غیر کمرشل تھیٹر کی تاریخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ کلچر کا زوال سیاست کے زوال کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور جس معاشرے میں کلچر زوال پذیر ہو وہاں نہ سیاست پنپ سکتی ہے نہ معیشت۔‘ ان خیالات کا اظہار حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکن آئی اے رحمان نے پاکستانی تھیٹر پر شائع ہونے والی ایک کتاب ’اے کرِیٹیکل سٹیج‘ کی تقریبِ رونمائی میں کیا۔ تقریب سے حنا جیلانی، محمد وسیم اور دیگر دانشوروں نے بھی خطاب کیا۔ کتاب کی مصنفہ فوزیہ افضل خان امریکی ریاست نیو جرسی کی ایک یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی استاد ہیں اور دراصل یہ کتاب اُن کی طویل تحقیق کا نچوڑ ہے۔ کتاب میں مصنفہ نے پاکستان میں غیر کمرشل تھیٹر کی تاریخ بیان کی ہے اور بتایاہے کہ اس وقت پاکستان کا ’متوازی تھیٹر‘ کس مقام پر کھڑا ہے۔ انھوں نے اجوکا اور لوک رہس جیسے اداروں کا پس منظر اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں بیان کیا ہے کیونکہ 1970 کی دہائی میں جب پاکستان میں عوامی اسٹیج کی داغ بیل پڑی تو مصنفہ خود ایک نوجوان طالبہ کے طور پر اس میں حصہ لیتی رہی تھیں۔ کنیئرڈ کالج لاہور سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مصنفہ اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ چلی گئیں اور بعد میں وہیں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں۔ لیکن وطنِ مالوف سے ان کا رابطہ کبھی نہیں ٹوٹنے پایا اور پاکستانی تھیٹر پر اپنے تحقیقی کام کے دوران وہ بارہا پاکستان آ چکی ہیں۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان میں ’متبادل تھیٹر‘ پر مرتب ہونی والی اس وقیع دستاویز کو کسی پاکستانی ناشر نے شائع کرنے کی ذمہ داری قبول نہ کی اور نہ ہی ثقافتی سرپرستی کا دعوٰی کرنے والے کسی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے نے اسے اشاعت کے قابل جانا۔ تاہم ہندوستان میں کئی ادارے اسے شائع کرنے کے لئے بے تاب تھے اور بالآخر قرعہ فال دلی کے اشاعتی ادارے ’سی گلز‘ کے نام نکلا۔ انتہائی عمدہ طباعت اور معیاری جلد بندی کے باوجود کتاب کی قیمت انتہائی کم ہے اور یہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں ہے اورضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں اسکی تقسیم کا مناسب انتظام کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||