں محفل سینما، شمع سینما، کراؤن سینما اور تاج سینما نے کمرشل کامیڈی کا بزنس شروع کیا جوکہ راتوں رات چمک اُٹھا۔

چھوٹے شہروں اور دیہات سے آنے والے وہ فنکار جنھیں سرکاری آرٹس کونسل کے ہال میں جگہ نہ ملتی تھی اور نہ ہی کوئی ٹیلی ویژن میں گھاس ڈالتا تھا، اُن کے لیے تھیٹر کا یہ احیاء نعمتِ غیرمترقّبہ ثابت ہوا۔

News image
مال روڈ کا الفلاح سِنیما جوتھیٹر حال میں بدل چکا ہے

اُدھر سٹیج کے پروڈیوسروں کو بھی نئے فنکاروں کے شدت سے ضرورت تھی کیونکہ شہر میں بیک وقت آٹھ مقامات پر سٹیج کا کام شروع ہو گیا تھا اور اگر اوسطاً ہر کھیل میں پندرہ فنکار بھی حصہ لے رہے تھے تو ہر شام لاہور میں ایک سو بیس فنکار اداکاری کے جوہر دکھا رہے تھے۔

اور یوں ملک کی ثقافتی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اداکار کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملنے لگا۔

سٹیج کے تماشائی محض لاہور تک محدود نہیں تھے بلکہ گوجرانوالہ، گجرات، اوکاڑہ حتیٰ کہ فیصل آباد تک سے خصوصی ویگنیں ہفتے کی شام لاہور پہنچتیں اور آدھی رات کو شو ختم ہونے کے بعد مسافروں کو لے کر لوٹتیں۔

نواحی شہروں اور قصبوں میں کاروباری طبقہ اِس تفریحی میڈیم سے اتنا متاثر ہوا کہ اُن کی دعوت پر لاہور کے فنکار اپنے طائفے لے کر گوجرانوالہ اور فیصل آباد جانے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دونوں شہر تھیٹر کی بہت بڑی مارکیٹ بن گئے

اور پھر جیسا کہ ہر کامیاب کاروبار میں ہوتا ہے ........ غیر پروفیشنل افراد نے بھی پیسہ کمانے کے لیے اِس بزنس میں چھلانگ لگا دی۔

News image
اوڈین سِنیما: ویراں ہے میکدہ

اِن لوگوں کے پاس نہ کہانی تھی نہ سکرپٹ نہ اداکار نہ ہدایت کار۔ چنانچہ حاضرین کو محظوظ کرنے کے لیےناچ گانے کا سہارا لیا گیا۔ بازاری زبان اور سستی جملے بازی تو کمرشل کامیڈی میں پہلے ہی موجود تھی لیکن پیسہ کمانے کی اس دوڑ میں یہ جُملہ بازی گالی گلوچ کی حد تک چلی گئی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی اور آئے دن تھیٹر ہال میں چھاپے پڑنے لگے۔

شاعر نے کیا خوب کہا تھا :
’پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور‘

جائز تفریح پر سال ہا سال تک جو پابندی عائد رہی تھی اسکے ردِّعمل میں ایک سُوقیانہ تھیٹر وجود میں آچکا تھا اور فنکاروں کی روانیءطبع کا تو وہ عالم تھا کہ بڑی سے بڑی تادیبی رکاوٹ بھی اس سیلِ تُند خُو کے سامنے پرِ کاہ کی حیثیت رکھتی تھی۔

یہ عوامی تفریحی صنف آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہے ۔
جہاں تک چھاپوں کا سوال ہے تو بلی چوہے کا یہ کھیل پہلے کی طرح آج بھی جاری ہے، رقص پر کاغذی حد تک پابندی موجود ہے لیکن رقص تو سرکاری احکامات کی زنجیر پہن کر بھی کیا جا سکتا ہے اور کیا جا رہا ہے۔

مکالمے میں عریانی اور فحاشی کی کوئی تعریف ابھی تک متیعن نہیں کی جا سکی، پھر سٹیج کا فنکار تحریری مکالمے کا محتاج بھی نہیں ہوتا اور وہ اشارے کنائے میں مطلب کی بات کہہ جاتا ہے:
’خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زبان میری‘

حکام کے عائد کردہ سینسر اور روز روز کے چھاپوں کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ اداکاروں نے اپنے ذُو معنی مکالموں کی ایمائیت اور اشاریت میں مزید اضافہ کر دیااور زبان کی باریکیوں کو اُس سطح پر لے گئےجہاں کسی عدالت میں بھی اُن کے خلاف ثبوت مہیا نہ کیا جا سکے۔

فی البدیہہ مکالمہ بازی کا یہ ہنر جو کمرشل سٹیج کی دین تھا اب ایک بالکل نئےآرٹ میں ڈھل رہا ہے اور سٹیج کے ان اداکاروں نے انگریزی اور ہندی فلموں کو پنجابی میں ڈب کرنا شروع کر دیا ہے ......... لیکن کچھ اس انداز میں کہ کہانی اور مکالمے کااصل فلم سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔’ تخلیقِ مکّرر‘ کے اس ہنر میں فیصل آباد کے سٹیج فنکاروں کو یدِ طولٰی حاصل ہے۔ حال ہی میں انہوں نے اداکار جیکی چن کی فلم ’ شنگھائی نائٹس‘ کا مزاحیہ پنجابی روپ پیش کیا ہے جس میں جیکی اور اس کے ساتھی کو بٹ صاحب اور بھٹی صاحب کا نام دیا گیا ہے۔ اداکار کے ہونٹوں کی جنبش کے عین مطابق آواز پیدا کرنا ڈبنگ آرٹسٹ کا کمالِ فن ہوتا ہے۔

جرمنی اور ایران جیسے ممالک جہاں غیر ملکی فلموں کو ’ڈب‘ کر کے دکھایا جاتا ہے، وہاں بھی برسوں کی ریاضت کے بعد ایسے صداکار سامنے آتے ہیں جو غیر ملکی تاثرات پر اپنی دیسی زبان ہو بہو فِٹ کر سکیں۔ لیکن فیصل آباد کے سٹیج فنکار ’ لِپ سِنکنگ ‘ کے اس فن میں پیدائشی مہارت رکھتے ہیں اور سٹیج پر ہر روز کی فی البدیہہ مکالمے بازی نے اس سونے پر سہاگہ پھیر دیا ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی سرمایہ کار تہہ خانوں میں ہونے والی اس ڈبنگ کو کاپی رائٹ کے تحت منظم کرکے منظرِعام پر لائےتاکہ اس کا دائرہ کار کیبل چینل کی تنگنائے سے نکل کر عام گھریلو ٹی وی سیٹ تک پہنچ جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد