BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 April, 2005, 20:25 GMT 01:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لولی ووڈ یا لاہور فلم انڈسٹری

فلمی صنعت
لولی ووڈ کا مطلب ہے پاکستان فلم انڈسٹری کیونکہ جو لاہور میں ہوتا ہے اس کا اثر سارے پاکستان پر پڑتا ہے
ایک زمانہ تھا کہ لاہور کی میکلوڈ روڈ پر دِن کے تین بجے شہر کی آدھی آبادی جمع ہو جایا کرتی تھی۔ ایک سرے پر ریجنٹ سینما تھا جسکے بعد قیصر سینما اس کے مقابل رٹز سینما اور کچھ آگے جا کر پیلس سینما تھا۔ لکشمی چوک کو عبور کر کے سیدھے چلے جائیے تو دائیں ہاتھ کیپیٹل سینما تھااور اس کے سامنے نشاط سینما جس کے ساتھ ہی اوڈین سینما تھا۔ اگر لکشمی چوک سے ریلوے سٹیشن کی طرف چل دیں تو بائیں ہاتھ لاہور کا معروف ترین رتن سینما تھا اور اس کے بعد صنوبر سینما۔

ان میں سے کچھ سینما گھر اب بھی موجود ہیں اور میکلوڈ روڈ پر آج بھی دوپہر سے لے کر شام تک بہت بھیڑ ہوتی ہے لیکن یہ لوگ تین سے چھ یا چھ سے نو بجے تک والا فلم شو دیکھنے نہیں آتے بلکہ ان کی اکثریت ٹکاٹک کا لنچ کرنے، چرغا کھانے ، لسی پینے، فرنیچر خریدنے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے پُرزے حاصل کرنے یا کار کی گدیاں تبدیل کرانے کے لیے آتی ہے۔

میکلوڈ روڈ پر فلم دیکھنے کی خاطر آنے والوں کی تعداد اب بہت کم ہو چکی ہے۔
لاہور کی بیشتر فلم بین آبادی اب نچلے طبقے کے نوجوانوں پر مشتمل ہے جو دِن بھر کی مزدوری کے بعد تین گھنٹے خوابوں کی دنیا میں گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ شہریوں کے اس طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں جوگھر پر فلمیں دیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگرچہ لاہور شہر میں ’ پائریسی‘ کی بدولت اچھی فلم پچیس تیس روپے میں مل جاتی ہے لیکن اسے چلانے کے لیے جو پلیئر چاہئے وہ ہزاروں روپے میں ملتا ہے۔ چنانچہ غریب آدمی کی تفریح آج بھی کسی حد تک سینما گھر ہی ہے۔ اگرچہ محلّوں میں مل جل کر ایک VCR کرائے پر لینے اور رات بھر فلمیں دیکھنے کی روایت بھی کچھ دیر چلی ہے لیکن اب چِین کا بنا ہوا سستا سی ڈی پلیئر مارکیٹ میں آجانے کے بعد مشترکہ فلم بینی کا رجحان بھی ختم ہورہا ہے۔

مزید چند برس کے بعد شاید شہر کے رہے سہے سینما گھر بھی ختم ہو جاتے، تاہم حکومت کی طرف سے یہ قانون نافذ ہونے کے بعد کہ سینما گھر کی عمارت کو کسی اور کام کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، توقع ہے کہ سینماؤں کا خاتمہ اتنی تیزی سے نہیں ہو گا۔

لیکن سینما کلچر کے خاتمے کی تمام تر ذمہ داری کیا ویڈیو اور سی ڈی پر ڈالی جا سکتی ہے؟

یہی سوال ہم نے لاہور کے ایک پرانے فلم ساز خورشید قادری سے کیا تواُن کا جواب تھا کہ سینما کی مقبولیت خود فلم سازوں کے ہاتھوں ختم ہوئی ہے۔ خورشید قادری کے والد فلموں کے نمائش کار تھےاور خورشید جوانی میں ہی فلموں کے کاروبار سے منسلک ہو گئے تھے۔

فلم ساز خورشید قادری
فلم کی مقبولیت کاخاتمہ
 سینما کی مقبولیت خود فلم سازوں کے ہاتھوں ختم ہوئی ہے
فلم ساز خورشید قادری

