بھارتی سنیما گھروں کی ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی مغربی ریاست مہاراشٹر کے تقریباّ ایک ہزار سنیما گھر غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ ان سنیماگھروں میں فلمی دنیا کے دارالحکومت ممبئ کے سنیما گھر بھی شامل ہیں۔ سینما گھروں کے مالکان نے تفریحی ٹیکس میں کمی کرنے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ خسارے میں چلنے والے سنیما گھروں میں کوئی دوسرا کاروبار کرنے کی اجازت دئے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ سنیماگھروں کے مالکان کی تنظیم نے ریاستی حکومت پر تنظیم کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس دفعہ تنظیم حکومت سے تحریری یقین دہانی چاہتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت بالی ووڈ میں جمعہ کے روز بہت سے ایک اسکرین والے سنیما گھر بند رہے۔ سنیماگھروں کے مالکان کی تنظیم نے حکومت کی توجہ اپنے مطالبات کی طرف مبذول کرانے کے لئے غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کی درخواست کی تھی۔ پچھلے چھ ماہ میں اس تنظیم کی طرف سے یہ ایسی دوسری درخواست ہے۔
مالکان کی تنظیم کے صدر آر وی ودہانی کے مطابق پچھلے سال بھی انہوں نے حکومت کی جانب سے اپنے مطالبات کی منظوری کے بعد ختم کی تھی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان کے مطابق حکومت نے تنظیم کے مطالبات پر غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت خسارے میں چلنے والے سنیما گھر بند کر کے ان میں کوئی دوسرا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اس وقت ریاست میں سو سے زیادہ خسارے میں چلنے والے سنیما گھر بند پڑے ہیں۔ مسٹر ودہانی کے مطابق حکومت نے ان کے تفریحی ٹیکس میں کمی کرنے کا مطالبہ بھی منظور کر لیا تھا۔ فی الوقت مہاراشٹر کی حکومت ہر ٹکٹ کی فروخت پر پچپن فیصد کی شرح سے تفریحی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ یہ شرح بھارت میں سب سے زیادہ ہے۔ حکومت نے تین ماہ قبل ریاستی اسمبلی میں ایک بل منظور کیا تھا۔ اس کے ذریعے چند مطالبات مان لئے گئے تھے۔ لیکن ابھی تک اس بل کا اجراء نہیں ہوا۔ تاہم ایک سے زیادہ اسکرین والے سنیماگھر اس ہڑتال سے متاثر نہیں ہوئے کیونکہ حکومت کی ایک فراہم کردہ سہولت کے تحت وہ پانچ سال کے لئے تفریحی ٹیکس ادا کرنے سے مبرا ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||