نادیہ پرویز بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 |  بھانو بھارتی ہندوستانی کی ایک معروف شخصیت ہیں |
تھیٹر یعنی ڈرامہ کی دنیا کی مشہور اور معروف ہستی بھانو بھارتی کا خیال ہے کہ ہندوستان میں تھیٹر کی روایت بہت پہلے ہی ختم ہو چکی ہے اور جو بھی کچھ بچا ہے اس سے ان کی صرف ایک ہی خواہش ہے کہ وہ تھیٹر کےاداکاروں کو ان کا مناسب مقام دلا سکیں اور ان کی روزی کابہتر انتظام کر سکیں۔ دلی میں اپنے نئے ڈرامے " چار ٹانگ کا کویل " کے شو کے دوران بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں بھانو بھارتی نے کہا کہ فلم اور ٹی وی کے مسلسل بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود تھیٹر کا اب بھی اپنا ایک الگ مقام ہے لیکن کم بجٹ اور کم آمدنی کے سبب تھیٹر کی دنیا سے تعلق رکھنے والے اداکاروں کو مجبوراً آمدنی کے دوسرے ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ تھیٹر کے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر بھارتی نے بتایا " ہندوستان میں جدید تھیٹر مختلف یورپی ممالک کے ڈراموں کے ترجمے کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت ان ڈراموں کو انہیں یوریپی روایت میں کھیلا جاتا تھا ۔ دیھرے دھیرے " شیکس پیئر " کے ڈراموں سے متاثر ہوکر " فوک " یعنی علاقائی اور یورپی روایتوں کو ملا کر ایک نیا تھیٹر شروع کیا گیا جسے "پارسی تھیٹر" کہا گیا جو مختلف کمپنیوں کے روپ میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں گھوم گھوم کر ڈرامے کرتی تھیں۔ اس دور نے تھیٹر کی دنیا کو کئی مشہور ہستیاں دیں۔ جس میں اردو زبان کے مشہور ڈرامہ نگار آغا حشر کشمیری اور رادھے شیام جیسے مصنفین شامل تھے جن کے لکھے گئے ڈرامے آج تک کیے جاتے ہیں۔" مسٹر بھارتی نے بتایا کہ اس دور تک ہندوستان میں فلموں نے بھی اپنی جگہ بنانی شروع کر دی تھی اور فلموں نے تھیٹر کے " کمرشل " پہلوؤں پر خاصہ اثر ڈالا لیکن ان سب کے باوجود آزادی کے بعد 1950 اور 1960 کی دہائی میں ٹھیٹر نے ایک بار پھر کروٹ بدلی اور اسی دور میں " نیشنل اسکول آف ڈرامہ" ( این ایس ڈی ) کھلا اور یہاں کے تربیت یافتہ لوگوں نے، جن میں حبیب تنویرجیسے لوگ بھی تھے ، جدید ہندوستانی تھیٹر کو ایک نئی زندگی دی اور اسے دوبارہ بحال کیا۔
 |  بھانو بھارتی نے چندی گڑھ میں ٹیگور کا ناٹک کیا |
لیکن تب تک ٹیلی وژن آ چکا تھا اور اس کے جڑیں گھر گھر میں پھیلنے لگی تھیں جس کے سبب تھیٹر کو ایک بار پھر جھٹکا لگا اور کافی تعداد میں تھیٹر کے اداکاروں نے روزی روٹی کے لیے ٹیلی وژن کا رخ کیا۔ مسٹر بھارتی کہتے ہیں " تھیٹر میں اداکار کا رول سب سے زیادہ مقدم ہے اور آج ان اداکاروں کے لیے اس میں تو آمدنی ہی ہے اور نہ ان کو مناسب مقام حاصل ہو سکا ہے اور اسی بات کا مجھے سب سے زیادہ افسوس ہے۔" اپنے نئے ڈرامے کے بارے میں انہوں نےبتایا کہ چار ٹانگ والا کویل" ایک مزاحیہ ڈرامہ ہے جس میں ایک باپ اپنے بیٹے کی شادی سے پہلے اپنی شادی کرنا چاہتاہے اور کسی طرح ایک ایسی مصیبت میں پھنس جاتا ہے جہاں اسے ایک عورت بننے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ |