| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
رفیع پیر یوتھ تھیٹر فیسٹیول
’بند دروازے‘ نامی ڈرامے کا آغاز شاہ حسین کی معروف کافی’مائیں نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال‘ سے ہوا جس نے حال میں موجود ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ لیکن اس کافی کے درد بھرے بولوں کا طلسم زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا اور جلد ہی ڈرامے کی پیشکش میں موجود کمزوریاں سامنے آنے لگیں۔ ڈرامے کی پیشکش میں پیشہ ورانہ مہارت نظر بھی کیسے آتی۔ یہ توایک پرائیویٹ سکول کی ڈرامہ ٹیم کی پیشکش تھی جس سے وابستہ نوجوان لڑکیوں کی عمریں پندرہ سے سترہ برس کے درمیان تھیں۔ ’بند دروازے‘ ڈرامہ الحمرا کلچرل کمپلیکس قذافی سٹیڈیم میں جاری یوتھ ڈرامہ فیسٹیول کے تحت ہونے والے بیسیوں ڈراموں میں سے ایک تھا۔ نوجوانوں کے ڈراموں کا یہ میلہ سجانے کا سہرا رفیع پیر تھیٹر کے سر ہے جو اس سے پہلے بھی لاہور میں کئی میلے منعقد کر چکے ہیں۔ رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ کے زیر انتظام یہ فیسٹیول چھبیس جنوری تک جاری رہے گا۔ اس فیسٹیول میں بیس کے قریب تعلیمی اداروں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تعلیمی ادارے لاہور کے ہیں جبکہ صوبہ سرحد کی غلام اسحاق خان یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ لاہور کے بڑے اداروں میں پنجاب یونیورسٹی، نیشنل کالج آف آرٹس، انجنیئرنگ یونیورسٹی،گورنمنٹ کالج، ایف سی کالج اور ایچیسن کالج شامل ہیں۔ تعلیمی اداروں کے علاوہ اس میلے میں چند نجی ادارے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں جن میں اسلام آباد سے آئے ہوئے اندو مٹھا کے شاگرد بھی ہیں جو کلاسکل ڈانس کا مظاہرہ کریں گے۔ الحمرا کلچرل کمپلیکس میں جب کسی سکول کالج یا یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات ڈرامہ کرتے ہیں تو چار سو کے لگ بھگ سیٹوں پر مشتمل ہال کچھا کھچ بھر جاتا ہے۔ رفیع پیر تھیٹر نے یہ میلہ چوتھی بار سجایا ہے تاہم اس بار اس کی ایک اہم بات یہ ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پرکھنے کے لیے سٹیج اور ٹی وی کے چند منجھے ہوئے فنکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ان تخلیقات کی جانچ کرے گي اور آخری دن ایک ہزار سے زائد نوجوان فنکاروں کے فن اور ڈراموں میں سے بہترین کا اعلان کیا جائے گا اور انہیں یوتھ ایوارڈ ملے گا۔ بہترین ڈرامے کے علاوہ بہترین اداکار اور اداکارہ بہترین ہدایت کار اور بہترین مکالمہ نگار اور دیگر شعبوں میں بھی ایوارڈز دیئے جائیں گے۔ ججوں کی کمیٹی میں اہم نام عثمان پیرزادہ اور سلمان شاہد ہیں۔ سٹیج اور ٹی وی پر تیس سال کام کرنے کا تجربہ رکھنے والے سلمان شاہد کا کہنا تھا کہ وہ یہ تو نہیں کہیں گے کہ اب تک انہوں نے جو ڈرامے دیکھے وہ سب اچھے تھے تاہم بعض کاوشوں کو کسی حد تک دیگر کے مقابلے کے مقابلے میں بہتر کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنی اعتبار سے قطع نظر یہ ایک بہت خوش آئند بات ہے کہ نوجوانوں میں کچھ کرنے کا شوق اور جذبہ ہے اور وہ اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کا اظہار چاہتے ہیں اور انہیں ایسے پلیٹ فارم کی اشد ضرورت ہے۔ سلمان شاہد نے کہا کہ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ایسے پلیٹ فارم میسر نہیں اور رفیع پیر کی یہ کوشش قابل تحسین ہے۔ اس ڈرامہ فیسٹیول میں انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کو ذریعہ اظہار بنایا گيا ہے۔ کچھ ڈرامے انگریزی میں ہیں تاہم زیادہ تر ڈرامے اردو زبان میں پیش کئے گئے ہیں۔ یوتھ ڈرامہ فیسٹیول میں شریک یہ نوجوان اداکار اور اداکارائیں یہ پلیٹ فارم ملنے پر بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اتنے لوگوں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اداکاری کو بطور پیشہ اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||