اجوکا کی جموں میں پذیرائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے ’اجوکا تھیٹر‘ کا تیار کردہ سٹیج پلے ’بلھا‘ جب نمائش کے لئے امرتسر اور جمّوں جا رہا تھا تو کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ وہاں اِس کھیل کو ا تنی ذبردست کامیابی حاصل ہو گی۔ خاص طور پر جموں کے سلسلے میں تو کھیل کا عملہ اور فنکار خود بھی یقین سے نہیں کہ سکتے تھے کہ وہاں کیا صورتِ حال پیش آئے گی۔ تاہم کھیل کی ڈائریکٹر مدیحہ گوہر نے لاہور واپس آنے پر بتایا کہ جّموں یاترا کے بارے میں لوگوں کے تمام خدشات بے بنیاد تھے کیونکہ وہاں اُن کے پنجابی سٹیج پلے ’بلھا‘ کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ یہ کھیل پہلے بھی پاک و ہند کے مختلف شہروں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ کھیل کے مصنف شاہد محمود ندیم نے بتایا کہ بلھے شاہ کا کلام انسان دوستی اور روا داری کا پیغام دیتا ہے اور آج پاکستان میں جس روشن خیالی اور وسیع النظری کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، بلھے شاہ کی شخصیت اِس کی سو فیصد آئینہ دار ہے۔ اس لئے مصنف نے اپنے کھیل کے لئے بلھے کو موضوع بنایا اور اس کردار کے ذریعے انسان دوستی کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد کی۔ یہ کھیل سن دو ہزار ایک میں لکھا گیا تھااُس وقت سرکاری سر پرستی میں چلنے والی آرٹس کونسل نے اسکی نمائش سے معذرت کر لی تھی۔ اس پر اجوکا تھیٹر نے پرائیویٹ طور پر اس کی نمائش کی اور ہر شو کے بعد اس کھیل کی مقبولیت بڑھتی رہی۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں دکھائے جانے کے علاوہ بھارتی پنجاب کے آٹھ شہروں میں بھی اس کی نمائش ہو چکی ہے اور چند روز پہلے امرتسر اور پھر جمّوں میں اسکی نمائش ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||