ریڈیو پاکستان کی مفصل تاریخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر پروگرامز نہال احمد نے ملک کے اس اہم نشریاتی ادارے کی تاریخ ’اے ہسٹری آف ریڈیو پاکستان‘ کے نام سے لکھی ہے جو اس موضوع پر اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ کراچی میں مقیم نہال احمد نے نومبر انیس سو اکیاون میں ریڈیو پاکستان میں ملازمت شروع کی اور انیس سو ستاسی میں وہ اس کے ڈائریکٹر پروگرامز بنے اور انیس سو بانوے میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ تین سو چودہ صفحات پر مشتمل کی اس دلچسپ کتاب میں ریڈیو پاکستان کے آغاز سے اس دارہ کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ مصنف نے ریڈیو پاکستان کے مختلف گوشوں پر جامعیت اور تفصیل سے لکھا ہے۔ کتاب کے اکیس ابواب میں پروگرامنگ، انجینئرنگ، خبریں اور حالات حاضرہ کی کوریج اور انتظامیہ اور مالی امور کا تذکرہ شامل ہے۔ نہال احمد کے مطابق چودہ اگست انیس سو سینتالیس کی شب گیارہ بجے لاہور ریڈیو سے آل انڈیا ریڈیو کی نشریات اختتام پذیر ہوئیں اور بارہ بجے پہلے انگریزی میں ظہور آذر نے اور بعد میں اردو میں مصطفے ہمدانی نے ریڈیو پاکستان کا پہلا اعلان نشر کیا۔ پہلا پروگرام تھا طلوع صبح آزادی جس میں علامہ اقبال کا ملی ترانہ ’مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا‘ شامل تھا۔ اسی نصف شب سے پشاور ریڈیو اور ڈھاکہ ریڈیو نے بھی آل انڈیا ریڈیو کے بجائے ریڈیو پاکستان کے نام سے کام شروع کردیا۔ پاکستان کے اس وقت کے دارلحکومت کراچی میں اس وقت کوئی ریڈیو اسٹیشن نہیں تھا۔ ریڈیو پاکستان نے پہلے پروگرام کے بعد احمد ندیم قاسمی کے لکھے ہوئے دو ملی نغمے نشر کیے گئے جن کی موسیقی ایس ایس نیازی نے ترتیب دی تھی۔ ایک گانے کے بول تھے۔ ’پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو۔‘ ریڈیو پاکستان کی ابتدائی تاریخ کے تذکرہ کے علاوہ کتاب کا ایک خاصا دلچسپ باب وہ ہے جس میں مصنف نے پاکستان میں ریڈیو کے ادارہ کے مستقبل پر بحث کی ہے۔ مصنف کا دعوی ہے کہ پاکستان میں ریڈیو وہ کردار ادا کرتا ہے جو کوئی اور میڈیم ادا نہیں کرسکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریڈیو ملک کی قومی زبان کے ساتھ ساتھ بیس مختلف زبانوں اور لہجوں میں جو پروگرام پیش کرتا ہے اس سے اس کی رسائی آبادی کے ایک بہت بڑے طبقہ تک ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی جگہ بجلی کا ہونا یا نہ ہونا ریڈیو کی نشریات سننے پر اثر انداز نہیں ہوتا اور پاکستان میں ستر فیصد آبادی گاؤں میں رہتی ہے جن میں سے صرف پینتیس فیصد کے پاس بجلی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب تک ملک میں ریڈیو کے میڈیم سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ مصنف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جب بھی ملک میں کوئی نیا حکمران اقتدار سنبھالتا ہے تو وہ اپنے جواز کے لیے ریڈیو پاکستان کو استعمال کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کا کنٹرول سنبھالتا ہے اور اس وجہ سے ریڈیو پاکستان کو سیاسی دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مصنف کے خیال میں ریڈیو کو کیبل، سیٹلائٹ ٹی وی، انٹرنیٹ اور نجی ریڈیو اسٹیشنز کے قیام سے بھی چیلنج کا سامنا ہے۔ مصنف نے تجویز پیش کی ہے کہ ریڈیو پاکستان کو ایک سے زیادہ چینلز شروع کرکے نئے چیلنجز کا سامنا کرسکتا ہے تاکہ اس کے سننے والے کھیل، موسیقی، خبریں اور مذہبی پروگرام الگ الگ چینلز پر سُن سکیں۔ نہال احمد کہتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان کے مختلف اسٹیشنز کو میڈیم ویوز میں دو دو چینلز شروع کرنے چاہئیں اور ساتھ ساتھ ایف ایم چینل بھی شروع کرنا چاہیے۔ نہال احمد کا کہنا ہے کہ ریڈیو پاکستان نئی ٹیکنا لوجی کے استعمال میں خاصا پسماندہ ہے اور اس کا زور اے ایم براڈکاسٹنگ پر رہا جبکہ دنیا میں ایف ایم مقبول ہورہا تھا اور اب ڈیجیٹل آڈیو براڈکاسٹنگ (ڈیب) کا چند ملکو ں میں کامیاب تجربہ ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریڈیو پاکستان کو اب ایف ایم پر جانے کے بجائے براہ راست ڈیجیٹل براڈکاسٹنگ پر جانا چاہیے۔ یہ کتاب ادب اور کلچر کی ترویج خصوصی طور پر ریڈیائی ڈرامہ اور کلاسیکی اور مقبول موسیقی کے فروغ، ملک کی مقامی تہذیبوں، زبانوں اور رسوم ورواج کو سامنے لانے میں ریڈیو پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کتاب میں ریڈیو پاکستان کی تصویر پاکستانی معاشرہ میں ایک رجحان ساز ادارہ کے طور پر پیش کی گئی ہے جس نے خصوصی طور پر دیہی علاقوں میں تعلیم اور خواندگی کی مہموں کو پھیلانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ آخر میں ایک اشاریہ، اعداد وشمار اہم نشریاتی واقعات کا ایک تاریخ نامہ دیا گیا ہے جس سے اس کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||