ایک فنکار، ایک آپ بیتی، ایک ہوک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ادب اور صحافت میں گزشتہ دس پندرہ برس کا عرصہ بجا طور پر سوانح عمریوں کا دور کہلا سکتا ہے جس میں بہت سے سیاست دانوں، جرنیلوں اور علمی ادبی شخصیتوں نے اپنے حالاتِ زندگی قلم بند کئے اور آنے والی نسلوں کے لئے اپنے حالات و واقعات کا ایک مطبوعہ ریکارڈ فراہم کر دیا۔ اِس رجحان کی ایک وجہ غالباً یہ تھی کہ جن لوگوں نے اپنی جوانی میں تقسیمِ ہند کا عہد ساز واقعہ دیکھا تھا اب وہ پیرانہ سالی کی اُس منزل پر پہنچ رہے تھے جہاں اپنے تجربات اور نظریات کو ضبطِ تحریر میں لانے کی قوّت اور ہمت بتدریج کم ہونے لگتی ہے، چنانچہ جسمانی اور ذہنی قواء کی نعمت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تمام افکار و حوادث کو جلدازجلد قلم بند کر لینا ہی قرینِ مصلحت ہوتا ہے۔ جرنیلوں، سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کے ساتھ ساتھ فن اور ادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والی کچھ شخصیات نے بھی اِس دوران میں اپنے حالاتِ زندگی رقم کئے ہیں اور آج ہم ایک ایسی ہی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ سِکّے دار کا نام جب ہم بچپن میں بطور کہانی نویس، اخبارات کے فِلمی اشتہاروں اور بڑے بڑے تشہیری بورڈوں پر پڑھا کرتے تھےتو نام کی انفرادیت متوجہ کرتی تھی۔ سکول کے زمانے میں فلمیں دیکھنا شروع کیں تو معلومات میں یہ اضافہ بھی ہوا کہ سکےّ دار نہ صرف ایک کامیاب فلمی مصنّف ہیں بلکہ ایک مشّاق اداکار بھی ہیں اور سر ُمنڈے ہندو بنئیے کا کردار تو گویا اُن کی گُھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ جِن لوگوں نے فلم ’جبرو‘ میں آتما رام اور فلم ’ ملنگی ‘ میں رُلیا رام‘ کے کردار دیکھے ہیں وہ سکےّ دار کی اداکارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ سکے دار کا اصل نام ملک رحیم خان ہے لیکن اپنی بات کی صداقت اور اہمیت اجاگر کرنے کے لئےوہ کثرت سے ’سکے بند‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے، بالآخر یہی تکیہ کلام اُن کے نام میں تبدیل ہو گیا اور لوگ انھیں سکے دار کہہ کر پکارنے لگے۔ سکے دار کی خودنوشت سوانح عمری ’ ہُوک‘ کے نام سے منظرِ عام پر آئی ہے۔ 1947 میں جب ملک تقسیم ہوا تو سکےّ دار ایک شادی شدہ آدمی تھے۔ ِاس سے اُن کی موجودہ عمر کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ’ہوک‘ میں بیان کردہ واقعات و مشاہدات ساٹھ برس کے وسیع عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں اور 1947 کے خون فشاں زمانے سے لےکر موجودہ دور میں مصّنف کی گرتی ہوئی صحت کے افسردہ واقعات تک جاری رہتے ہیں ۔ البتہ مصنف نے اپنے دُکھوں کی کِرچیاں براہِ راست ہمیں دکھانے کی بجائے انھیں ایک ایسے کلائیڈوسکوپ میں ڈال کر پیش کیا ہے کہ ذرا سا گھمانے پر وہ رنگ برنگے پھولوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں __ اگر ایسا نہ ہوتا تو تقسیمِ ہند کی خونچکاں داستان کی گونج، ہیرامنڈی میں نوگرفتارانِ چمن کی چیخ پکار اور بڑھاپے میں خود مصنف کی ہسپتال یاترا کے اُداس کر دینے والے واقعات کو پڑھنا شاید ہمارے لئے ممکن نہ ہوتا۔ لاہور کی نواحی بستی نیاز بیگ میں تقسیمِ ملک سے کچھ دیر پہلے شروع ہونے والی سکےّ دار کی یہ آپ بیتی لاہور سے ہوتی ہوئی بمبئی تک پہنچتی ہے اور آخر میں ہمیں یورپ کی جھلک بھی دکھاتی ہے ۔ زندگی کی ہماہمی سے بھرپور اس آپ بیتی میں آپ کو محلّے کے غنڈے بھی نظر آئیں گے اور بازارِ حسن کی نیک سیرت عورتیں بھی۔ دوست پر جان نثار کرنے والے قلندر بھی دکھائی دیں گے اور دوستی کی آڑ میں خنجر گھونپنے والے عیار اور مکار افراد بھی۔ مصنف اگرچہ پنجابی فلموں کی کہانیاں لکھتے رہے ہیں لیکن انھیں اُرود زبان پر مکمل عبور حاصل ہے اور جگہ جگہ انھوں نے اپنی نثر کو با معنی اور برموقعہ اشعار سے بھی مزیّن کیا ہے۔ تحریر کی دلچسپ ترین بات یہ ہے بیانیہ تو اُردو میں ہے لیکن مکالمہ جہاں پنجابی میں ہوا ہے وہاں پنجابی ہی میں رقم کیا گیا ہے۔ جو لوگ پنجابی زبان سے نا آشنا ہیں ان کے لئے کتاب کے آخر میں نوٹس دے دئیے گئے ہیں لیکن یہ اردو تشریحات محض چند ابواب تک محدودہیں۔ اگر اگلے ایڈیشن میں ان توضیحات کا دائرہ کتاب کے مکمل متن تک پھیلا دیا جائے تو اردو داں طبقے کے لئے کتاب کی افادیت مزید بڑھ جائے گی۔ ہُوک نامی اِس کتاب کو ٹمپل روڈ لاہور کے ادارے ’حکایات‘ نے شائع کیا ہے اور کتابوں کی مہنگائی کے موجودہ دور میں اِس دلچسب دستاویز کی قیمت صرف ڈیڑھ سو روپے رکھی ہے جو عام آدمی کی قوتِ خرید پر بوجھ نہیں بنتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||