انڈس ویلی سٹریٹ تھیٹر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بازار حسن میں روزانہ کئی کہانیاں جنم لیتی اور مٹتی رہتی ہیں مگر وہاں رہنے والیوں کے کیا مسائل ہیں اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔ ہندستان میں فلم ’منڈی‘ سے لیکر ’چنبیلی‘ تک میں انہیں لوگوں کے رویوں کی بات کی گئی ہے مگر پاکستاں میں ایسی فلمیں یا ڈرامے کم ہی بنے ہیں جن میں بازار حُسن اور اس کے باسیوں کی صحیح عکاسی کی گئی ہو۔ انڈس ویلی تھیٹر گروپ نےگزشتہ روز حیدرآباد کے بازار حسن میں ’نیا آغاز‘ کے نام سے اسٹریٹ تھیٹر پیش کیا جس میں ریڈ لائٹ ایریا میں موجود سو سے زیادہ گھروں میں بسنے والی جسم فروش خواتین کے مسائل خاص طور پر جنسی عمل کے ذریعے پھیلنے والےمہلک امراض اور سرکاری ہسپتال و تعلیمی اداروں عدم موجودگی جیسے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ اس تھیٹر میں صحت کے بارے میں لاعلمی اور ناخواندگی کی وجہ سے زائد المیعاد ادویات کھانے کی وجہ سے ایک لڑکی کی موت، زچگی کے وقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے ایک بچے کی موت اور تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ملکیت سے محروم ہونے والی عورتوں کی سچی کہانیاں بھی شامل کی گئیں تھیں-
اس بستی میں اجو نامی ایک لڑکی بھی رہتی تھی جو ایک فریبی شخص کی باتوں میں آکر اپنی ملکیت سے محروم ہو گئی۔ اس شخص نے کہا تھا کہ اس کاغذ پر دستخط کرو-میں تمھیں گھر بنا دوں گا۔ لیکن اجو کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کاغذ اس کو اس گھر سے بھی محروم کردےگا جو اس کے پرکھوں کی ملکیت تھا- اب وہ سوچتی ہے کہ کاش وہ پڑھی لکھی ہوتی تو اپنے گھر سے محروم نہیں ہوتی۔ ناخواندگی کا شکار صرف اجو نہیں اس بستی میں رہنی والی جنت بھی بنی تھی جس نے امرت سمجھ کر دوائی پی تھی مگر اس زائد المیعاد دوائی نے اس کی زندگی کے چراغ کو گل کر دیا۔ اسٹریٹ تھیٹر میں پیش کی گئی یہ کہانیاں اس علاقے کا ہر آدمی جانتا تھا مگر ان مسائل کے اسباب سے ہر کوئی انجان ہے- اس بازار میں جہاں حسن بکتا ہے وہ منشیات کی تمام اقسام بھی فروخت ہوتی ہیں۔ اس تھیٹر میں اس مسئلے کو بھی پیش کیا گیا- جب ایک کردار گڈو یہ کہتا ہے کہ ’میری سانسوں میں رینگتا ہوا یہ منشیات کا دھواں نہیں بلکہ سانپ ہے جو میری زندگی کو ڈس رہا ہے- میں اس بستی کا نوجوان ہوں۔ روزگارسے محروم، عزت و توقیر سے محروم، آخر سرکار ہمیں روزگار کیوں نہیں دیتی؟ کیا ہمارے نصیب میں صرف خود کشی اور خود سوزیاں ہیں؟‘ اس ڈرامہ کے اداکاروں میں اے جی چانڈیو، الطاف سومرو، خالد کلیار،ریحانہ چنڑ، احمد علی مغل، رحمت سولنگی اور کاشف صدیقی شامل ہیں۔ ڈرامے کے مصنف اور ہدایت کار ای جی چانڈیو کا کہنا ہے کہ اس کمیونٹی کے لوگ مہذب لوگوں کی محفلوں میں جاکر رنگین بناتے ہیں- مگر کوئی بھی نے ان لوگوں کو تفریح فراہم کرتا ہے نہ مسائل پر آگاہی و شعور دیتا ہے- ہمارے گروپ نے یہ دونوں کام کرنے کا فیصلہ کیا- ای جی چانڈیو بتاتے ہیں کے فنکاروں کے آگے پرفارم کرنا واقعی مشکل تھا مگر ہماری پرفارمنس کو پسند کیا گیا اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ انہیں لوگوں کی کہانی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||