ممبئی کا پرتھوی تھیٹر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فن کی خدمت کے لیے، ایک خواب کی تعبیر پانے کے لیے آج سے پورے ساٹھ سال قبل بھارتی سنیما کے لجینڈ پرتھوی راج کپور نے 1944 میں ایک چلتی پھرتی تھیٹر کمپنی قائم کی تھی۔ ملک کے طول و عرض میں گھوم گھوم کر ڈرامے پیش کرنے والی اس کمپنی میں ایک سو پچاس افراد شامل تھے جن میں اداکار، مصنف، مزدور، باورچی اور تکنیکی امداد فراہم کرنے والے، سبھی طرح کے لوگ تھے۔ پرتھوی تھیٹر کے مینیجر ایاز انصاری کا دعویٰ ہے کہ ’پرتھوی تھیٹر اپنے نصب العین کے حصول کے لیے اسی لگن اور جذبے کے تحت کام کر رہا ہے جس کے تحت اس کی شروعات ہوئی تھی۔ پرتھوی تھییٹر کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے سنجنا کپور ڈرامے کو مقبول بنانے میں کافی سنجیدہ ہیں۔‘ ایاز انصاری نے مزید کہا کہ ’پرتھوی تھیٹر ہمیشہ سے ہی نئے فنکاروں کی ہمت افزائی کے لیے کام کرتا رہا ہے اور اس سے منسلک اداکاروں نے سینما کی دنیا میں بھی اہم کردار نبھایا ہے۔ بچوں میں تھیٹر کا شعور بیدار کرنے کے لیے پرتھوی تھیٹر ہر سال اپریل سے جون تک ایک ورک شاپ منعقد کرتا ہے۔ نومبر میں ڈرامہ فیسٹیول ہوتا ہے۔ تھیٹر کے لیے یہ موسم مانو موسم بہار ہے۔‘ پرتھوی تھیٹر کو اس کی موجودہ شکل عطا کرنے میں پرتھوی راج کپور کے چھوٹے بیٹے ششی کپور کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے 1974 میں پرتھوی راج کپور کے انتقال کے بعد ان کے نام پر ایک ٹرسٹ کا قیام کیا۔ ششی کپور اور ان کی اہلیہ جینیفر نے پرتھوی راج کپور کے خواب کی تکمیل کے لیے بحیرہ عرب کے کنارے جوہو پر زمین خریدی اور دو سو نشستوں پر مشتمل ایک تھیٹر کی تعمیر کی جو 1978 میں مکمل ہوا۔
ہر سال یہاں چار سو سے زائد شوز دکھائے جاتے ہیں اور اس میں پچاس سے بھی زیادہ تھیٹر گروپ سرگرم ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر روز فلموں میں ہیرو یا ہیروئن بننے کے لیے تقریباً چار سو لڑکے اور لڑکیاں فلم نگری ممبئی کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے گھر سے بھاگ کر آنے والوں کی تعداد نوے فیصد ہوتی ہے۔ کسی فلم اداکار یا اداکارہ سے متاثر ہو کر آنے والے کسی نہ کسی طرح پرتھوی تھیٹر تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ منتھن تھیٹر گروپ کے مالک سنجیو کمار رجت کا بھی یہی خیال ہے۔ ’پرتھوی تھیٹر پر جدوجہد کرنے والوں کی ایک اچھی تعداد جمع رہتی ہے۔ 1993 میں جب میں یہاں آیا تھا اس وقت ایک پلیٹ فارم شو ہوا کرتا تھا۔ کچھ دن صرف دیکھتا رہا۔ ایک دن ہمت کرکے اپنی خواہش کا اظہار کر ہی دیا۔ مجھے ایک دن تنہا پرفارم کرنے کا موقعہ دیا گیا۔ لوگوں کو میری اداکاری پسند آئی۔ پھر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔‘ اپنا علحیدہ گروپ بنانے سے پہلے سنجیو کمار رجت نے پرتھوی تھیٹر پر فعال تھیٹر گروپ ’یاتری‘ اور ’انش‘ کے لیے کام کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ’وہی لوگ یہاں کامیاب ہوتے ہیں جنہیں اس فن کا کچھ علم ہوتا ہے۔ جنہوں نے پہلے سے کام کیا ہوتا ہے۔ سیدھے بھاگ کر آنے والے عموماً یہاں سے نامراد اور خستہ حال ہی لوٹتے ہیں۔‘ کوئی بھی موسم ہو پرتھوی تھیٹر پر اپنا مستقبل بنانے والوں کی ایک بھیڑ ہوتی ہے۔ بیگو سرائے، بہار سے آنے والے بھوپیش سنگھ کامیابی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی ملی جلی کیفیت کا اظہار کچھ اس طرح سے کرتے ہیں، ’پانچ روپے میں چائے مل جاتی ہے، لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور کچھ نہیں تو پانی مفت مل جاتا ہے، کچھ وقت گزر جاتا ہے۔‘ بھوپیش کی کہانی رجت کی کہانی سے زیادہ مختلف نہیں ہے البتہ رجت اب کامیاب ہیں اور بھوپیش پانچ سال بعد بھی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ بھوپیش پرتھوی تھیٹر اس لیے آتے ہیں کہ یہاں سے انہیں حوصلہ ملتا ہے۔ ’کبھی کسی کو کامیاب ہوتا ہوا دیکھ کر کافی حوصلہ ملتا ہے۔ ایک دوسرے کی حالت کا پتہ چلتا ہے۔ روزی روٹی کا واحد ذریعہ اداکاری ہے۔ کوئی کوئی رول ملتا رہتا ہے۔
فیاض حسن کا کہنا ہے کہ ’ پرتھوی تھیٹر ممبئی میں فنکاروں کی ملاقات کی جگہ ہے۔ یہاں سے انڈسٹری کے رخ کا پتہ چلتا ہے۔ یہاں آنے والے سبھی لوگ کامیاب نہیں ہوتے۔ مظفر بھائی ہی کو دیکھیے۔ پندرہ سال پہلے آئے تھے ہیرو بننے اور اب آخر ایک مصنف بن گئے ہیں۔ فلم ’میں مادھوری ڈکشت بننا چاہتی ہوں‘ لکھنے کے بعد ان کے ہاتھ میں اب کام آیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا ’ویسے تو ہر روز چار سے پانچ سو لوگ ممبئی ہیرو، ہیروئن بننے آتے ہیں۔ کچھ جلدی واپس چلے جاتے ہیں۔ کچھ لٹ پٹ کر تھوڑی دیر میں اور کچھ مجھ جیسے بھی ہیں جو اپنی قبر ہی یہاں بنانے پر تلے ہیں۔‘ بہار کے دربھنگہ ضلعے سے تعلق رکھنے والے فیاض حسن چھوٹے موٹے رول بھی کرتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ماس کمیونیکیشن کرنے کے بعد ممبئی آنے والے مراری دویدی سے ملاقات پرتھوی تھیٹر کے باہر ہوئی۔ وہ یہاں کببھی کبھی اپنے دوستوں سے ملنے آتے ہیں۔ ان میں فیاض حسن بھی ایک ہیں۔ وہ ایک کیمرہ مین ہیں اور شروع سے ہی ان کے لیے راہیں ہموار رہی ہیں۔ انہوں نے ’کون بنےگا کروڑ پتی‘، ’کمزور کڑی کون‘ اور ’کھل جا سم سم‘ جیسے مقبول عام ٹی وی سیریل کے لیے کام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’فلم لائن میں یہاں دہلی سے زیادہ کام اور مواقع ہیں۔ شرط یہ ہے کہ انسان اپنا کام جانتا ہو۔ قسمت بڑی چیز ہے مگر جس میں ٹیلینٹ ہے وہ یہاں کامیاب ہوتا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||