عمر شریف کا ’ایک قدم‘ سنجیدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تھیٹر کے مزاحیہ اداکار عمر شریف کچھ عرصہ تھیٹر سے دور رہنے کے بعد لاہور میں چھبیس اگست سے پندرہ مختلف تھیٹر ڈرامے لے کر آئے جو چھبیس اگست سے تماثیل ہال میں دکھائے جائیں گے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمر شریف نے کہا کہ یہ پندرہ مختلف ڈرامے مختلف موضوعات پر ہیں جنھیں انھوں نے خود تحریر کیا ہے اور ہر دو روز بعد ایک نیا کھیل پیش کیا جائے گا۔ عمر شریف نے کہا کہ انھوں نے تھیٹر کے فروغ کے لیے ’ایک قدم‘ کے نام سے ایک این جی او بنائی ہے اور اسی نام سے منشیات کے عادی افراد کے بارے میں ایک کھیل بھی پیش کیا جائے گا جو ایسے افراد کے نفسیاتی علاج میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کھیل کی سی ڈیز تیار کرائیں گے اور ملک بھر میں ایسے ہسپتالوں میں تقسیم کریں گے جہاں منشیات کے عادی افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور ان کو یہ کھیل دکھانے کا اہتمام بھی ان کی این جی او کرے گی۔ عمر شریف نے کہا کہ ان کے ڈراموں میں بیہودگی نہیں ہوتی اور وہ اپنے ڈرامہ فیسٹیول میں ثابت کریں گے کہ اچھا ڈرامہ بیہودگی کے بغیر کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگ بیہودگی بھی دکھا رہے ہیں اور ان سے اچھا ڈرامہ بھی نہیں ہورہا۔ اس سے پہلے لاہور پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیہودگی اور رقص کی وجہ سے تھیٹر ڈرامہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہر وہ مکالمہ اور اشارہ بیہودگی کے زمرے میں آتا ہے جسے آپ اپنی ماں اور بہن کے سامنے نہ کرسکتے ہوں اور بیڈروم کی پرائیویسی سب کے سامنے لے آئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||