BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنج پانی تھیٹر میلہ

تھیٹر فائل فوٹو
بھارتی پنجاب سے چار تھیٹر گروپوں کے ساٹھ افراد کا وفد اگلے چھ روز میں آٹھ مختلف ڈرامے پرفارم کرے گا
لاہور میں ایک تھیٹر میلے کا آغاز ہو گیا ہے جس میں پاکستانی اور بھارتی پنجاب کے مختلف تھیٹر گروپ پنجابی زبان میں اپنے اپنے اسٹیج ڈرامے پیش کررہے ہیں۔

اس میلہ کو پنجاب کے پانچ دریاؤں کی نسبت سے پنج پانی تھیٹر فیسٹیول کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایک ہفتہ تک الحمرا کے دو ہالز میں جاری رہے گا اور اس دوران روزانہ تین ڈرامے پرفارم کیے جائیں گے۔

اس میلہ کے روح رواں لاہور کے اجوکا تھیٹر گروپ کے شاہد محمود ندیم نے بتایا کہ دونوں طرف کے پنجاب کے تھیٹر گروپوں کے اس میلہ کو منعقد کرنے کا مقصد پنجاب کے تہذیبی ورثہ کو اجاگر کرنا اور پنجابی تھیٹر کے بیش قیمت اور فعال تھیٹر کو سامنے لانا اور سرحد کے دونوں طرف کے پنجاب کے درمیان رابطہ کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امن اور دونوں طرف کے لوگوں میں ایک دوسرے کی تفہیم پیدا کرنا اس تھیٹر میلے کا مرکزی خیال ہے۔

بھارتی پنجاب سے چار تھیٹر گروپوں کے ساٹھ افراد کا وفد اگلے چھ روز میں آٹھ مختلف ڈرامے پرفارم کرے گا۔ معروف پنجابی ہدایتکار ڈاکٹر نیلم مان سنگھ کا پنجابی ڈرامہ ’سبو ان سپر مارکیٹ‘ بھی اس فیسٹیول کے دوران پیش کیا جائے گا۔ ڈاکٹر نیلم مان سنگھ کو ایسے ہدایتکار کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے تھیٹر میں نئے تجربے کیے۔

اجوکا کے ڈرامہ نگار شاہد محمود ندیم کا کہنا ہے کہ بھارتی پنجاب کے یہ تھیٹر گروپ پاکستانی پنجاب کے تھیٹر گروپوں سے اس اعتبار سے منفرد ہیں کہ انہوں نے پنجاب کی روایات، رسوم اور موسیقی کو جس طرح جدیدیت اور ہم عصر تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے وہ بات ہمارے ہاں نہیں ہوسکی۔

شاہد محمود کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں یا تو تھیٹر فوک تھیٹر بن گیا جیسے میلوں میں ہوتا ہے اور یا بہت کمرشل تھیٹر ہے جسے تھیٹر کہنا مناسب نہیں اور کچھ لوگوں نے تجرباتی اور مقصد پر مبنی ڈرامے کیے جن میں آرٹ کا عنصر کم ہوگیا لیکن بھارتی پنجاب میں حکومت نے جس طرح پنجابی زبان، تاریخ اور آرٹ کی سرپرستی کی اس کی وجہ سے وہاں کے تھیٹر نے خاصی ترقی کی۔

شاہد محمود کا کہنا ہے کہ بھارتی تھیٹر گروپوں کے یہاں پرفارم کرنے سے ہمارے لوگوں کو ایک ایسی ترقی یافتہ شکل کا پنجابی تھیٹر دیکھنے کو ملے گا جو اپنی زمین سے جڑا ہوا بھی ہے۔

اس میلہ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں جموں کا ایک پنجابی تھیٹر گروپ رنگ یوگ بھی اپنا ڈرامہ لے کر پاکستان آیا ہے جو جموں کے کسی تھیٹر گروپ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ اجوکا تھیٹر نے اس سال جنوری میں جموں میں اپنا معروف کھیل ’بلھا‘ پرفارم کیا تھا اور اسے وہاں بہت سراہا گیا۔

یہ تھیٹر فیسٹیول بھارتی اور پاکستانی تھیٹر گروپوں کی مشترکہ تنظیم آپا (ہم)، آل پنجاب پرفارمنگ آرٹسٹس نیٹ ورک، کے تحت منعقد ہورہا ہے جس کی بنیاد گزشتہ سال رکھی گئی تھی اور اس کے تحت لاہور میں عورتوں کے مسائل کے حوالے سے ایک دونوں ملکوں کے تھیٹر گروپوں کا ایک میلہ زنانی کے نام سے منعقد کیا گیا تھا۔

’آپا‘ کے تحت اجوکا اور بھارتی پنجاب کے گروپ منچ رنگ منچ نے مل کر پیرو پریمن کے نام سے ایک کھیل گزشتہ سال مئی میں پیش کیا تھا جس کا موضوع ایک مسلمان صوفی عورت کی سچی کہانی تھی۔ سوراج بیر کے لکھے اس کھیل کے ہدایتکار کیول ڈھالی وال تھے جو اب پھر اپنا ایک کھیل لے کر لاہور آئے ہیں۔

اس میلہ میں لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل کالج آف آرٹس ، مخصوص بچوں کے ایک تھیٹر گروپ روشنی اور بہالپور سرائیکی تھیٹر اور عاشق جٹ اینڈ کمپنی کے ڈرامے بھی دکھائے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد