’سنیماگھروں کو بچایا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی اور دیگر شہروں میں اکثر سنیما گھروں پر تالے پڑ گۓ ہیں اور فلموں کی نمائش بند ہوگئ ہے۔ یوں تو سنیما گھر گزشتہ کئ عشروں سے مالی بحران کا شکار ھیں لیکن اب تو ایسا لگتا ہے یہ کاروبار آخری ہچکی لے رہا ہے۔ کراچی جہاں سنیما گھروں کی تعداد ایک سو سے زائد تھی آج گھٹ کر بمشکل چالیس رہ گئی ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ کچھ اور سنیما گھر بھی آئندہ دنوں میں قصہ پارینہ بن جائیں گے۔ سنیما کے کاروبار کی سب سے زیادہ بری حالت حیدرآباد میں پیش آئی۔ انیسو اناسی کے آغاز تک حیدرآباد فلم بزنس کے لحاظ سے کراچی اور لا ہور کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا سنیما شہر مشہور تھا ، جہاں فلموں نے ریکارڈ ساز کاروبار کیے- انیسو اناسی میں حیدرآباد میں اکیس سنیما گھر ہوا کرتے تھے۔ گرتے اور گھٹتے کاروبار کے باعث شہر میں سنیما گھر ایک دوسرے کے بعد ختم ہوتے چلے گئے۔ تفریح گاہیں ختم ہو گئیں اور دیگر کاروبار شروع ہو گۓ۔ حیدرآباد میں صرف چھ سنیما گھر با قی رہ گۓ ہیں۔ اندروں سندھ کی صورتحال بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں رہی ہے۔ وہاں بیشتر شہروں میں سنیما کا وجود ہی نہیں رہا۔ سنیما گھروں کو ختم کرنے کا سلسلہ اس قانون کی موجودگی میں ہوا ہے جس کی رو سے کسی بھی سنیما گھر کو ناگزیر وجوہات کی بناء پر کسی اور عمارت میں تبدیل کیا جاۓ تو وہاں منی سنیما گھر تعمیر کرنا لازمی ہے۔ لیکن کسی حکومت نے قانون کی اس کھلی خلاف ورزی پر توجہ نہیں دی۔ ملک بھر کے سنیما گھروں کے باہر لگے بڑے بڑے بورڈ پر صدر مملکت سے یہ اپیل کی گئ ہے کہ وہ سنیما کاروبار کو بچانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔ مالکان نے پوسٹر بھی آویزاں کردیئے ہیں جس میں اپیل کی گئی ہے کہ سنیما بزنس کو دم توڑنے سے بچایا جاۓ۔ اس اپیل میں یہ احتجاج بھی پوشیدہ ہے کہ اگر حکومت نے ان کی اپیل پر توجہ نہ دی تو وہ غیر معینہ مدت کے لیۓ ہڑتال پر بھی جاسکتے ہیں یا اپنے سنیما گھروں کو فروخت کر سکتے ہیں۔ فلم بین پاکستانی فلم دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ وہ ٹی وی پر کیبل یا پھر سی ڈی کے ذریعے بھارتی فلم اور وہ بھی گھر بیٹھے سستے داموں دیکھنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ پاکستانی فلم دیکھنے کے لئے سنیما گھر جا نے سے وہ کتراتے ہیں۔ پھر پاکستانی فلموں میں انہیں جان نظر نہیں آتی ہے- اسی لئے سنیما مالکان کا استدلال ہے کہ بھارتی فلموں کی نمائش کا سلسلہ اگر شروع ہو جاۓ تو سنیما کاروبار چل نکلے گا۔ مالکان کی اکثریت کا اصرار ہے کہ جب پاکستان اور بھارت کے درمیاں تعلقات بہتر سے بہتر ہو رہے ہیں تو پھر بھارتی فلموں کی پاکستان کے سنیما گھروں میں نمائش پر اعتراض کا کیا سبب رہ جاتا ہے۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کے معاملے میں فلم انڈسٹری دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طبقہ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش یا بھارت کے سا تھ مشترکہ فلم سازی کے قطعی طور پر خلاف ہیں۔ دوسرا طبقہ اس پالیسی سے اختلاف رکھتا ہے۔ حکومت کی پالیسی ابھی تک غیر واضح ہے۔ لیکن وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیخ رشید احمد ایک سے زائد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی قیمت پر پاکستان میں بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت نہیں دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||