بچوں کا کھیل ’بارڈر بارڈر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے الحمرا ہال میں اجوکا تھیٹر اور امرتسر کے سپرنگ فیلڈ سکول کے بچوں نے بارڈر بارڈر نامی سٹیج ڈرامہ پیش کیا۔ بارڈر بارڈر اجوکا کے شاہد ندیم نے لکھا ہے اور اس کی ہدایات امرتسر کی ہریندر سندھو نے دی ہیں۔ کھیل میں واہگہ اور اٹاری بارڈر کے دو نوں جانب بسنے والے دو گھرانوں کے ایک دوسرے کے بارے میں منفی تاثرات کی عکاس کی گئی ہے جبکہ انہی گھرانوں کے بچے اتفاق سے بارڈر پر ملتے ہیں اور ان کی دوستی ہو جاتی ہے۔ کھیل کا آغاز چھٹی کے دن بارڈر کے دونوں جانب بسے گھرانوں کے بچوں کی اس ضد سے ہوتا ہے کہ وہ پکنک منانے بارڈر پر جانا چاہتے ہیں اور ان کے والدین اس پر خاصے شکوک کا اظہار کرتے ہیں کہ نہ جانے بارڈر پر کیا ہو جائے۔ ایک ہی سین میں دونوں ممالک کے بارے میں تین نسلیں اپنے خیالات کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ جن میں تیسری اور پہلی نسل اس بات پر اتفاق کرتی ہے سرحد پار کچھ ایسا ویسا نہیں ہونے والا۔ دونوں گھرانوں میں ایک بات جو شروع سے آخر تک مماثلت رکھتی محسوس کی گئی وہ بچوں اور ان کی دادیوں کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے لیے گنجائش تھی۔ کھیل میں موقع اور محل کے حساب سے کئی گانے بھی ترتیب دیے گئے تھے۔ جنہیں سٹیج کے بائیں جانب بیٹھی بچیوں نے بڑے خوبصورت کورس میں پیش کیا۔ مثلا’ آؤ کھیلں بارڈر بارڈر اک تیرا گھر ایک میرا گھر‘۔ کھیل میں ٹرین اور دوستی بس کے زریعے سرحد پار کرنے والوں کے حالات اور احساسات کو بڑی باریکی سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ایک بات جو بارڈر کو ماضی میں پار کرتے لوگوں نے محسوس کی وہ تھی بارڈر پر دکھائی جانے والی لوٹ مار۔ اس پلے کے سٹیج پر پیش کیے جانے سے قبل الحمرا کے ڈریسنگ رومز میں بھارتی و پاکستانی بچوں کی تیاری اور ان کا جوش دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ڈریسنگ روم میں ہر طرف بچے سموسے کھانے اور اپنا میک اپ کروانے میں مصروف تھے۔ سپرنگ فیلڈ کی ٹیچر مسز کور نے پاکستانی دادی کا کردار نبھاتی منجیت سچدیوا کے سر میں سفیدی کا پف لگاتے ہوئے کہا کہ’ اُن بچوں کو آپس میں گھلنے ملنے میں صرف چند لمحے لگے‘۔ ’ہم نے جب سرحد پار کی اور لاہور میں داخل ہوئے تو خیال تھا کہ ہفتے بھر کے اس دورے میں دو ایک دن تو یہ بچے آپس میں گھلنے ملنے میں لگائیں گے مگر کچھ ہی منٹوں میں یہ پرانے دوستوں کی طرح گھل مل گئے۔ اس ڈرامے کی ہدایت کارہ ہریندر سندھو نےکرداروں کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے ان کے کردار کچھ اس طرح تخلیق کیے تھے کے پاکستانی بچوں نے بھارتی کردار نبھائے اور امرت سر کے بچوں نے پاکستانی کردار۔ پاکستانی دادی کے رول میں ہلکے نیلے رنگ اور سفید دوپٹے میں ملبوس منجیت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہ صرف کردار کو نبھانے میں مزہ آ رہا ہے بلکہ لاہور آنے اور لاہور والوں سے ملنے کا تجربہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ واہگہ بارڈر پر پاکستانی محافظ والی یونیفارم اور کالے قلم سے بنائی گئی نقلی مونچھوں پر تاؤ دیتے امرتسر کے دھروو کا کہنا تھا کہ وہ تو امن کا پیغام لے کر آئے ہیں اور لاہور میں ملنے والے پیار اور محبت نے ان کا دل جیت لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدیں تو نام ہی کی ہیں اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ بارڈر بارڈر میں امرتسر کے گھرانے میں ماں کا کردار ادا کرنے والی لاہور کی حانیہ کا کہنا تھا کہ انہیں بہت مزہ آ رہا ہے اوراس خیال سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ ان کے دوستوں کو واپس بھی جانا ہے۔ کچھ اسی طرح کے تاثرات کا اظہار اسی پلے میں بھارتی گھرانے کے والد کا کردار ادا کرنے والے ایک پاکستانی نوجوان نے بھی کیا۔ سبھی بچوں کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے بڑوں سے انیس سو سینتالیس کے بٹوارے کی کہانیاں اکثر سن رکھی تھیں۔ اور جب اس پلے میں کام کرنے کا موقع ملا تو ہمیں اس کی روح کو سمجھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی۔ ڈرامے کے مصنف تو اس موقع پر شہر سے باہر تھے لیکن ان کی اہلیہ اور اور اجوکا تھیٹر سے منسلک مدیحہ گوہر کے مطابق یہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے جو بچوں کی مدد سے دونوں ممالک کو قریب لانے کے لیے کی گئی ہے اگر ہمارے حکمران چاہیں تو وہ بارڈر کے دونوں جانب بسنے والوں کی خواہشات کا احترام کریں تو ستاون برس کا تناؤ سمیٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسی گروپ نے دلِّی اور امرتسر میں بھی بارڈر بارڈر پیش کیا تھا۔ اور بقول ہریندر سندھو بھارتی بچوں کے مطابق جو پذیرائی انہیں لاہور میں ملی وہ بھارت میں نہیں تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||