آج کی زندگی میں ٹی وی کا کردار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیلی وژن سے میرا پہلا سابقہ تب پڑا جب میں اپنی دادی سے ملنے مظفر پور گیا۔ ان کے پاس بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا۔1983 میں دلی آنے کے بعد میں نے رنگین ٹی وی دیکھا تھا۔ آج ٹی وی ہماری زندگیوں کا اہم حصہ بن چکا ہے اب اسے اپنی زندگی سے ختم کرنا تو دور کی بات ہے اسے کچھ گھنٹوں کے لئے بند کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔لیکن تفریح ، خبریں، اور علم مہیا کرنے میں ٹی وی کا کردار فلموں ، اخباروں اور کتابوں سے کم ہے کیونکہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جسے پلٹ کر دوبارہ نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس میں ایک بار آنکھوں کے سامنے سے جو گذر گیا وہ کچھ دیر کے لئے دماغ میں ٹکتا ہے لیکن جیسے ہی کوئی دوسرا منظر آنکھوں کے سامنے آیاویسے ہی پرانا عکس دھندلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی وی پر آنے والی بڑی سے بڑی خبر بھی وہ اثر نہیں چھوڑتی جو اخبار چھوڑتا ہے۔’ مجھے لگتا ہے کہ ٹی وی پر آگے بڑھنے کی دوڑ زیادہ ہوتی ہے۔ ٹی وی پر سب سے پہلے خبر پہنچانے کی دوڑ میں ٹی وی کیمرہ صرف خبروں کی اوپری سطح تک ہی رہتا ہے ٹی وی رپورٹر خبروں کی اوپری سطح ہی بتاتے اور دکھاتے رہتے ہیں نہ تو وہ ہمیں خبروں کی گہرائی میں لے جاتے ہیں اور نہ ہی اسکی وجوہات اور اثرات کے بارے میں بتاتے ہیں‘۔ چھوٹی سے چھوٹی خبروں میں بھی لائیو یعنی براہِ راست آنکھوں دیکھا حال دکھانے کی سنسنی تو رہتی ہے لیکن اگلے دن تک اس کا اثر غائب ہو جاتا ہے۔ ’ٹی وی نے ابھی تک کوئی ایسا قابلِ ذکر کوریج نہیں کیا جس سے ہماری سیاسی یا سماجی زندگی متاثر ہوئی ہو‘۔
پہلے تو لکشمی پنڈت کے شادی شدہ ہونے کی بات اٹھی پھر یہ شور اٹھا کہ انہوں نے اپنی عمر غلط لکھوائی ہے یعنی اصل موضوع ہی غائب ہو گیا اس معاملے کا پردہ فاش کیوں نہیں کیا گیا؟ دوسرے لکشمی پنڈت کے تئیں ٹی وی رپوٹروں کا رویہ بھی برا تھا کیونکہ سوال جواب اور پوچھ گچھ میں فرق ہے ٹی وی رپورٹر کئی مرتبہ انٹرویو کرتے کرتے انٹیروگیشن پر اتر آتے ہیں کیا یہ ایک مہذب معاشرے میں مناسب ہے؟ ٹی وی کے کردار اور اس کے اثرات پر مبصرین اور ماہرینِ سماجیات کے درمیان بحث جاری ہے لیکن ’ میرا صرف اتنا ہے کہنا ہے کہ ٹی وی چینل خبروں کی تہہ اور گہرائی میں بھی جانے کی کوشش کریں‘۔ خبروں کو چھو کر صرف سنسنی پھیلانے سے نہ تو اس ذریعے کا بھلا ہوگا اور نہ ہی ناظرین کا۔ ’ ہم فنکاروں کا اکثر ٹی وی والوں سے ملنا ہوتا ہے اور کئی مرتبہ ان کے علم اور تاثرات پر ہنسی آتی ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹی وی پر رپورٹنگ کی حالت نازک ہے جو اس ذریعے کے فروغ کے لئے ٹھیک نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||