’ دلاں دے سودے‘ جیسی کامیاب فلم بنانے کے بعد ان کا شمار کامیاب فلم سازوں میں ہونے لگاتھا۔ بشیر نیاز کی تحریر کردہ فلم ’ نوکر تے مالک‘ بھی انتہائی کامیاب رہی۔

فلم ساز خورشید قادری نے نذرالاسلام کی زیرِ ہدائت فلم ’ پلکوں کی چھاؤں میں‘ بھی پروڈیوس کی جس نے کئی بین الاقوامی میلوں میں انعامات حاصل کئے۔ ان کی دیگر کامیاب فلموں میں ’ مہندی لگی میرے ہاتھ‘ اور اداکار رنگیلا کی معروف فلم ’عورت راج‘ بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں سب سے بڑی کاسٹ والی فلم بنانے کا اعزاز بھی خورشید قادری کو حاصل ہے جنھوں نے ’وڈا خان‘ نامی فلم میں سلطان راہی، محمد علی، مصطفٰے قریشی اور یوسف خان کو ایک ساتھ کاسٹ کیا تھا۔

پاکستانی فلموں کے سنہری دور کا مشاہدہ کرنے اور خود اس کا ایک حِصّہ بنے رہنے والے خورشید قادری آجکل ویڈیو ڈرامے اور سیریل تیار کرتے ہیں۔ اشفاق احمد کا آخری ڈرامہ سیریل ’ شالا کوٹ‘ خورشید قادری ہی نے پروڈیوس کیا تھا۔ پاکستانی فلمی صنعت کی تباہی پر ان کا تبصرہ ہے کہ اِس گھر کو خود گھر کے چراغ نے پھونک ڈالا ہے۔ کیونکہ فلم انڈسٹری میں پڑھے لکھے لوگوں کا فقدان تھا اور ان پڑھ فلم ساز محض مکھی پر مکھی مارنا جانتے تھے۔ یعنی وہ ہر کامیاب فلم کی نقل تیار کرنے پر کمر بستہ رہتے تھے، یہ سمجھے بغیر کہ اُس فلم کی کامیابی اسکا اچھوتا موضوع تھا اور جب اسکی نقل پر نقل تیار ہونے لگے گی تو ’اچھوتا پن ‘ کیسے باقی رہے گا۔

لاہور میں فلم سازی کا مرکز اگرچہ ملتان روڈ پر تھا جہان شاہ نور سٹوڈیو، باری سٹوڈیو اور ایورنیوسٹوڈیو ساتھ ساتھ واقع تھے __ اور اب بھی موجود ہیں لیکن فلم کمپنیوں کے دفاتر میکلوڈ روڈ کے علاقے ، رائل پارک میں تھے۔ اس لحاظ سے رائل پارک ہی لاہور کا اصل فلمی مرکز تھا جہاں ہر روز فلمی مصنف اور شاعر بننے کے خواہش مند ادیب، اداکاری کا شوق رکھنے والے نوجوان اور فلموں میں سرمایہ کاری کرنے کی شوقین مال دار ہستیاں وارد ہوتیں۔ ان میں سے جن کے مقدر کا ستارہ چمک اُٹھتا اُن کی اگلی منزل ملتان روڈ کا کوئی فلمی نگار خانہ ہوتا لیکن اُمیدواروں کی اکثریت چند روز میں جیب خالی کر کے اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتی۔

آج رائل پارک کی رونقیں ختم ہو چکی ہیں لیکن اسی محلے کے کنارے پر اپنے دفتر میں کرسی سے ٹیک لگائے ہوئے خورشید قادری ماضی کی یادوں سے نکل کر حال میں آتے ہیں اور مسکرا کر کہتے ہیں کہ رائل پارک مکمل طور پر برباد نہیں ہوا۔ اِس میں پھر سے جی اُٹھنے کی اُمنگ باقی ہے۔ رائل پارک ایک دن انگڑائی لے کر بیدار ہو گا ۔ فلمی دفتروں کی رونقیں لوٹ آئیں گی اور اس محلے کی چہل پہل بحال ہو جائے گی۔ (جاری ہے)

66سنیما کی بد حالی
مالکان کا سنیما گھروں کی بربادی پر احتجاج
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد